Home / تجزیہ ۔ قومی / سماجی خدمت: جذبہ اور سمجھ داری دونوں ضروری

سماجی خدمت: جذبہ اور سمجھ داری دونوں ضروری

میں اپنے دو بھائیوں کے ساتھ صبح کار سے نکلا، بڑے شہروں کی سڑکیں صبح سے ہی مصروف ہوجاتی ہیں، ایک جگہ سڑک پر بھیڑ نظر آئی، گاڑی روک کر دیکھا تو اسکول کے یونیفارم میں دو چھوٹی بچیاں زخمی حالت میں زمین پر پڑی چیخ رہی تھیں، عمر یہی سات آٹھ سال رہی ہوگی، ایک کا پاؤں گھٹنے کے اوپر سے ٹوٹ کر لٹک گیا تھا، اور دوسری کے سر میں گہرا زخم تھا۔ یہ دونوں بچیاں اسکول جاتے ہوئے سڑک کراس کررہی تھیں، اور ایک موٹر سائیکل سے ٹکراگئی تھیں، موٹر سائیکل سوار ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جو اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ تھا، اس کی بیوی کو بھی پیر میں کچھ چوٹ آئی تھی۔ بھیڑ اچھی خاصی تھی، مگر سب تماشائی تھے، دیکھا گیا ہے کہ ایسے موقعوں پر بھیڑ کا رجحان زخمیوں کی مدد کی طرف کم اور ٹکر مارنے والے کی مرمت کرنے کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔
ہم نے بچیوں کو گود میں اٹھاکر کار میں ڈالا اور میرے دونوں بھائی انہیں لے کر ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوئے۔ دو بچے اور تھے جن کو چوٹ نہیں آئی تھی، میں ان کے ساتھ بھاگا ہوا ان کے گھر گیا، گھر کیا تھا ایک خستہ حال چھوٹا سا کمرہ جس میں کئی خاندان رہ رہے تھے، معلوم ہوا دونوں بچیوں کی ماں بیوہ ہے، اس کے چھوٹے چھوٹے چھ بچے ہیں جو ایک سال پہلے باپ کے مرجانے کے بعد سے یتیمی کی زندگی جی رہے ہیں، ماں گھروں میں کام کرتی ہے اور بچے ایک رفاہی اسکول میں پڑھتے ہیں، بڑا بچہ بارہ سال کا ہے اور وہ بھی چند روز پہلے ایک بڑے حادثے کا شکار ہوکر زیر علاج ہے۔ غرض یہ کہ غربت اور بے چارگی کا وہ عالم کہ بیان کرنا مشکل ہے۔
موٹر سائیکل سوار شہر سے قریب ایک گاؤں کا تھا، اس سے ہم نے مطالبہ کیا کہ وہ ساتھ چلے اور بچیوں کے علاج کی اپنی اخلاقی ذمہ داری ادا کرے، وہ اس پر راضی ہوا کہ وہ اپنی بیوی کو جسے پاؤں میں چوٹ آئی تھی مگر اسپتال جانے کو تیار نہیں تھی، گاؤں پہونچاکر اور بچیوں کے علاج کے لیے رقم کا انتظام کرکے تھوڑی دیر میں آئے گا، اور اس دوران اس کا بچہ ہمارے ساتھ رہے گا۔
میں نے اس بچے کو اور زخمی بچیوں کے گھر والوں کو ساتھ لیا اور ہاسپٹل پہونچ گیا۔ بچے سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کے باپ آٹو رکشا چلاتے ہیں، اور معاشی حالات اچھے نہیں ہیں۔ اس پر ہم نے طے کیا کہ اخراجات کا بوجھ اس پر نہیں ڈالیں گے، ہم نے لڑکے کے باپ کو فون کیا کہ وہ رقم کے انتظام کی فکر نہ کرے اور ہاسپٹل آکر اپنے بچے کو لے جائے۔ اس دوران ہاسپٹل میں قانونی کارروائی کے لیے پولیس آگئی اور موٹر سائیکل سوار کے بارے میں دریافت کرنے لگی، ہم نے سوچا اس غریب کے ساتھ پولیس والے زیادتی کریں گے اس لیے خاموشی کو اختیار کیا، پولیس کانسٹیبل نے زخمی بچیوں کے ساتھ بہت ہمدردی کا اظہار کیا اور اپنی جیب سے پانچ سو روپے نکال کر ان کی ماں کو دے دیے، اور ہاسپٹل والوں کو بھی رعایت کی تاکید کی، ہم سب اس کے جذبہ انسانیت سے بہت متأثر تھے۔
بچے کو ہم نے ہاسپٹل کی کینٹین میں اچھا سا ناشتہ کرایا، اور وہیں استقبالیہ کے پاس بٹھادیا۔
جس بچی کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، اسے آپریشن کے لیے ایڈمٹ کرلیا گیا، صبح سے دوپہر تک ہم سب ہاسپٹل میں رہے اور تمام کارروائی مکمل ہوجانے کے بعد بچے کو ہاسپٹل میں بٹھاکرآرام کرنے گھر چلے آئے، دوبجے بچے کے باپ کا فون آیا کہ وہ ہاسپٹل پہونچ گیا ہے، ہم لوگ ہاسپٹل پہونچے، اور وہاں پہونچتے ہی ایک نئی صورتحال کا سامنا کیا، بچے کے باپ کے ساتھ تین غنڈے ٹائپ نوجوان تھے، ان سب نے ہمیں گھیر لیا اور کہا کہ ہمیں ہمارا بچہ نہیں ملا ہے، وہ ہاسپٹل میں نہیں ہے، اور اس کی ذمہ داری تمہارے اوپر ہے۔ ہمارے تو پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی، ہم نے پورا ہاسپٹل چھان مارا لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں تھا، اس وقت مجھے اپنی دو شدید غلطیوں کا فوراََ احساس ہوا، ایک تو یہ کہ ہمیں اس بچے کو اپنے پاس روکنا نہیں چاہئے تھا، اور دوسرے یہ کہ جب روک لیا تھا، تو اپنے ساتھ ہی رکھنا چاہئے تھا، تنہا ہاسپٹل میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہئے تھا۔ پولیس کو معاملہ سے فوری طور پر اور پوری طرح باخبر نہیں کرنا بھی ایک بڑی غلطی قرار دی جاسکتی ہے، لیکن پولیس کی زیادتیوں کا عوام میں اتنا زیادہ چرچا ہے اور اس قدر ذہنوں میں اس کا خوف ہے کہ اس غلطی کے لیے وجہ جواز مل جاتی ہے۔
خیر اللہ کی نصرت اور مدد رہی کہ تقریبا دوگھنٹے کی شدید ذہنی اذیت کے بعد اس مصیبت سے نکلنے کی راہ مل گئی، اور وہ لوگ یہ کہہ کر چلے گئے کہ بچہ خود سے گھر پہونچ گیا ہوگا، اور کچھ دیر بعد اس کے گھر پہونچنے کی انہوں نے خبر بھی دے دی۔ تاہم قرائن صاف بتارہے تھے کہ یہ انہیں لوگوں کی سازش تھی، اور وہ اس طرح ہمیں تنگ کرنا چاہتے تھے، میں سوچ رہا تھا، کہ ہم نے بچے کے باپ کو ہاسپٹل کے اخراجات سے بچایا، پولیس کے چکر میں پھنسنے سے بچایا، اور اس سے پہلے حادثے کے وقت مشتعل بھیڑ کے عتاب سے بچایا، پھر اس نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ ممکن ہے اسے ہمارے سلسلے میں کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو، اور وہ ہمیں سبق سکھانا چاہتا ہو۔
تاہم واقعات سے بھرپور ایک پورا دن گزارنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہونچا کہ سماجی خدمت کے لیے سچا جذبہ درکار ہوتا ہے کہ اس کے بنا انسان خدمت سے جڑے خطرات مول نہیں لے سکتا، زبردست استقامت بھی ضروری ہوتی ہے کہ غیر متوقع رویے اور صدمے اس کے جذبہ خدمت کو سرد نہ کردیں، اور بہت زیادہ احتیاط اور سمجھ داری بھی مطلوب ہوتی ہے کہ انسانوں کی نفسیات اور حالات کی نزاکتیں مختلف اور بے شمار ہوتی ہیں، اور ان کو سمجھنے میں ذرا سی کوتاہی بڑی پریشانیوں کا باعث بنتی ہے۔ یہ پختہ شعور بھی ضروری ہے کہ انسانی سماج کا عام کیریکٹر کس قدر گر چکا ہے، اور اس گراوٹ کے باوجود انسانوں کے ساتھ نیکی کے سفر کو جاری رکھنا ہے، اور پھر اللہ سے تعلق اور استعانت تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ انسانوں کی مدد کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور غیب سے ان کی مدد کرتا ہے، اور درحقیقت وہی کارساز ہے۔

ڈاکٹر محی الدین غازی

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*