Home / بزم رفیق / روہنگیامسلمانوں کا مسئلہ اور مسلمانوں کی ذمہ داری
Click Here to Read More

روہنگیامسلمانوں کا مسئلہ اور مسلمانوں کی ذمہ داری

محمدفراز احمد ۔ نظام آباد

(رفیق منزل ،اکتوبر 2017)

روہنگیائی مسلمانوں پر جوظلم وبربریت کے پہاڑتوڑے جارہے ہیں اسے دیکھ کر ہر غیرتمند کا دل تڑپ رہاہے، اور ہر کوئی اپنی اپنی طرف سے امداد پہنچانے کی کوشش میں ہے اور یہی کیفیت امت مسلمہ کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ نام نہاد مسلم ممالک کوچھوڑ کر عام مسلمانوں کی بات کی جائے تو یہ کہنا بھی بے جانہ ہوگا کہ یہ وہی کیفیت ہے جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ امت مسلمہ ایک جسدواحد ہے اور اس کے ایک حصہ کو تکلیف پہنچے گی تو سارا جسم اس کا اثر لے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ روہنگیائی مسلمان ہیں کون اور ان پر اتنے مظالم کیوں ہورہے ہیں۔ ویسے تو دنیا کا کوئی ایسا مقام نہیں جہاں مسلمانوں کا خون نہ بہہ رہاہو،سمجھ میں نہیں آتا کہ بات کہاں سے شروع کی جائے اس لئے کہ سارا جسم چھلنی ہے زخمی ہے اور دردبے چارہ پریشان ہے کہ کہاں سے اُٹھے۔لیکن موضوع برما کے مسلمانوںپر ہے ،اسی لئے صرف ان کے حالات پرہی بات کریں گے۔

میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں. ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ میانمار میں نسلوں سے رہ رہے ہیں۔ریاست رخائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے. اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔انھیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. لاکھوں کی تعداد میں بغیر دستاویزات والے روہنگیا بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے۔

میانمار میں روہنگیا افراد کو ایک نسلی گروپ کے طور پر تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ برما کی فوجی حکومت نے 1982 کے سیٹزن شپ قانون کے تحت روہنگیا نسل کے مسلمان اور برما میں موجود دوسرے 10 لاکھ چینی و بنگالی مسلمانوں کو شہری ماننے سے انکار کر دیا اور ان مسلمانوں کو اپنے علاقوں سے باہر جانے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا۔ 1982 کے اس قانون کے تحت میانمار کی شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی نسلی گروپ کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ 1823 سے قبل بھی میانمار میں ہی تھا۔ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں میں اکثریت برصغیر کی مشرقی ریاستوں اور بنگالیوں پر مشتمل ان مسلمانوں کی ہے جو جنگ آزادی 1857 کے بعد گرفتاریوں سے بچنے کے لیے میانمار چلے گئے تھے۔ بہت سے وہ ہیں جو بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی میں ساتھ تھے یا بعد میں بادشاہ کی محبت میں خود سے رنگون چلے گئے۔

میانمار غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جو محض مذہبی عناد کی وجہ سے اپنے شہریوں کو شہری تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ برمی بودھوؤں کا خیال ہے کہ چونکہ مسلمان یہاں غیر قانونی طور پر ہجرت کرکے آئے اس وجہ سے انہیں خود کو ملک کا شہری کہنے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس لیے بار بار مسلمانوں کے خلاف میدان سجایا جاتا ہے تا کہ مسلمان یہاں سے واپس ہجرت کرکے اپنے ملکوں میں چلے جائیں۔

 

 

گذشتہ کئی ہفتوں سے ذرائع ابلاغ پر جو تصاویر گشت کررہی ہیں اس سے محسوس ہوتاہے کہ بدھ مذہب جو کہ ایک چیونٹی کو مارنے کی بھی اجازت نہیں دیتا

 

 اس کے پیروکار کتنے حیوان ہوچکے ہیں۔ ’’وارتھو‘‘نامی بدھسٹ راہب جسے اس قتل عام کاماسٹر مائینڈکہاجاسکتاہے وہ بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرتا رہتاہے۔امریکہ کی ایک مشہور میگزین ’’ٹائم‘‘نے برما کے اس سب سے بڑے دہشت گرد کو بے نقاب کیا اور اس کی تصویر اپنے سرورق پر شائع کی۔ وارتھو اپنی تقریروں میں اس بات پر زور دیتاہے کہ برما سے تمام مسلمانوں کو نکال دیاجاناچاہئے، اس کا ماننا ہے کہ برما میں صرف بدھسٹ فرقے کے لوگوں کو رہنے کا حق ہے ۔

روہنگیا کے مسلمانوں پر ظلم کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ جس مقام پر رہتے ہیں وہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے ۔’’راکھین‘‘ کاعلاقہ دنیا کا سب سے بہترین ساگوان فراہم کرتاہے۔ اس کے علاوہ گیس اور پٹرول کے ذخائر کثیر تعدادمیں موجود ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان اور چین نے محض کھدوائی کی اجازت کیلئے 10ارب ڈالر کی برما کو پیشکش کی ہے۔ برما کے ساحل کی مچھلیاں انتہائی لذیذہوتی ہیں جس کی فروخت سے معاشی حالت کو مستحکم کیاجاسکتاہے۔ اتنے سارے قدرتی وسائل ہونے کے بعد اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یہ ظلم وستم کی وجہ کیاہے۔

گذشتہ کئی دنوں سے واقعات کو دیکھ کر مسلمانوں میں ایک مایوسی اور خوف کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ ملک ہندوستان میں بھی آئے دن پیش آنے والے انسانیت سوز اور مسلم دشمن واقعات نے مسلمانوں کومایوسی کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ لیکن مسلمانوں کو چاہئے وہ ان حالات میں صبروسکون سے رہیں اور خدا کے وعدوں پر اعتماد کریں ۔

قرآن مجید میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ’’اورہم تمہیں ضرورخوف و خطر ،فاقہ کشی ،جان ومال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے ،ان حالات میں جولوگ صبر کریں اورجب کوئی مصیبت پڑے توکہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیںاوراللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے انہیں خوشخبری دے دو،ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اورایسے ہی لوگ راست روہیں۔‘‘ (سورۃ البقرہ ۱۵۵)

یہ مصیبتیں اور مظالم انبیاء علیہ السلام پر بھی آئے ہیں۔صحابہ کرام اور باطل کے خلاف صدابلند کرنے والوں پر بھی آئے ہیں لیکن ان تمام نے صبر سے کام لیا اور دین اسلام پر قائم رہے جس کی بناء پر اللہ نے انہیں انعامات واکرامات سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف اہل ایمان کی مددونصرت کرے گا بلکہ ان مشکل حالات میں بھی غلبہ اسلام کی ڈھارس باندھتا ہے ۔مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے نبی ؐ کواور امت مسلمہ کو اس بات سے آشناکیا کہ اللہ کانورغالب آکر رہے گا۔ ایک مقام پر اللہ فرماتے ہیں:’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کئے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘(سورۃ التوبہ:۳۲۔۳۳)

قرآن مجید ایک مقام پر فرعون کے واقعہ کے ذریعہ سے یہ پیغام دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مظلوموں کو بے سہارا نہیں چھوڑتاہے بلکہ وہ ان کی نصرت کرتاہے حتیٰ کہ انہیں اقتدار بھی بخشتا ہے ۔’’ اور ہم نے تم سے پہلے کے رسولوں کوان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے ۔پھر جنہوںنے جرم کیا ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں ۔‘‘ (سورۃ الروم:۴۷)
’’پھر جب ایسا وقت آتا ہے توہم اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو بچالیاکرتے ہیںجوایمان لائے ہوں۔ہمارا یہی طریقہ ہے ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچالیں ۔‘‘(سورۃ الیونس :۱۰۳)
’’یقینا اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں یقینا اللہ کسی خائن کافرنعمت کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(سورۃ الحج :۳۸)
’’جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی ومددگاراللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتاہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیںان کے حامی ومددگارطاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنیوں سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں،یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے ۔‘‘ (سورۃ البقرہ ۲۵۷)

اسی لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے جذبات کو قابومیں رکھتے ہوئے مشتعل نہ ہوں اور ایمان پر استقامت کے ساتھ قائم رہیں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں ۔ بقول عربی شاعر ؎
ائے مصیبت! تو جتنا چاہے سخت ہوجا تجھے بہر حال دور ہونا ہے
تیری رات کی تاریکی نے سپیدہ ٔ سحر کی آمد کی نوید سنادی ہے

Click Here to Read More

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

ڈاکٹر عبدالکلام: سچی لگن کا مثالی نمونہ

محمدعامرخان ۔ نظام آباد۔تلنگانہ یہ زندگی کی سچائی ہے کہ یہاں وہی ...