بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / روزہ کی حقیقت؟

روزہ کی حقیقت؟

رمضان المبارک کی فضیلت بے حساب ہے۔ اس کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرمؐ شعبان کے مہینے سے ہی اس کے استقبال کی تیار یوں کا آغاز فرما دیتے تھے، آپؐ کے شب ور وز کے معمو لات میں تبدیلی واقع ہو جاتی تھی، اور آپ صحابہ کرامؓ کو بھی اس جانب متوجہ کرتے تھے۔ ترمذی کی ایک روایت کے مطابق ’’ آپؐ فرمایا کرتے کہ رمضان کے لئے تاریخ کا حساب شعبان سے کرو’’ مزید برآں آپؐ نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی مما نعت فرماتے تھے( ابو داؤد) اس فرمان کی حکمت یہ تھی کہ رمضان المبارک کے فرض روزوں کی ادائیگی میں جسمانی لحاظ سے مکمل نشاط قائم رہے اور کمزوری لاحق نہ ہو کہ فرض روزوں پر اس کا اثر پڑجائے۔
اس کے علاوہ ایک سال آپؐ نے شعبان کی آخری شب میں صحابہؓ کے مجمع سے خطاب فرماتے ہوئے رمضان المبارک کے فیوض وبرکات اور اس کی فضیلت واہمیت پر بے حد قیمتی خطاب فرمایا۔ اس خطبہ میں آپؐ نے جو کچھ ارشاد فرمایا وہ اہل ایمان کے لیے اس ماہ مبارک کے فیضان سے بہرہ مند ہونے اور اس کے ایک ایک لمحہ سے مستفید ہونے کی جانب متوجہ کرتا ہے، اور ہمہ تن وہمہ گوش خالق کائنات کی رضا وخوشنودی کا سراپا طالب بنادیتا ہے۔
یہ حدیث پاک رمضان المبارک کے ہرپہلو کو محیط ہے۔ رمضان المبارک کے فضائل کے باب میں یہ روایت کافی اہم ہے۔ مؤمنین کے لیے یہ مکمل لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔ آپؐ نے اس خطبہ میں جو باتیں ارشاد فرمائیں وہ اس طرح ہیں:
*رمضان المبارک بڑی عظمت وبرکت والا مہینہ ہے۔
*اس کی ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی(نفل) عبادت سے بہتر ہے۔
*اس ماہ میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستر فرائض کے برابر کردیا جاتا ہے۔
* یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا صلہ جنت ہے۔
*اس ماہ کی راتوں کے قیام کو قرب الٰہی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
*اس ماہ میں اہل ایمان کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
کسی روزے دار کو افطار کرانا جہنم سے نجات کا ذریعہ بنے گا۔
* جس نے کسی روزے دار کو پیٹ بھر کھانا کھلایا اسے حوض کوثر سے ایسا سیراب کیا جائے گا کہ اسے کبھی پیاس محسوس نہ ہوگی، حتی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔
* یہ وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت۔ درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے نجات ہے۔
*جو شخص اس ماہ میں اپنے نوکروں، غلاموں اور ملازموں کے کاموں میں تخفیف کرے گا وہ مغفرت کا مستحق ہوگا اور اسے جہنم کی آگ سے نجات ملے گی۔
اس کے علاوہ بھی متعدد احادیث میں رمضان کی بے انتہا فضیلت بیان ہوئی ہے۔مسند احمد اور سنن نسائی کی ایک روایت میں آپؐ نے ارشاد فرمایا’’ تمہارے اوپر رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس مہینے کے روزے فرض فرمائے ہیں۔ اس ماہ میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اور سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے اس ماہ میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اور جو اس شب قدر کی بھلائیوں سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم کردیا گیا‘‘۔
آئندہ سطور میں روزہ، رمضان المبارک، رمضان کے روزوں کی اس بے انتہا فضیلت کے اسباب وغیرہ امور پر گفتگو کی جائے گی:
روزہ
عربی زبان میں روزہ کے لیے’ صوم‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی رکنے اور چپ رہنے کے ہیں۔ قرآن کریم میں حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق ارشاد ہے کہ انہوں نے کہا’’ میں نے رحمن کے لئے چپ رہنے کی نذر مانی ہے، لہٰذا آج میں کسی سے ہرگز بات نہیں کروں گی‘‘(سورہ مریم) روزہ کو صبر سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ جسکے معنی ضبط نفس کے ہیں۔ سید سلیمان ندویؒ نے لفظ صوم کے مختلف معنی بیان کرتے ہوئے درج ذیل الفاظ میں اس کا مفہوم بیان کیا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ ’’روزہ درحقیقت نفسانی ہواوہوس اور بہیمی خواہشوں سے اپنے آپ کو روکنے اور حرص وہوا کے ڈگمگا دینے والے موقعوں پر اپنے آپ کو ثابت قدم رکھنے کا نام ہے، روزانہ استعمال میں عام طور سے نفسانی خواہشوں اور انسانی حرص وہوا کا مظہر تین چیزیں ہیں، یعنی کھانا اور پینا اور عورت ومرد کے جنسی تعلقات، ان ہی سے ایک مدت معینہ تک رکے رہنے کا نام شرعاً روزہ ہے، لیکن دراصل ان ظاہری خواہشوں کے ساتھ باطنی خواہشوں اور برائیوں سے دل اور زبان کا محفوظ رکھنا بھی خواص کے نزدیک روزہ کی حقیقت میں داخل ہے۔‘‘
روزہ کا مقصد:
اسلام نے جن عبادات کو فرض قرار دیا ہے ان کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی رضا وخوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہے اور مقصود بالذات ہے۔ تاہم شریعت کا کوئی حکم بھی خواہ وہ عبادات کی قبیل سے ہو یا معاملات واخلاقیات کی قبیل سے، اس کی کچھ حکمتیں بھی ہوتی ہیں۔ گوکہ ظاہربیں نگاہیں ان حکمتوں تک رسائی نہیں حاصل کرپاتیں۔ تاہم علی وجہ البصیرہ کسی حکم کی تابعداری کی شان ہی یہی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ روزہ جو اسلام کا اہم ترین رکن ہے اور سابقہ شریعتوں میں بھی فرض تھا، نیز دیگر مذاہب عالم میں بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اس کو فرض کیوں قرار دیا گیا؟
انسان اور ملائکہ میں جو چیز وجہ امتیاز ہے وہ یہ کہ انسان مختلف قسم کی ضروریات کا محتاج ہے۔ ضروریات کی اس لمبی فہرست میں اس کی سب سے بڑی ضرورت کھانا پینا ہے، جس کے بغیر اس کی زندگی کی بقا ممکن نہیں۔ زندگی کی بقا کے لئے انسان کی اس قدر اہم ضرورت کو محدود کرنے کی حکمت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سید سلیمان ندویؒ اپنے مخصوص محققانہ انداز میں فرماتے ہیں:
’’ دنیا کے تمام مذاہب میں مادیت کی کثافتوں سے بری اور پاک ہونے کے لئے اکل وشرب سے ایک حدتک امتناع وپر ہیز سب سے پہلی شرط رکھی گئی۔ جس سے اصلی مقصود یہ ہے کہ انسان رفتہ رفتہ اپنی ضرورتوں کا دائرہ کم کردے اور آخر یہ کہ قوت وغذا کی طلب وحرص سے بے نیازی کے لئے متواتر کوششیں جاری رکھے کہ انسانوں کے لئے تمام گناہ اور جرائم صرف اسی ایک قوت کے نتائج مابعد ہیں۔۔۔ لیکن جب تک انسان انسان ہے اس کو غذا سے قطعی بے نیازی ہونی ناممکن ہے، اس بنا پر تمام مذاہب نے اس سے اجتناب اور بے نیازی کی ایک حد مقرر کردی ہے۔‘‘
اسلام کا مقصد نفوس انسانی کا تزکیہ، اخلاق کی تہذیب اور اصلاح وتربیت ہے۔ یہ ہی روح اسلام کی فرض کردہ ہر عبادت میں جلوہ گر ہے۔ روزہ کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسانی نفوس کامادی، روحانی اور اخلاقی لحاظ سے تزکیہ کیا جائے۔ تاکہ اس کے اندر اس مشق کے ذریعہ ملکوتی صفات پیدا ہوں۔ شاہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ میں اس پر مفصل بحث کی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ
’’ روزہ کا مقصد انسانی نفس کو روحانی تقاضوں کی تابعداری اور فرمانبرداری کا عادی بنانا ہے۔ چونکہ یہ چیز تمام ہی انبیاء کے مقاصد بعثت میں نبیادی اہمیت کی حامل تھی۔ لہٰذا اسے تمام سابقہ شریعتوں میں فرض قرار دیا گیا۔ نیز روزے سے حیوانی جذبات کو قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ شہوت کا زور کمزور پڑتا ہے۔ ملکوتی صفات کو نکھرنے کا موقع میسر آتا ہے اور نفس انسانی خواہشات کا پیروکارنہ بن کر عقل کی پیروی کرنے لگتا ہے‘‘۔
مزید برآں روزہ سے روح صیقل ہوتی ہے، اخلاق سنورتے ہیں اور یہ متعدد بیماریوں کا علاج بھی ہے۔
روزہ بہت بڑی نیکی ہے:
روزہ بہت بڑا نیکی کا عمل ہے۔ اس کا اجروثواب شمار سے پرے ہے۔ حدیث قدسی میں نبی اکرمؐ سے منقول ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں‘‘ ’’ الصوم لی واناأجزی بہ‘‘۔ اس قدر عظیم الشان اجرو ثواب کا وعدہ دوسرے اعمال صالحہ کے سلسلے میں منقول نہیں ہے۔
روزہ دار انسان صرف اور صرف خدا کے لئے مخصوص اوقات میں ہر طرح کی حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے۔ قسم قسم کے ماکولات ومشروبات اس کے سامنے موجود ہوتے ہیں۔ مرغوب ترین اشیاء دستیاب ہیں مگر ان کو وہ ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ صرف اس لیے کہ اس کے مہربان رب نے رمضان کے ان مخصوص ایام میں کھانے پینے اور جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کو ممنوع قرار دیاہے۔ رب کی اطاعت اور اس کے حکم کی تعمیل کا یہ جذبہ ہی ہے جو اسے عظیم الشان اجر و ثواب کا مستحق بناتاہے۔ رب کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین اس ماہ مبارک میں حق الیقین میں تبدیل ہوجاتاہے۔اس کی صفت حاکمیت اور مالک یوم الدین ہونے کا یقین رگ و پے میں سماجاتا ہے۔ وہ خواہ تنہائی میں ہو یا لوگوں کے ہجوم میں، بہ حالت روزہ اللہ تعالیٰ کی ممنوع کردہ چیزوں کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ ایک طرف وہ جہاں خدا کے حکم کی عدولی سے لرزہ براندام ہوتا ہے تو دوسری طرف اپنے رب کی بے پناہ رحمت و برکت اور اجر و ثواب کا امیدوار، آخرت میں اس کی رضا وخوشنودی کا آرزو مند اور خواہاں ہوتا ہے۔
روزہ ایک مخفی طریقہ عبادت ہے۔ اس میں ریا کا کوئی موقع نہیں ہوتا، کامل اخلاص ہی روزے دار بندے کو بے حدوحساب اجر کا سزاوار ٹھہراتا ہے۔ روزہ میں بندہ اپنے اوپر حلال چیزوں کے تعلق سے بندش لگا کر حرام چیزوں سے رکنے میں بہ درجہ اولیٰ قادر ہوجاتا ہے۔ خواہشات پر اس کا قابو ہوتاہے۔ نفس پر اس کی حکمرانی قائم ہوجاتی ہے۔ روزہ کی مشق سے بندہ کے اندر یہ استطاعت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ زندگی کے تمام دیگر معاملات میں خواہشات کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھے، خواہشات کی رو میں وہ بہہ نہ جائے بلکہ وہ خواہشات کو اپنے خدا کی مرضی کا تابعدار بنائے۔رمضان المبارک میں روزے دار پر ایک سچا جذبہ اور صادق دھن سوار ہوجاتی ہے۔ اپنے رب کو منانے کی دھن، اپنے مہربان آقا کو راضی کرنے کی دھن، اپنے خالق ومالک کے نزدیک سرخرو اور کامران ہونے کی دھن۔ اور اس’’دھن‘‘ میں وہ اپنے رب کے حکم سے کھانے پینے اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کو چھوڑدیتا ہے، نماز کا وقت ہوتا ہے تو رکوع وسجود میں اس کی رضا تلاش کرتا ہے۔ کبھی انفاق کے ذریعہ اور روزے دار کو افطار کراکے اس سفر کو قطع کرنا چاہتا ہے۔ کبھی اپنے رب کے بھیجے ہوئے پیغام کو حرزجاں بناتا ہے اور گھنٹوں اس کے معانی و مطالب پر غور و تدبر کرتا رہتا ہے، کبھی ذکر و دعا کا دامن پکڑتا ہے، کبھی راتوں میں اپنے رب کے حضور تنہائی میں کھڑا ہوکر اس سے رازونیاز میں مصروف رہتا ہے، کبھی لیلۃ القدر کی تلاش وجستجو میں راتوں رات جاگتا ہے تو کبھی اپنے رب کی چوکھٹ پر جا پڑتا ہے اور مسجد میں معتکف ہوجاتا ہے۔ ایسی سچی تڑپ، ایسا سچا جذبہ اور ایسی صادق دھن جس بندے پر سوار ہوجائے، خدا اس کو مل جاتا ہے، اس سے راضی ہوجاتا ہے اور اسے اپنے سایۂ عاطفت ورحمت کا مستحق قرار دیتا ہے۔ ایسے ہی خوش قسمت بندوں کے لئے فرمایا گیا کہ میزان اور پیمانے ان کا اجر دینے سے قاصر ہیں۔’’ ان کا بدلہ تو میں ہی ہو‘‘ں اور قرآن ان الفاظ میں ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کرتا ہے’’والصائمین والصائمات……… أعد اللہ لھم مغفرۃً و أجراً عظیماً۔ (الاحزاب: ۵)
روزہ رمضان ہی میں کیوں؟
ماہ رمضان کی فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام کے ایک نبیادی رکن روزہ جیسی اہم عبادت کے لئے اس ماہ کا انتخاب کیا گیا۔ روزہ کو رمضان میں فرض قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں انسانوں کی ہدایت کے لئے آخری اور معتبر ترین صحیفہ نازل ہوا۔ نزول قرآن کے آغاز سے قبل نبی اکرمؐ مکہ کے غار حرا میں خدا کی عبادت میں مصروف رہا کرتے تھے۔ ابن ہشام کی ایک روایت کے مطابق نبی اکرمؐ ہر سال ایک ماہ کے لئے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار کرتے تھے۔’’کان النبیؐ یجاور فی حراء شھراً و کان ذلک مما تحنث بہ قریش فی الجاھلیۃ‘‘
مولانا سید سلیمان ندویؒ نے اس حالت میں آپ کے روزے سے ہونے کی بات کہی ہے۔ مزید برآں انہوں نے سیدنا عیسیؑ اور موسیؑ کے متعلق بھی لکھا ہے کہ حضرت موسیؑ کو توریت ملنے سے قبل وہ چالیس روز تک بھو کے اور پیاسے رہے، اور حضرت عیسیؑ بھی چالیس روز تک بحالت روزہ رہے قبل اس کے کہ ان کے منھ سے انجیل کے الفاظ گویا ہوئے۔
اس سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ علومرتبت کے لیے روزہ جیسی اہم عبادت کا بہت بڑا کردار ہے، وہیں خدا کی عبادت کے لئے خود کو ماحول سے کنارہ کش کرلینا بھی انبیائی طریقہ کار ہے۔ لہٰذا رمضان المبارک کے روزے اور اخیر عشرے کا اعتکاف نبی اکرمؐ کے اسی دور کی یادگار ہے جب آپ خدا کی طرف سے کسی واضح رہنمائی کی تلاش میں سرگرداں تھے۔
شاہ صاحب نے بھی حجۃ اللہ البالغہ میں رمضان میں روزہ کو فرض قرار دینے کی بابت لکھاہے کہ جب روزہ کو فرض قرار دینے کی بات آئی تو اس کے لئے رمضان سے زیادہ موزوں کوئی اور مہینہ نہیں ہوسکتا تھا۔ کیونکہ اسی ماہ مبارک میں قرآن نازل ہونا شروع ہوا، اسی مہینہ میں ملت مصطفوی راسخ ومستحکم ہوئی اور رمضان میں ہی شب قدر کا احتمال بھی ہوتا ہے‘۔‘ ’’و اذا وجب یتعین ذلک الشھر فلا أحق من شھر نزل فیہ القرآن و ارتسخت فیہ الملۃ المصطفویۃ و ھو مظنیۃ لیلۃ القدر‘‘
رمضان المبارک سے قرآن کریم کا رشتہ بڑا ہی مضبوط ہے۔ نبی اکرمؐ کے متعلق منقول ہے کہ رمضان میں آپؐ روزانہ حضرت جبرئیلؑ کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ نیز آخری سال میں آپؐ نے دو مرتبہ قرآن کا دور کیا تھا۔ رمضان کے شہر قرآن ہونے کا تقاضا ہے کہ امت محمدیہؐ اس ماہ مبارک میں قرآن کی طرف رجوع کرے، اس کے دلوں میں قرآن کے لئے ایمان وتعظیم کی کیفیت پیدا ہو، اس کے حقوق ادا کرنے کے لئے ہر ہر فرد کمربستہ ہوجائے۔ اس کے ایک ایک لفظ کو حرزجاں بنالے، اس کی تلاوت کرے، اسے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے، اس پر غورو تدبر کرے، اسے یاد کرے، نمازوں میں پڑھے، تراویح میں سنے، اور اس سے ہدایت طلب کرے۔ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کا عہد کرے۔ اس کی دعوت دوسروں تک پہنچائے۔ اپنے سماج اور گردونواح کو قرآن کی روشنی میں ڈھالنے اور سنوارنے کا عزم مصمم کرے، مختصریہ کہ رمضان المبارک کا لمحہ لمحہ قرآن کے لئے وقف کردے۔
رمضان المبارک کا یہ عظیم الشان مہینہ قرآن کریم سے ہمارے رشتے کو مضبوط کرنے کے لئے آتا ہے۔ قرآن کی تعلیمات پر ہمیں کھڑا کرنے کے لئے آتا ہے، اور ہمارے اندر عزم وحوصلہ اور شوق ولگن پیدا کرنے کے لئے آتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اس شمع سے روشنی حاصل کریں، اور شیطانی طاقتوں کا مقابلہ کرسکیں۔ گھٹا ٹوپ تاریکی میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کے درد کا درماں کرسکیں، اور انھیں ان کے رب سے وابستہ کرنے کا ذریعہ بن سکیں۔ لیکن کیا آج ہمارا رشتہ قرآن پاک سے ان ہی نبیادوں پر استوار ہے؟ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عوام الناس کی تو قرآن حکیم سے بے اعتنائی جگ ظاہر ہے، مگر خواص بھی اس سے ویسے مستفید نہیں ہوتے جیسا کہ اس سے مستفید ہونے کا حق ہے، اور اس سے وہ مقاصد نہیں حاصل کئے جاتے جس کے لئے وہ آیا ہے۔
تقوی:
قرآن کریم نے روزہ کی غرض وغایت تقویٰ کو قرار دیا ہے۔ تقوی صرف روزے کی ہی غایت نہیں ہے بلکہ اسلام کے تمام احکامات کی غرض وغایت اور ان کی روح تقویٰ ہی ہے۔ قرآن کریم نے خدا کی بندگی کی غرض ہی تقوی کو قرار دیا ہے(البقرہ: 30)قربانی کا مقصد بھی یہی بتایا ہے کہ خدا کو تمہارے جانوروں کا خون اور گوشت نہیں، پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ ہی پہنچتا ہے(الحج:۵) حج کے متعلق بھی قرآن میں ارشاد ہے کہ جو اللہ کے شعائر کی عزت کرتا ہے، تو یہ دلوں کے تقوی کی علامت ہے۔(الحج:۴) مسجد کی تعمیر کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ’’ جس نے اس کی عمارت خدا کے تقویٰ پر کھڑی کی۔(التوبۃ:13)
گویاتمام ہی احکام کی تعمیل کے ذریعہ جو چیز مطلوب ہے وہ ایک لفظ میں ’تقویٰ‘ ہے۔
آخر یہ تقوی کیا ہے؟ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ قرآن نے اپنی اس اصطلاح کا کیا مفہوم بیان کیا ہے اور وہ متقین کے کیا کیا اوصاف شمار کراتا ہے۔ قرآن کریم نے لفظ تقوی کی حقیقت کو ایک نہایت ہی مختصر سے فقرے میں بیان کردیا ہے۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے:
والذی جاء بالصدق وصدق بہ اولئک ہم المتقون۔(الزمر:4) یعنی ’’جو سچائی لے کر آئے اور اس کی تصدیق کرے وہی تقوی والا ہے‘‘۔ آیت ’بر‘( البقرۃ:22) میں مختلف اعمال صالحہ کو متقین کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ جن میں خدا، آخرت، ملائکہ، کتاب اور نبیوں پر ایمان کے علاوہ خدا کی محبت میں رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور غلاموں کو آزاد کرانے میں اپنا مال خرچ کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، ایفائے عہد کرنا، لڑائی سختی اور تکلیف میں صبر کرنا شامل ہے’’اولئک الذین صدقوا و اولئک ھم المتقون‘‘۔
قرآن نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ تقویٰ کا اصل مرکز دل ہے، جیساکہ حج کی غایت کے متعلق ارشاد ہواہے۔ ’’فانھا من تقوی القلوب‘‘۔
تقوی درحقیقت بندۂ مومن کے دل کی اس ایمانی کیفیت کا نام ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے حاضروناظر ہونے کا یقین دلاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اعمال صالحہ کے طرف اس کے قدم خود بخود اٹھنے لگتے ہیں اور شر سے ایک فطری نفرت یا دوری پیدا ہوجاتی ہے۔ نیک اعمال کی توفیق اوراس کی طرف رغبت پیدا ہونے لگتی ہے اور معصیت وسیئات سے شدید کراہیت ونفرت۔ ایمان کی اسی کیفیت جس کا نام تقوی ہے، اس کی طرف محمد عربیؐ نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ جب نیکی کرنے کے بعد لذت وسرور کی کیفیت پیدا ہو اور برائی کرنے کے بعد دل رنجیدہ ہو تو یہ ایمان کی علامت ہے اورجو چیز دل کو کھٹکے چھوڑ دینا چاہئے‘‘(احمد)
روزہ سے تقوی کے جس خاص پہلو کو تقویت ملتی ہے وہ ہے ضبط نفس، صبر اور اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھنا۔ اپنی خواہشات کو جذبات کی رومیں بہہ جانے سے بچالینا۔ یہی زندگی کے تمام معاملات میں کامیابی کی کلید ہے۔ قرآن نے بھی جو ’’والذی جاء بالصدق‘‘ کہا ہے، اس کا بھی یہی مفہوم ہے کہ انسان اپنی زندگی کے جملہ امور میں اسی شاہ راہ پر کاربند ہو، جو صدق ہو اور اس صدق کی وہ اپنے ہر ہر عمل سے تصدیق کرے، ورنہ محض صدق کو صدق جاننا مفید نہیں۔ روزہ کے متعلق بھی نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ بہت سارے روزے داروں کو بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہیں ہاتھ آتا، اس کا بھی یہی مفہوم ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ بحالت روزہ انسان حلال چیزوں کو تو خود پر حرام کرلے اور حرام چیزیں جو بہر صورت حرام ہیں اسے کرتا رہے۔ روزہ تو اس بات کی عملی مشق کرانے کے لئے آتا ہے کہ جو انسان حلال چیزوں کو بھی خدا کی مرضیات پر ترک کرسکتا ہے وہ اس کی حرام کردہ اور ممنوع چیزوں کی طرف کیونکر بڑھے گا۔ جو ماء معین کا ایک گھونٹ وطعام طاہر کا ایک لقمہ بھی اپنے منھ میں نہیں ڈال سکتا وہ حرام چیزوں کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھنا بھی کیسے گوارہ کرسکتا ہے۔ رمضان کے فیوض اور برکات کے تب ہی مستحق ہوں گے جب روزہ کے یہ مقاصد حاصل ہوں۔
جوہر جاوید گیاوی، موبائیل نمبر: 8409640946

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

سنگھ پریوار: ترجیحی عدم توازن کا شکار

عقل مند وہ ہے جو دوسروں کی غلطی سے ہوشیار ہوجاتا ہے ...