بنیادی صفحہ / رشد / دعا عبادت ہے

دعا عبادت ہے

اَلدُّعَاءُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اِسْتَجِبْ لَکُمْ ۔ (عن نعمان بن بشیر) ترجمہ: ’’ دعا عبادت ہے۔ تمہارے رب کا فرمان ہے: تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔‘‘
آں حضرتؐ کی یہ حدیث‘ حدیث کی مختلف کتابوں میں صحابی رسول حضرت نعمان بن بشیرؓ کے علاوہ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے اور ان حدیث کے ماہرین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ترمذی میں معنی کے لحاظ سے اس سے قریب ایک دوسری حدیث نقل ہوئی ہے جو بہت مشہور ہے۔ اس کے الفاظ ہیں: الدعاء مخ العبادۃ(دعا عبادت کا مغز ہے)،البتہ ماہرین نے اس دوسری روایت کی صحت پر کلام کیا ہے اور اسے معنی کے اعتبار سے درست اور روایت کے پہلو سے غریب قرار دیا ہے۔ درج بالا احادیث میں دعاء کو عبادت کی اصل، اس کی روح بلکہ عین عبادت قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر عبادت میں دعا نہ ہو تو وہ بے جان ہے۔
دعاء کی اہمیت اور عبادت ودعا کے اس لازم وملزوم تعلق کو سمجھنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ لفظ دعا کا مفہوم ہم پر واضح ہوجائے۔ یعنی ان احادیث کی روح تک رسائی حاصل کرنے اور ان کے مغز کا ادراک کرنے کے لئے اس لفظ کے معنی کا فہم مفید ہوگا۔ عربی زبان کا جو لفظ اردو زبان میں مستعمل ہے اس کے سلسلے میں عموماً اردو قاری کا ذہن اس معنی پر ٹھہر جاتا ہے جس معنی میں وہ لفظ اردو میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اردو زبان میں ’’دعا‘‘ کا مطلب مانگنا اور طلب کرنا ہے۔ یہ معنی غلط نہیں ہے لیکن یہ اس لفظ کا اصلی معنی نہیں ہے۔ اس لفظ کا بنیادی مفہوم پکارنے، بلانے یا اپنی طرف متوجہ کرنے کا ہے، خود اردو زبان میں اس مادہ سے بنے ہوئے الفاظ’’دعوت‘‘ اور ’’داعی‘‘ بلانے اور بلانے والے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
مذکورہ بالا حدیث میں دعا کا دونوں مفہوم موجود ہے۔ عبادت کی روح یہ ہے کہ بندہ خداوند قدوس کو حاضر وناظر جان کر اس کی صفات سے واقف ہوکر اور اس کے مقابلہ میں اپنی صحیح حیثیت کی معرفت کے ساتھ اس کی جانب متوجہ ہو اور اس کے احکام کے مطابق عمل پیرا ہو۔ مثلاً کوئی بندہ اگر نماز ادا کررہا ہو اور اس کو یہ حضوری حاصل ہوجائے اور وہ خدا سے مخاطب ہوکر پکار اٹھے تو یہ نماز اصل عبادت ہوگی۔ دوسری طرف اگر عبادت کے تمام مراسم اداکردیئے جائیں لیکن اپنے مالک کے سامنے موجود ہونے کی حقیقت پر توجہ نے ہو اور اسے پکارنے کی توفیق نہ حاصل ہو تو ایسی عبادت اپنی اصل روح سے خالی ہوگئی۔ یہی توجہ عبادت ہے اور یہی پکار دعا ہے۔ یہ دونوں حقیقتاً لازم وملزوم ہیں۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ایک بندہ جب لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین کے احساس کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارتا ہے تو وہ کیا طلب کرتا ہے اور کیا کرتا ہے؟ حمد ومناجات کے ساتھ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی حاجات بھی بیان کرتا ہے۔ یہ دعا کا دوسرا مفہوم ہے، یعنی سوال کرنا اور مانگنا۔ بندہ اپنے رب سے کیا کیا مانگتا ہے اور کیسے کیسے طلب کرتا ہے یہ سب توفیق الٰہی اورشانِ بندگی کے معاملات ہیں۔
دیگر ادیان اور (شائد) ان کے اثرات سے تصوف کی بگڑی ہوئی شکلوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ خدا سے مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حمدو مناجات کافی ہیں کیونکہ ہمارا رب ہماری ضرورتوں سے واقف ہے اور اس کا عطا کرنا ہمارے طلب کرنے سے مشروط نہیں ہے۔ اس حد تک تو یہ بات درست ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی شان کریمی بندوں کی دعاؤں کا محتاج نہیں، لیکن قرآن وحدیث کی تعلیمات اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل اس بات پر شاہد ہے کہ بندوں کو خود اپنی حاجات کا شعور ہونا چاہئے اور ان کا اظہار بہ شکل دعا کرنا چاہئے۔ یہ خود بندگی کا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مطلوب ہے۔ اس طرح دعا رجوع الی اللہ کا نام ہے۔ جہاں ہم اپنا دکھ، درد، خوشی اور دیگر جذبات اپنے رب کے حضور پیش کردیتے ہیں اور اس سے اپنی تمنائیں بیان کرتے ہیں۔فیضؔ نے اپنے ایک شعر میں، جو عشق حقیقی ومجازی دونوں سے متعلق ہے، اس طرح کی ایک کیفیت کو بیان کیا ہے ؂
تمہیں پکارا ہے بے ارادہ ۔۔۔۔۔۔جو دل دکھا ہے بہت زیادہ
یہ معاملہ صرف دل کے دکھنے کا نہیں ہے۔ کوئی خوشی کا موقع ہوکہ جب دل مسرت کے جذبات سے لبریز ہوجائے اس لمحہ بھی شکرادا کرنے کے لئے دعا کے لئے ہاتھ اٹھ جانا چاہئے۔
درج بالا حدیث میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کا ایک فرمان یاد دلایا ہے کہ بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اور دوسری آیات میں قبولیت دعا کے لیے ’استجاب‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا اردو ترجمہ جواب دینا ہے۔ رب کائنات کی طرف سے بندے کی پکار اور اس کی طلب کا جواب دراصل رب کا بندے کی طرف محبت سے رجوع کرنا ہے۔ بندے کی دعا رب کی محبت وتوجہ کو اپنے حق میں کرلے، یہی قبولیت دعا ہے۔ اس کے بعد عطا ہے، بخشش ہے، رحم وکرم ہے اور نوازشیں ہی نوازشیں ہیں۔
جس طرح اللہ تعالیٰ سے خطاب کرتے ہوئے اس سے مانگنا مطلوب ہے، اسی طرح نہ مانگنا نا مطلوب بلکہ ناگوار ہے، اس بات کا ذکر ایک دوسری حدیث میں ہے:
من لم یسأل اللہ یغضب علیہ (ترمذی) ترجمہ: ’’جو اللہ سے سوال نہیں کرتا(اللہ تعالیٰ) اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔‘‘
اس حدیث میں دعا کے لئے ’سأل‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو دعا کا دوسرا مفہوم ہے۔ اللہ سے سوال نہ کرنا یعنی نہ مانگنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بندہ اپنے رب کو بھول چکا ہے اور اپنی حاجتوں کے لئے اپنے آپ کو خود کفیل سمجھنے لگا ہے کہ جیسے اس کی اپنی سعی وکاوشیں اس کے لئے کافی ہوں۔ یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے والی ہے۔ آدمی کی صحیح حیثیت یہ ہے کہ وہ رب دوجہاں کے سامنے مجبور وکمزور ہے اور اس کی قوت کا راز یہ ہے کہ اسے اپنے اس حقیقی مالک کا سہارا مل جائے۔ یہ ایک سہارا(سجدہ) جو دیگر تمام سہاروں(سجدوں) سے بے نیاز کردے۔اسے حاصل کرنے کا ذریعہ دعا وعبادت ہے یعنی اپنے رب کی طرف رجوع کرنا، اپنا دکھ درد اس سے بیان کرنا اور اس کی مدد طلب کرنا، وما التوفیق الا باللہ۔
ڈاکٹر وقار انور، مرکز جماعت اسلامی ہند

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مثالی ازدواجی زندگی کا خاکہ ( سیرت امہات المومنین کی روشنی میں)

ابوالاعلی سید سبحانی اسوۂ حسنہ سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ...