بنیادی صفحہ / ایس آئی او / دستور ہند: نئی تعلیمی پالیسی کی بنیادیں

دستور ہند: نئی تعلیمی پالیسی کی بنیادیں

ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے ایک مذاکرہ بعنوان نئی تعلیمی ۳۰؍مئی ۲۰۱۵ ؁ء بمقام بی آئی بی ایف سیمنار ہال بنگلور منعقد کیا گیا۔
اس اہم مذاکرہ میں جناب پروفیسر نرنجن اور پروفیسر ہراگوپال نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، نیز شرکاء کے سوالات کے جوابات دیئے۔
جناب پروفیسر نرنجن نے تعلیمی پالیسی کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلی تعلیمی کوٹھاری کمیشن کے ذریعے ۱۹۶۴۔ ۱۹۶۶ ؁ء میں بنی تھی، جس کا اعادہ ۱۹۸۶ ؁ء میں کیا گیا۔ اب نئی حکومت ایک دوسری تعلیمی پالیسی کا پروگرام اپنے پاس رکھتی ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس نئی پالیسی کو سابقہ پالیسی کے نفاذ میں رہ گئی کمیاں، تعلیم کے میدان میں نئے چیلنجزکی روشنی میں سمجھیں۔
تعلیمی پالیسی کی دستوری اساس ہونی چاہئے، جیساکہ دستورہند کے سیکشن ۳۹؍ میں درج ہے۔ تعلیمی پالیسی کا ایک مقصد دستوری اقدار کو فروغ دینا بھی ہے۔ ہر تعلیمی پالیسی کے کچھ بنیادی مقاصد ہونے چاہئیں جو کہ درج ذیل ہیں:
۱) ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جانا۔
۲) قومی مساوات کو فروغ دینا۔
۳) تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا۔
۴) سیکولر مزاج اور سائنٹفک تعلیم کو فروغ دینا۔ .
۵) نیز طلبہ میں تحقیقی مزاج کو پروان چڑھانا
جناب پروفیسر ہرا گوپال نے سابقہ تعلیمی پالیسی کا تجزیہ پیش کیا جو کہ اس طرح ہے:
۱۹۶۴ ؁ء تک تعلیمی پالیسی کا کوئی ڈھانچہ نہیں تھا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیم کی تجارت ملک کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ ۱۹۶۴ ؁ء کا کوٹھاری کمیشن ہندوستان میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس کمیشن کے تحت تعلیم کا مقصد ایسے مردوخواتین کو تیار کرنا ہے جو زندگی کو صحیح طور سے برت سکیں، اور سوسائٹی میں مطلوبہ تبدیلی کے لیے کوشاں ہوں۔ ۸۵۔۱۹۸۶ ؁ء کی تعلیمی پالیسی کے تحت ہر بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ ہر اسکول کو ایک معیاری اسکول بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پرائمری درجات کی تعلیم کی جانب حکومت کی خاص توجہ ہونی چاہئے۔
خلاصہ کلام یہ کہ پہلے قدم پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئی تعلیمی پالیسی کی ضرورت کا منصفانہ تجزیہ کریں، سابقہ پالیسیوں کا جائزہ اور ان کے نفاذ کی طرف کس حد تک پیش قدمی ہوچکی ہے اس کا جائزہ بھی لیا جانا چاہئے۔ پالیسی کا مقصد سب کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا اور قومی یکجہتی نیز سیکولر اقدار کا فروغ ہونا چاہئے۔ پالیسی میں خاص طورسے تعلیم کی سماجی ضرورت کا خیال رکھنا چاہئے نہ کہ بازار کی ڈیمانڈ کا۔ تعلیم کا مقصد ایسے مردوخواتین کو تیار کرنا ہو جو کہ زندگی کو اس کے صحیح زاویہ نظر کے ساتھ دیکھ سکیں اور سماج میں ایک ذمہ دارانہ رول ادا کرسکیں، نیز ایک اچھے متباد ل سماج کی تعمیر میں فعال رول ادا کرسکیں۔ تعلیم کا مقصد جمہوری اقدار پر مبنی سوسائٹی کی تعمیر ہونا چاہئے، جیساکہ دستور ہند میں اس کی وضاحت ہے۔ تعلیم کی تجارت اور اسے عالمی منڈی کی ایک تجارتی شئے بننے سے روکنے کی کوشش کرنا بھی اس تعلیمی پالیسی کا ایک مقصد ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

روہت: مزاحمتی تحریکات کے لیے ایک روشن ستارہ – نحاس مالا

روہت ویمولا کے یونیورسٹی انتظامیہ کے دباؤ میں خودکشی کی دوسری برسی ...