Home / متفرق / دارورسن کو کس نے چنا دیکھتے چلیں ، یہ کون سر بلند ہوا دیکھتے چلیں

دارورسن کو کس نے چنا دیکھتے چلیں ، یہ کون سر بلند ہوا دیکھتے چلیں

حزن و ملال سے پاک مولانا مطیع الرحمٰن نظامی نے تو بڑے سکون سے ارشاد فرمایا کہ اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے اللہ تعالیٰ میری شہادت کو قبول فرمالے ۔ رب کائنات نے یقیناً ان کی اس آرزو کو شرف قبولیت سے نوازہ ہوگا ہے اس لئے کہ حدیث قدسی کا مفہوم ہے جب میرا بندہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو اسے خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے میں شرم محسوس کرتا ہوں اور اگر بندہ یہ کہہ رہا ہو کہ میں (کسی ظالم حکمراں سے )رحم کی درخواست نہیں کروں گا۔ معاف کرنے والا تو صرف اللہ ہے نیز زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے تو اس کا کہنا؟ اس کے باوجود مولانا نظامی کی پھانسی نے سارے عالم کے اہل ایمان کو سوگوار کردیا اس لئے کہ وہ ایک جابر حکمراں کے ظلم کا شکار ہوئے ہیں ۔
غزوہ احد میں ۷۰ جلیل القدر صحابہ کی شہادت کے بعد امت مسلمہ کی ایسی ہی کیفیت تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ آل عمران میں بہت تفصیل کے اس جنگ پر نہایت جامع تبصرہ فرمایا جس کے اختتام پر جو آیات نازل ہوئیں وہ حسب ذیل ہیں ۔ ارشادِ ربانی ہے ’’جولوگآج کفرکی راہ میںبڑی دوڑدھوپ کررہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے‘‘ ۔ اس آیت کے اندر گواہی موجود ہے کہ احد کی شکست کے بعد مسلمان آزردہ ٔ خاطر تھے ۔غزوۂ بدر یا غزوۂ احزاب بلکہ غزوۂ تبوک و حنین کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی آیت نازل نہیں فرمائی ۔ رب کائنات چونکہ اپنے بندوں کے دلوں کا حال جانتا ہے اس لئے اہل ایمان کے سوگوار ہونے کی وجہ بھی بتلادی ۔ مسلمانوں کو جس شے نے فکر مند کردیا تھا وہ دشمنانِ اسلام کی فتح کے بعد کی کیفیت تھی ۔ ان کے حوصلے بلند ہوگئے تھے اوران کا سردارِ وقت ابوسفیان یہ کہتے ہوئے لوٹا تھا کہ آئندہ سال ہمارا مقابلہ بدر کے میدان میں ہوگا۔ گویا بدر کے میدان میں اپنی گزشتہ شکست کا انتقام لے کر اسلام کا قلع قمع کردیں گے۔
اس صورتحال میں اللہ تعالیٰ مومن بندوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کفر کی راہ میں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں اس لئے کہ یہی چیز آگے بڑھ کر مایوسی کا شکار کردیتی ہے اور حزن و یاس کے مارے لوگ نہ مقابلہ کرسکتے ہیں اور نہ کامیاب ہوسکتے ہیں۔حوصلہ افزائی کے بعد فرمایا ’’یہ اللہ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے ‘‘ ۔ یہ قرآن حکیم کا نہایت بلیغ انداز ہے یہ نہیں فرمایا کہ وہ تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے بلکہ فرمایا یہ اللہ کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ یعنی یہ لوگ بظاہرتو تمہیں گزند پہنچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے ۔ دشمنانِ اسلام تو اہل ایمان سے برسرِ جنگ تھے لیکن اس جنگ کی بنیادی وجہ کے سبب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے خلاف چھیڑی جانے والی جنگ کو اپنی جانب موڑ لیا کیونکہ دشمنی کی وجہ اہل ایمان کا اسلام کی راہ میں ڈٹ جانا تھا ارشادِ ربانی ہے ’’ اور اُن اہل ایمان سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے‘‘۔
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخراسلام دشمنوں کو اس دارِ فانی میں یہ موقع ہی کیوں ملتا ہے؟ اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے آگے کی آیت میں دیا ہے فرمایا ’’اللہ کا اراد ہی ہے کہ اُنکےلیےآخر ت میںکوئی حصہ نہ رکھے،اور بالآخر انکو سخت سزا ملنے والی ہے‘‘ یعنی اللہ کے دشمنوں کی یہ حرکات روزِ قیامت ان کے خلاف حتہ بن جائیں گی اور ان کا وہاں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ آگے کی متصل آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دنیوی دوڑ دھوپ کی بابت فرماتا ہے ’’جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کررہے ہیں، اُنکے لیے دردناک عذاب تیار ہے‘‘۔ اس آیت میں شیخ حسینہ واجد اور اس جیسے سارے ظالم و جابر حکمرانوں کیلئے دردناک عذاب کی خوشخبری سنائی گئی اور خبردار کیا گیا کہ ’’ یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیے جاتے ہیں اسکو یہ کافر اپنے حق میں بہتر ی نہ سمجھیں، ہم توانہیں ا س لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارگناہ سمیٹ لیں، پھر اُنکے لیے سخت ذلیل کرنےو الی سزاہے‘‘۔
منکرین اسلام کو ان کے انجام بد سے آگاہ کرنے کے بعد خطاب کا رخ اہل ایمان کی جانب آتا ہے۔ رب کائنات (غزوہ ٔ احد کے بعد کی صورتحال میں اور تاقیامت جب بھی مسلمان اس طرح کے حالات کا شکار ہوں) اپنے بندوں کی ڈھارس بندھاتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت پائے جاتے ہو۔ وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کرکے رہے گا‘‘۔ ایمان کا دعویٰ کرلینا نہایت آسان ہے لیکن ان میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا اس کیلئے آزمائش شرط ہے اس لئے فرمایا مومنین کے حالات ضرور بدلیں گے اور تاریخ شاہد ہے کہ ہر آزمائش کے بعد اہل ایمان کامیاب اور کامران ہوئے ہیں لیکن اس سے قبل پاک اور ناپاک لوگوں کو الگ کردیا گیا ۔ یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے اور تاابد جاری رہے گا ۔ اسی کشمکش کا اظہار حکیم الامت علامہ اقبال کے اس شعر میں ہے؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تاامروز چراغ مصطفوی ؐ سے شرارِ بوالہبی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس ابدی کشمکش کا عقدہ بھی کھول دیا ہے فرمان ِ ربانی ہے ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ “ہم ایمان لائے ” اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون ؟ ‘‘ یہ آیت کا پہلا حصہ ہے جس میں اہل ایمان کو مخاطب کرکے فرمایا گیا کہ دعویٰ ایمانی کے بعد آزمائش شرطِ لازمی ہے۔ اس کے بغیر نہ سچوں اور جھوٹوں کے درمیان فرق ہوسکتا ہے اور اس بات کا فیصلہ کہ کون اللہ تعالیٰ کی بیش بہا جنت کاحقدار ہے اور کس نے اپنے آپ کو جہنم رسید کروالیا ہے ۔ آیت کے دوسرے حصے میں منکرین حق کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا گیا ’’اور کیا وہ لوگ جو بُری حرکتیں کر رہے ہیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں ‘‘
مولانا مطیع الرحمٰن نظامی اور شیخ حسینہ واجد کی کشمکش کو اس پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔انتقال پر ملال پر عام طور سے یہ تعزیتی مصرع دوہرایا جاتا ہے ’’اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی ‘‘ لیکن جب کوئی خوشی خوشی جامِ شہادت نوش فرمائے تو ایسےموقع پر یہ ترمیم کا محتاج ہوجاتا ہے اس لئے کہ شہادت عام وفات سے کئی درجہ افضل و فائق ہے ۔اس کی بابت خالق کائنات ارشادفرماتا ہے ’’ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مُردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا‘‘۔ اللہ تبارک و تعالی ٰ کو یہ پسند نہیں ہے کہ اس کی راہ میں اپنی جانِ عزیز کا نذرانہ پیش کرنے والی عظیم ہستیوں کو مردہ کہا جائے ۔ حق تو یہ ہے کہ وہی زندہ کہلانے کے حقدار ہیں ۔ ایسے لوگوں کی شان میں تو یہ کہا جانا چاہئے کہ ’’اک چراغ اور جلا ، نور کی برسات ہوئی‘‘۔

شیخ حسینہ واجد نے۲۰۰۹؁ میں دوبارہ اقتدارسنبھالنے کے بعد سے جذبۂ انتقام کے تحت جماعت اسلامی اور بی این پی کوظلم و جور کا نشانہ بنانا شروع کیا ۔ اول تو جماعت کے ۸۰۰سے زائد افراد گرفتار کئے گئے۔ قائدین کی نقل وحرکت اور بیرون ملک سفر پرپابندی عائد کی گئی۔ فروری۲۰۱۰؁سےجلسہ جلوس پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ کہیںکوشش ہوتی ہے تو پولس نقص امن کے تحت جماعت کے ذمہ داران کو گرفتار کرلیتی۔ جماعت کا میڈیا ٹرائیل جاری ہے۔ تحریک سے وابستہ افراد کو گھروں اور تعلیمی اداروں سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر بھیج دیا جاتا ہے۔ کئی دفاتر اور کتب خانے نذر آتش کردیئے گئے ہیں۔ جمہوریت کے پرفریب لبادے میں سیکولرزم کا خوفناک، مکروہ اور جابرانہ چہرہ بنگلادیش میںعیاں ہوگیا ہے مگر انسانی حقوق کی اس پامالی پر خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔ آزادیٴ اظہارِ رائے کی حق سلبی پر دنیا بھر کے سیکولر دانشور خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ درپردہ حمایت کررہے ہیں۔
بنگلا دیش میں ذرائع ابلاغ پر قوم پرست سیکولر عناصر کا قبضہ ہے ۔ ان لوگوں کومولانا مطیع الرحمٰن نظامی ؒکی شہادت سے اسلام دشمنی کا ایک نادر موقع ہاتھ آگیا ۔ حکومت کے ذریعہ سے عائد کردہ بے بنیاد الزامات کی وہ خوب تشہیر رہے ہیں اور ظلم وجبر کی ایسی کھلی حمایت ہورہی ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی ۔ رات ۱۲ بج کر ۱۰ منٹ پر مولانا کو شہید کیا گیا لیکن دوسرے دن صبح کے اخبارات طول طویل مضامین سے بھرے پڑے تھے ۔ ان میں ایسی نفرت انگیز زہر افشانی کی گئی تھی کہ جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ ٹریبونل کے خلاف بین الاقوامی اداروں کےتحفظات و اعتراض کا کہیں ذکر نہیں تھا ۔ ترکی کے رجب طیب اروان کی مانند جن لوگوں نے اس سزا کی مذمت کی تھی وہ بھی ندارد تھے ۔ نام نہاد جمہوریت نواز سیکولر قوم پرستوں کا رویہ قرآن حکیم کےاس آیت کی مصداق تھا کہ ’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو ۔‘‘
رحمت العالین کی امت کامومن تو ساری دنیا کے خیر خواہ ہوتا ہے لیکن کوئی فتنہ پرور ان کی سادہ لوحی کا بیجا فائدہ نہ اٹھالے اس لئے اہل کتاب کے پس منظر میں اسے خبردار کیا گیا کہ ’’تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کتب آسمانی کو مانتے ہو جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی (تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو) مان لیا ہے، مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں ان سے کہہ دو کہ اپنے غصہ میں آپ جل مرو اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے‘۔ رب کائنات نے دشمنانِ اسلام کے دلوں کی کیفیت سے اہل ایمان کو آگاہ کرتے ہوئے آگے فرماتا ہے ’’ تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے، اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس پر حاوی ہے‘‘۔ مولانا مطیع الرحمٰن کی شہادت پر خوشی منانے والے بھی اخبارات میں نظر آئے لیکن آزمائش کی اس گھڑی میں مومنین کا شعار توکل علی اللہ اور صبر و استقامت ہے اس لئے کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔
سورۂ واقعہ میں قیامت کی منظر نگاری کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ ’’جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہو گا‘‘۔ اس دارِ فانی بہت سارا فساد اسی سبب سے ہے کہ اللہ کے باغی اور طاغی بندے اس دن کے منکر ہو گئے ہیں ۔ ان لوگوں نے اس دنیا کے جاہ و اقتدار کو سب کچھ سمجھ لیا ہے ۔ جس سے ان کو خطرہ نظر آتا ہے وہ اسے اپنی راہ سے نکال دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ایک دن ان کو بھی یہ سب پیچھے چھوڑ کر وہیں جانا ہے جہاں انہوں نے اپنے خودساختہ دشمنوں کو بھیجا ہے۔ دنیاکی عدالت میں تووہ اپنی مرضی کا فیصلہ نافذکروانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن دربارِ الٰہی میں کسی کی ایک نہ چلے گی۔ارشاد ہوگا بادشاہ تو میں ہوں دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں ؟(حدیث قدسی)اور اسی کے ساتھ سارے ظالم کیفرِ کردار کو پہنچادئیے جائیں گے ۔
اسی سورے میں آگے چل کر اللہ تعالیٰ ایک اور منظر پیش فرماتے ہیں ’’تم لوگ اُس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنااور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بد نصیبی کا) کا کیا ٹھکانا۔ آخرت کے نتائج چونکہ دنیوی عقائد و اعمال کے سبب مرتب ہوتے ہیں اس لئے دنیا ہی میں مذکورہ تقسیم ہوجاتی ہے ۔ شاہراہ زندگی دوطرفہ سڑک ہے ۔ اس کی دائیں سمت کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرنے والی ہے اور اس کی مخالف دوسری جانب تباہی و بربادی کی گہری کھائی ہے۔ درمیان میں انسان بغرض آزمائش بھیجا گیا ہے ۔اس کو اپنا سمت سفراختیار کے آزادی سے نوازہ گیا ہے۔ نوع انسانی اسی اختیار و آزادی کے سبب اپنے انجام کار کیلئے خود ذمہ دار ہے ۔
قیامت کے اس منظر میں ایک تیسرے گروہ کا بھی ذکر ہے ’’اور آگے والے تو پھر آگے وا لے ہی ہیں ، وہی تو مقرب لوگ ہیں‘‘۔ انسانوں کو چونکہ سمت سفر کے ساتھ ساتھ رفتارکار طے کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے اس لئے دائیں بازو والوں میں کچھ اپنی تیز گامی کے سبب ممتاز مقام پر فائز ہوں گے۔وہ انبیاء ، صدیقین ، صالحین اور شہداء کا طبقہ ہوگا۔ ان مقربین کے بارے میں بشارتِ ربانی ہے وہ ’’ نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے، اگلوں میں سے بہت ہوں گے، اور پچھلوں میں سے کم،مرصع تختوں پرتکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے‘‘۔ جنت کے اس مقام بلند کی آرزو ہر مومن کے دل میں ہوتی ہے لیکن ہر کس و ناکس کا یہ مقدر نہیں ہوتا۔ مولانا مطیع الرحمٰن نظامی کی اس آرزو کو رب ِ کائنات نے شرف قبولیت سے نوازا۔ اسی لئے انہوں نے طاغوت وقت کے آگے جھکنے سے انکار کردیا۔ مولانا مطیع الرحمٰن نظامی ان چنندہ سعید روحوں میں سے ہیں جن کے بارے میں قرآن گواہی دیتا ہے کہ جو اگلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوں گے۔دارورسن پر ہنستے کھیلتے چڑھ جانے والی ان نایاب ہستیوں کے بارے میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
ہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں

 

از: ڈاکٹر سلیم خان

Untitled

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

قرآن مجید کا طریقہ تعلیم و تربیت ۔ حصہ دوم

زکوٰۃ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آخرت کی یاد ...