بنیادی صفحہ / نظر / خودکشی ، مسائل اور حل(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

خودکشی ، مسائل اور حل(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

سراج کریم سلفی، علی گڑھ

موجودہ دور ترقی یافتہ دور ہے ۔ آرام و آشائس اور ذہنی و جسمانی تفریح کے لیے ان گنت وسائل کی فراوانی ہے ۔ وسائل و سہولیات کے بہتات کے باجود انسانی زندگی حقیقی چین و سکون اور قلبی اطمینان سے محروم ہے ۔ بے اطمینانی ، بے چینی اور بے سکونی اور دیگر دنیاوی الجھنوں کی وجہ سے انسانیت مضمحل ہوگئی ہے ۔ سماج و معاشرے میں برائیوں اور جرائم کا سیلاب ہے ، انہیں بڑھتے ہوئے خوفناک جرائم میں سے ایک خودکشی ہے ۔

ہر انسان کو سب سے زیادہ عزیز اس کی زندگی ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے ’’ جب تک جان ہے جہان ہے ‘‘ لیکن لوگوں کی ایک لمبی قطار ہے جو سانس لینے کے باوجود حقیقی معنوں میں مردہ ہیں ، جو گردش حالات کے تھپیڑوں سے گھبرا کر اپنے اعزاء و اقارب سے منہ پھیر کر ایسی جگہ جانا چاہتے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ مسدود ہے ، جسے خودکشی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔

گذشتہ کچھ سالوں میں ڈرامائی طور پر خودکشی کا رجحان بڑھا ہے۔ ادنیٰ اور معمولی وجوہات کی بنا پر بھی اپنی عزیز جان کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر بات کرنے سے لوگ کتراتے ہیں ،گذشتہ سالوں سے کچھ تحریکیں اس کے متعلق متحرک ہوئی ہیں ۔ 1990میں اقوام متحدہ کی طرف سے پہلی مرتبہ خودکشی سے بچاؤ کونسل پالیسی کو منظوری دی گئی ۔10 /دسمبر 2003 کو پہلی بار خودکشی سے بچاؤ کا عالمی دن قرار دیا گیا ، 2011میں 40ممالک میں اس دن کو سرکاری سطح پر منایا گیا۔

عالمی صورت حال

دنیا میں خودکشی کے رونما ہونے والے واقعات کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ عالمی ادارئہ صحت WHO (ورلڈ ہیلتھ اورگانائزیشن ) کی رپورٹ کے مطابق ہر سا ل آٹھ لاکھ تک خودکشیاں ہوتی ہیں ۔ یعنی ہر چالیس سکینڈ میں ایک آدمی خودکشی کرکے اپنی جان لیتا ہے ۔ دنیا میں کل اموات میں خودکشی کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح ایک اعشاریہ آٹھ فیصد ہے ۔ ایک سروے کے مطابق دنیا میں ہر تین سکینڈ میں خودکشی کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ان میں سے ہر بیس میں سے ایک آدمی خودکشی کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور انیس ناکام ہوتے ہیں ۔ 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے ، یہ نوجوانوں کی اموات کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے ۔ ستر سے زیادہ عمر کے لوگوں میں بھی خودکشی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

عالمی سطح پر اگر خودکشی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یورپین ممالک اور یونین یورپین اس میں آگے ہیں جہاں سیکولر نظام قائم ہے جہاں ہرقسم کی مذہبی و شخصی آزادی ہے ۔ جو ممالک غربت و افلاس سے دوچار نہیں ہیں بلکہ خوشحال ہیں ۔ سر فہرست ممالک میں ساؤتھ کوریا ، گیانا ، لیتھونیا ، سری لنکا وغیرہ ہیں ۔

ہندوستان کی صورت حال

ترقی کے دعویدار ہماراملک ہندوستان میں گذشتہ چند سالوں میں حیرت انگیز طور پر خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہواہے۔ عالمی ادارئہ صحت (ورلڈ ہیلتھ اورگانائزیشن ) کی تیارہ کردہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان سرفہرست ممالک میں 12 ویں نمبر پر ہے۔ NCRB (نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو ) کے مطابق 2011 میں 135585، 2012 میں135445 ، 2013میں 134799، 2014میں 131661، 2015 میں 133623لوگوں نے خودکشی کرکے اپنی جان لی۔ 2011کے بعد اس میں کچھ کمی آئی لیکن 2015میں پھراضافہ ہوگیا یہ 2015تک کی رپورٹ ہے اس کے بعد خصوصا کسانوں ، فوجوں اور طالب علموں میں اس کے رجحان میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق ہرآٹھ گھنٹے میں ایک کسان اپنے ہاتھوں موت کا جام پی کر داغ مفارقت دے جاتا ہے ۔ ہندوستان میں کسانوں کی تنظیم ’’وداربہ جن آندولن سمیتی ‘‘(وی،جے ، اے ،ایس ) کے مطابق صرف مہاراشٹرا میں 2013 سے اب تک 2900کسانوں نے خودکشی کی ۔ کسانوں کی خودکشی کے معاملے میں کرناٹک ، تامل ناڈو ، مہاراشٹرا ، آندھراپردیش اور چھتیس گڑھ وغیر ہ اضلاع سرفہرست ہیں ۔ فوجوں میں بھی اس کا رجحان کافی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق تینوں مسلح افواج میں ہر تین دن میں ایک فوجی خودکشی کرتاہے۔ اسی طرح طالب علموں اور دیگر طبقات میں حیرت انگیز طور پر خودکشی کا رجحان بڑھا ہے ۔

وسائل آشائس و آرام کی فراہمی کے باوجود لوگوں کے درمیان خودکشی کے اس بڑھتے رجحان کے پیچھے کیا عوامل و اسباب ہیں ، کیوں ایک آدمی اپنی عزیز جان کا دشمن بن کر اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر کر اعزاء واقارب کو غم واندوہ میں چھوڑ جاتاہے اوران کے لیے معاشرے میں بدنامی کا سبب بن جاتاہے ۔حد تو یہ کہ ہر عمر کے افراد اس میں ملوث نظر آتے ہیں۔ درج ذیل سطورمیں چند عوامل واسباب کی طرف مختصرا اشارہ کیا جاتاہے ۔

سماجی مسائل

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خودکشی کی سب سے بڑی اور اہم وجہ سماجی مسائل وعوامل ہیں۔ معاشرے اور سماج میں روز افزوں خاندانی جھگڑے (اولاد والدین ، میاں بیوی ، ساس بہو ، بھابھی نند ، بھائی بھائی کے درمیان جھگڑے ) اہل حقوق کے حق کی پامالی ، معاشرے میں پھیلی منافرت ، بدامنی ، ظلم و تشدد ، قتل و غارت گری وفتنہ فساد کے بڑھتے واقعات ،حکومتوں وسرکاری اداروں میں ناانصافی ، عوام کے ساتھ ان کا رویہ ، جہیز اور بے جا مطالبات ، ناخوشگوار شادیاں ، تعلیمی دباؤ ، والدین کی بے جا محبت و سختی ، نوجوان لڑ کو ں اور لڑکیوں کے درمیان بڑھتے ناجائز تعلقات وغیرہ سماج و معاشرے کے ایسے الجھے ہوئے مسائل ہیں جو انسانوں کے اندر ذہنی تناؤ کے اسباب بن رہے ہیں۔ ان مسائل کی وجہ سے بسااوقات رعنائیوں اور دلکش مناظر سے مزین دنیا بھی سیاہ نظر آنے لگتی ہے۔ لوگ دل برداشتہ ہونے لگتے ہیں اور اپنی جان اپنے ہی ہاتھوں ختم کرلینا ذریعہ نجات تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے ماہرین سماجیات کے نزدیک گھریلو جھگڑے وغیرہ خودکشی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

اقتصادی مسائل

اقتصادی مسائل خودکشی کی طرف بڑھتے رجحان کا دوسرا اہم سبب ہیں۔ اشیاء خورد و نوش کی فراوانی و بہتات کے باوجود غربت و افلاس کی وجہ سے جہاں فاقہ کش لوگ بھوکے مررہے ہیں وہیں جن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہوتا ہے وہ قبل از وقت اپنے ہاتھوں اپنی موت کو دعوت دے رہے ہیں۔ بے روزگاری ، فصلوں کی تباہی، بزنس کا دیوالیہ ہوجانا اور ملازمت کے حصول میں ناکامی ایسے اقتصادی مسائل ہیں جو خود کشی کے اسباب بن رہے ہیں۔ ہندوستان میں جہاں غربت و افلاس اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری مسئلے کھڑے کررہے ہیں ،وہیں فصلوں کی تباہی اور کسانوں کی خودکشیاں لمحہ فکریہ ہے، جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو سوچنے اور غور فکر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

NCRB(نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو) کی رپورٹ کے مطابق ہندوستا ن میں یومیہ 46کسان خودکشی کرکے اپنی جان لیتے ہیں۔ یہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ ہندوستان میں کسانوںکی خود کی شرح 2.11فیصد ہے۔ اسی طرح بے روزگاری وغیرہ کے سبب بھی خودکشی کے رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ عالمی ادارئہ صحت WHOکے جائزے کے مطابق خود کشی کرنے والوں میں سے ایک تہائی کا تعلق کم آمدنی والے طبقے سے ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے حکومت کے ساتھ سماجی کارکنان کو بھی آگے آنے کی ضرورت ہے۔

نفسیاتی مسائل

نفسیاتی مسائل بھی خودکشی کی بڑی وجہ ہیں ۔ جتنی تیزی سے دنیا ترقی کی جانب رواں ہے اتنی تیزی سے نفسیاتی مسائل سے لوگ دوچار ہورہے ہیں۔ ڈپریشن ،(Depression) اینزائٹی ، (Anxiety)اسٹریس ، (Stress)کچھ ایسے نفسیاتی مسائل ہیں جنہیں ٹینشن کہاجاتا ہے ۔ ذہنی و نفسیاتی تفریحات کے لیے نئی نئی ایجادات کے باوجود اس میں روز اضافہ ہی ہورہا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کی تنزلی ، انسانوں کے بدلتے رویے، دنیا کی ہوس، ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی چاہت، باہمی تعاون کا فقداناور لاعلاج مرض وغیر ہ کچھ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے دن بدن نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان مسائل سے دوچارلوگوں کو دنیا اپنی وسعت کے باوجود تنگ نظر آنے لگتی ہے۔ کسی کو اپنا مدد گارو معاون نہیں پاتا اور بالآخر گردش حالات سے تنگ آکر سب سے جدا ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اسمارٹ فون اور انٹر نیٹ کا بے جا استعمال اسمارٹ فون اور انٹر نیٹ لوگوں کی ایک ضرورت ہے۔ اس کی وجہ سے جہاں انسانوں سے روابط آسان ہوگئے ۔ دنیا کے کسی کونے میں بسنے والے سے اتصال ممکن ہوگیا ہے، انٹر نیٹ میں معلومات کا ذخیرہ ہے، مطلوبہ شئی سکینڈوں میں دستیاب ہوجاتی ہے وہیں اس کے بے جا اور غلط استعمال سے سماج و معاشرے اور خصوصا نوجوانوں اور بچوں پر مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس کے بے جا اور ضرورت سے زیادہ استعمال نے لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا، آپسی تعلقات ختم ہوگئے، جس کے سبب لوگ مختلف ذہنی و جسمانی عوارض و امراض کے شکار ہورہے ہیں ، متعدد ذرائع کے مطابق لوگوں میں بڑھتے ڈپریشن کی ایک اہم وجہ اسمارٹ فون اور انٹر نیٹ کا بے جا استعمال ہے۔ امریکہ کے ’’فلوریڈا اسٹیٹ انٹرنیشنل اسکول‘‘ کے محققوں کے مطابق اسمارٹ فون پر زیادہ وقت گذارنے سے خودکشی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تھومس جوئنر کا کہنا ہے کہ اسکرین پر زیادہ وقت گذارنے اور خودکشی کے خیال آنے اور ا س کی کوشش کرنے کے درمیان گہرا ربط ہے۔ پانچ گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ میں گذارنے سے 48فیصد لوگوں میں خودکشی سے متعلق کارکردگی دیکھی گئی ہے۔ سنٹر فورڈیز یزکنٹرول کے مطابق 2010کے بعد 12اور 18کی عمر کے بچوں میں خودکشی کے شرح میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اس میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔(۱)
یہ تو کچھ اعداد و شمار ہیں جب کہ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ سے ہونے والے نقصانات ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ گذشتہ کچھ مہینوں سے ایک گیم ’’بلیو ویل ‘‘نے جلے پر نمک کا کام کیا ہے جس کے فریب میں آکر کئی معصوموں ،والدین اور اہل خانہ کئے لیے مستقبل کے امید نوجوانوں نے اپنے پیارے والدین اور اعزاء اقارب کو داغ مفارقت دے گئے ہیں۔

نشہ آور اشیاء کا استعمال

موجودہ سماج و معاشرے میں نشہ آور اشیاء کا استعمال عام ہی نہیں بلکہ ایک فیشن ہوگیا ہے۔ نشہ کے شکار طبقہ اپنی ذمہ داری سے بے پرواہ اپنی دنیا میں مست مگن ہوکر زمین میں فتنہ وفساد کا سبب بن رہے ہیں۔ نشہ آور اشیا ء کی کھلے عام فروخت اور اس کا استعمال معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ اس کااستعمال بلاواسطہ جسمانی ، نفسیاتی اور جذباتی نقصان کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے۔ گذشتہ کچھ سالوں میں منشیات کے استعمال سے خودکشی کے رجحان یا حالت نشہ میں خودکشی کے واقعات میں کافی اضافہ ہواہے اور ہو بھی کیوں نہیں جب کہ قرآن نے اس کی قباحت و شناعت اور اس کے نقصانات سے پہلے ہی باخبر کردیا ہے :إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ، إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّہِ وَعَنِ الصَّلاَۃِ فَہَلْ أَنتُم مُّنتَہُون۔(سورۃ المائدۃ:۹۰)
’’اے ایمان والو! بات یہ ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں ،شیطانی کام ہیں،ان سے بالکل الگ رہوتاکہ تم فلاح یاب ہو۔ شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اورجوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرادے اور اللہ تعالی کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے ، سو اب بھی باز آجاؤ۔‘‘

تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس کے روک تھام کے لیے حکومت و معاشرہ کی نہ کوئی منظم کارکردگی ہے اور نہ ہی اس کے تعلق سے وہ سنجیدہ ہیں۔خودکشی کے بڑھتے رجحان کے یہ چند اسباب و عوامل ہیں ان کے علاوہ اور بھی اسباب ہوسکتے ہیں۔ جیسے تعلیم میں ناکامی ،ملازمت چھوٹنے کا درد سر وغیرہ۔

حل

خودکشی کے لوگوں میں بڑھتے رجحان کو دیکھ کر گذشتہ کچھ سالوں میں کچھ تحریکیں متحرک ہوئی ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے لائحہ عمل اور تجاویز پیش کرنے کے ساتھ عملی میدان میں بھی اتری ہیں۔ جیساکہ عالمی ادارئہ صحت WHO خودکشی کے واقعات میں سنہ2020 ء تک دس فیصد کمی لانا چاہتا ہے لیکن اس کے دائرے عمل میں صرف 28ممالک ہیں۔ برطانیہ میں خودکشی کے خلاف مہم چلانے والے ’’جانی بینجامن‘‘ کے مطابق خودکشی کے بارے میں لوگوں کی آگاہی ہونی چاہئے، انہیں علم ہونا چاہئے کہ خودکشی کا سوچنے والوں کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے۔ ساتھ ہی اسکولی سطح پر اس کے متعلق تعلیم ہونی چاہئے۔

جہاں تک خودکشی کے روک تھام کے لیے اسلامی تعلیمات کی بات ہے تو اسلام ایک طرف گذشتہ سطور میں بیان کیے گئے اسباب و عوامل سے پریشان افراد کے متعلقین، اعزاء و اقارب سے مطالبہ کرتا ہے کہ حتی المقدور ان کی الجھنیں ختم کی جانے کی کوشش کی جائیں،ان کے درد کا مداوا کیاجائے۔ والدین، اولاد، اہل خاندان، رشتہ دار، دوست اپنی اپنی ذمہ داری اداکرتے ہوئے ان کے لیے سامان سکون فراہم کریں، حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حقوق کی ادائیگی کرے، ان کی مشکلات و پریشانیوں کو دور کر کے اسے جرم عظیم سے بچنے کا ذریعہ بنے۔ وہیں گردش حالات سے مایوس و ناامید لوگوں کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔ درج ذیل سطور میں خودکشی کی روک تھام میں اہم کردار اداکرنے والی کچھ اسلامی تعلیمات اجاگر کی جاتی ہیں۔

خودکشی کی مذمت

زندگی اللہ کی طرف سے عطا کردہ انسانوں کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ دنیا اور اس کی نعمتیں انسانوں کی لطف واندوزی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ موت وحیات کا حق صرف اسی کو ہے اس میں کسی طرح کی دخل اندازی اس کے نظام کو چیلنج کرنا ہے، خودکشی بھی اس کے نظام موت وحیات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے جو ناقابل معافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سب سے پہلے خودکشی کی سخت مذمت کرتا ہے، اور لوگوں کو اس سے نفرت دلاتا ہے۔قرآن و احادیث میں اسے بزدلانہ عمل قرار دیا گیا ہے ، اللہ رب العالمین نے جان کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے ، ارشاد ہے :
وَلاَ تُلْقُواْ بِأَیْْدِیْکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃ۔(سورۃ البقرۃ:۱۹۵)
’’اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔‘‘
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ إِنَّ اللّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْما۔(سورۃ النساء:۲۹) ’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے۔‘‘
اسلام میں قبل از وقت موت کی تمنا کرنا بھی منع ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خودکشی کی اجازت دے۔ راوی حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولؐ نے فرمایا : لایتمنین احدکم الموت لضر نزل بہ ، فان کان لابد متمنیا للموت فلیقل اللھم احینی ماکانت الحیاۃ خیرا لی وتوفنی اذاکانت الوفاۃ خیرا لی۔(۲)
’’تم میںسے کوئی کسی مصیبت کے آنے سے موت کی تمنا نہ کر ے ،ہاں اگر موت کی تمنا کرنا ضروری ہوجائے تو کہے ،اللہ تو مجھے زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے اور مجھے وفات دے جب میرے لیے موت بہتر ہو۔‘‘

خودکشی کرنے والا جہاں اپنے ہاتھوں اپنی دنیا ختم کرلیتا ہے وہیں اسے آخرت میں سخت عذاب ہوگا۔
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال : قال رسول ﷺ من قتل نفسہ بحدیدۃ فحدیدتہ فی یدہ یتوجہ بھا فی بطنہ فی نار جھنم خالدا مخلدا فیھا ابدا ، ومن شرب سما فقتل نفسہ فھو یتحساہ فی نار جھنم خالدا مخلد ا فیھا ابد ، ومن تردی من جبل وقتل نفسہ فھو یتردی فی نار جھنم خالدا مخلدا فیھا ابدا ۔(۳)
’’راوی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولؐ نے فرمایا :جو شخص کسی لوہے سے اپنے آپ کو قتل کرلے تو وہ جہنم میںہوگا، اس کے ہاتھ میں لوہا ہوگا جس وہ اپنے پیٹ میں ہمیشہ ہمیش بھونپتا رہے گا ،اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو ہلاک کرلے تو وہ جہنم میں ہوگا اور ہمیشہ ہمیش زہر پیتا رہے گا اور جو پہاڑ سے گراکر کودکشی کرلے وہ جہنم ہوگا اور برابر گرتا رہے گا۔‘‘

اللہ پر ایمان

اللہ کی ربوبیت ، اس کی خالقیت ، مالکیت ، رزاقیت اور جملہ صفات حمیدہ پر ایمان جازم ایسی قوت و طاقت فراہم کرتا ہے جو دنیائے فانی میںہر طرح کی مصائب و مشکلات کے تھپیڑوں کے روبرو ہونے اور سامنا کرنے کا مادہ رکھتی ہے۔ جس کے اندر زمین و آسمان ، سورج ، چاند ، ستارے ، پہاڑ ، جنگل ، دریا، درخت ، حیوانات و نباتات کے خالق و مالک اور رازق کا تصور ہو وہ کبھی بھی دنیا کے چند ساعتوں کی مشکلات و مصائب سے گھبرا کر یا مایوسی و ناامید ی کا شکار ہوکر اپنی عزیز جان کا دشمن نہیں بن سکتا ہے۔ کیوں کہ اس کے علم میں ہوتا ہے کہ اللہ وہ ہے:لِلّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا فِیْہِنَّ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْر۔(سورۃ المائدۃ: ۱۲۰)
’’ اللہ ہی کی ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور ان چیزوں کی جو ان میں موجود ہیں اور وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔‘‘
اللَّہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْْء ٍ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ وَکِیْل۔(سورۃ الزمر:۶۲) ’’ اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے ۔‘‘
اس کا وعدہ ہے: وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ إِلاَّ عَلَی اللّہِ رِزْقُہَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَمُسْتَوْدَعَہَا کُلٌّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْن ۔(سورۃ ھود:۶)
’’زمین پر چلنے پھر نے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالی پر ہیں ، وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے کی جگہ بھی ، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے ۔ ‘‘

اس کا فرمان ہے :أَہُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَۃَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْْنَہُم مَّعِیْشَتَہُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُم بَعْضاً سُخْرِیّاً وَرَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُون۔(سورۃ الزخرف:۳۲)
’’کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں ؟ہم نے ہی ان کی زندگانئی دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو ماتحت کرلے جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے۔‘‘
اور حدیث نبویؐہے :لو انکم تتوکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقکم کما یرزق الطیر تغدوخماسا وتروح بطانا۔(۴)
’’اگر تم کما حقہ اللہ پربھروسہ کرنے لگوتو وہ تمہیں ایسے ہی رزق دے گا جیسے پرندو کو دیتا ہے جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو سیر ہوکر واپس آتے ہیں ۔ ‘‘

تقدیر پر ایمان

تقدیر پر ایمان (یعنی حیات مستعار میں رونما ہونے والی تمام واقعات و حادثات ، اس کے اعمال و افعال ، حرکات و سکنات کا کسی کتاب میں پہلے سے لکھا ہونا) ایمان خوشی و غمی ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرنے کا ہنر سکھاتا ہے ، پہاڑوں جیسی مصائب و مشکلات سے نبرد آزماہونے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے ۔ اس پر ایمان رکھنے والا شخص بخوبی واقف ہوتا ہے کہ اس کی مضبوطیاں ، اس کی کمزوریاں ، اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات و حادثات اس کے تقدیر کے حصے ہیں جو بحکم الہی ہے ، جو کتاب مبین میں پہلے سے مکتوب ہے ، جن پر نوحہ و ماتم اور جن سے راہ فرار اختیار کرنا لاحاصل عمل ہے ۔اس کے سامنے حکم الہی ہوتا ہے ۔:قُل لَّن یُصِیْبَنَا إِلاَّ مَا کَتَبَ اللّہُ لَنَا ہُوَ مَوْلاَنَا وَعَلَی اللّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُون۔(سورۃ البوبۃ: ۵۱)
’’آپ کہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے کہ کوئی چیز پہنچ ہی نہیں سکتی وہ ہمارا کارسازاور مولی ہے۔ مومنوں کو تو اللہ کی ذات پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔ ‘‘

مَا أَصَابَ مِن مُّصِیْبَۃٍ فِیْ الْأَرْضِ وَلَا فِیْ أَنفُسِکُمْ إِلَّا فِیْ کِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَہَا إِنَّ ذَلِکَ عَلَی اللَّہِ یَسِیْر۔(سورۃ الحدید:۲۲)
’’نہ کوئی مصیبت دنیا میںآتی ہے نہ (خاص)تمہاری جانوں میں ،مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے ۔ یہ (کام) اللہ تعالی پر (بالکل) آسان ہے ۔ ‘‘
وَاللَّہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُون۔(سورۃ الصافات:۹۶)
’’حالاں کہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے ۔‘‘
نبیؐ کا ارشاد ہے :کتب اللہ مقادیر الخلائق قبل ان یخلق السماوات والارض بخمسین الف سنۃ ۔(۵)
’’ اللہ تعالی نے مخلوقات کی تقدیر کو آسمانوں و زمین کی تخلیق سے پانچ ہزارسال پہلے ہی لکھ دیا ہے۔‘‘
کل شئی بقدر حتی العجز و الکیس۔(۶)
’’ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے یہاں تک بے وقوفی اور عقلمندی بھی۔‘‘

آخرت پر ایمان

آخرت پر سچا وپکا ایمان ( یعنی موت کے بعد دوبارہ ہماری بعثت ہوگی اور دنیا میں کئے گئے افعال و اعمال کے متعلق پر شش ہوگی ) انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرنے، اپنے اعمال کا جائزہ لینے کا احساس دلاتا ہے، اس کے اندر جواب دہی کا شعور پیدا کرتا ہے ، اور کسی بھی عمل کے انجام کے بارے میں غور و فکر کی ترٖغیب دیتا ہے ،ساتھ ہی اس کے انجام سے آگاہ کرتا ہے۔ آخرت پر ایمان رکھنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں اس کے تما م اعمال حسنہ و سئیہ کا محاسبہ ہوگا اور جس کا وہ جواب دہ ہوگا۔ لہذا کوئی بھی ایسے غلط قدم اٹھانے سے پہلے وہ غورو فکر کرے گا جس کا آخرت میں اس کے پاس جواب نہ ہو۔ اللہ کا فرمان ہے :إِنَّ إِلَیْْنَا إِیَابَہُمْ ۔ثُمَّ إِنَّ عَلَیْْنَا حِسَابَہُمْ۔ (سورۃ الغاشیۃ:۲۵۔۲۶)
’’بے شک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے ،پھر بے شک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔‘‘
وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْْئاً وَإِن کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَیْْنَابِہاوَکَفَیبِنَا حَاسِبِیْن۔(سورۃ الانبیاء:۴۷)
’’قیامت کے دن ہم درمیان میں لارکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازوکو،پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے لاحاضر کریں گے ، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔‘‘
َمن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُون۔(سورۃ الانعام:۱۶۰)
’’جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص بر اکام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہوگا ۔ ‘‘

حدیث نبویؐ ہے ۔ ان اللہ یدنی المؤمن فوضع علیہ کنفہ و یسترہ فیقول اتعرف ذنب کذا ، اتعرف ذنب کذا فیقول نعم ، ای رب حتی اذا قررہ بذنوبہ ، و رای فی نفسہ انہ ھلک قال : سترتھا علیک فی الدنیا وانا اغفرھا لک الیوم
فیعطی بہ کتاب حسناتہ ۔ واما الکافر والمنافقون: ’’ وَیَقُولُ الأَشْہَادُ ہَـؤُلاء الَّذِیْنَ کَذَبُواْ عَلَی رَبِّہِمْ أَلاَ لَعْنَۃُ اللّہِ عَلَی الظَّالِمِیْن ‘‘(ھود:۱۸)۔(۷)
’’اللہ تعالی مومن کو قریب کرے گا، اس کے اوپر اپنا جانب رکھے گا، اس کو چھپائے گا اور پوچھے گا کیا تمہیں یہ گناہ معلوم ہے ،کیا تم اس گناہ کو جانتے ہو ، تو وہ کہے گا،ہاں! اے میرے رب،جب وہ اپنے تمام گناہوں کو اقرار کرلے گا اور خیال کرے گا کہ وہ ہلاک ہوگیا تو اللہ کہے گا ، میں نے دنیا میں ان گناہوں کی ستر پوشی کی لہذا آج میں تمہارے لیے ان کو معاف کررہاہوں، اور اسے اس کا نامہ اعمال دے دیا جائے گا۔ جہاں تک کافر اورمنافق تو ان کے بارے میں (سارے گواہ کہیں گے کہ یہ وہ ولوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا ، خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر ۔ )‘‘

یہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد ہیں جن پر ایمان رکھنے والا شخص خودکشی کرنا تو درکنار خودکشی کا تصور یا اس جیسے حرکات و سکنات اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آئے گا۔ یہی وجہ کہ اسلامی ممالک میںجو ان عقائد پر ایمان رکھتے ہیں خودکشی کے واقعات نسبتا بہت کم واقع ہوتے ہیں۔
صبر سب سے بڑی طاقت ہے

پورے عزم و ارادے اور استقامت و پامردی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کا نام صبر ہے۔ صبر مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ ہر طرح کے غم ودکھ کا مقابلہ کرنے کا جوش و لولہ پیدا کرتا ہے ، اس کا پیکر مصائب و مشکلات کے طوفان میں پہاڑ کی طرح ثابت قدم نظر آتا ہے ،یہ مضبوط انسان کی پہچان ہے جب کہ نوحہ و ماتم کناں ہونا کمزوری و بزدلی کی دلیل ہے۔ اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ ہرطرح کے دکھ سکھ میں مرض و موت ، یاروں کے بچھڑنے کا غم ، برنس کا دیوالیہ ، فصلوں کی تباہی وغیرہ میں صبر کا دامن لازم پکڑا جائے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ اللہ کی نصرت و مد د ہوتی ہے : یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْن۔ (سورۃ البقرۃ :۱۵۳)
’’اے ایمان والو!صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو ، اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔‘‘
صبر سے متصف لوگوں کی قرآن و احادیث میں تعریف کی گئی ہے : وَالصَّابِرِیْنَ فِیْ الْبَأْسَاء والضَّرَّاء وَحِیْنَ الْبَأْسِ أُولَـئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوا وَأُولَـئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُون۔(سورۃ البقرۃ:۱۷۷)
’’تنگ دستی ، دکھ اور لڑائی کے وقت صبر کرے ، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پر ہیز گار ہیں ۔‘‘
حدیث نبویؐ ہے : عجبا لامر المؤمن ، ان امرہ کلہ خیر لیس ذلک لاحد الا المؤمن ان اصابتہ سرا ء شکر فکان خیرا لہ وان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ ۔ (۸)
’’مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے ،اس کے ہر کام میں خیر ہے ،یہ صرف مومن ہی کے لیے ہے ،اگر اسے خوشی نصیب ہوتی ہے تو وہ اللہ کا شکرگزار ہوتا ہے اور اگر تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے جو اس کے لیے بہتر ہے ۔‘‘

اطمینان قلب کے ذرائع

یہاں ذہنی سکون او ر قلبی اطمینا ن کے لیے اسلامی ذرائع پیش کیے جارہے ہیں ۔

قرآن کریم سے تعلق

دنیا کے الجھنوں سے مضطرب دلوں، پیاروں سے بچھڑنے والوں ، غم کے ماروں اور چین و سکون کے متلاشیوں کے لیے قرآن کریم ایسا ذہنی و قلبی اطمینان و سکون فراہم کرتا ہے جو اس کے علاوہ کہیں نہیں مل سکتا ہے۔یہ جہاں دھوکہ کھائے ہوئے لوگوں کے لیے باوفا دوست ہے وہیں امراض و مشکلات اور گردش ایام کے کھائے ہوئے ٹھوکروںسے چور کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، جملہ امراض عوارض سے نجات دہندہ ہے۔ ارشاد ہے :وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَاء وَرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ إَلاَّ خَسَارا ۔ (سورۃ بنی اسرائیل: ۸۲)
’’یہ قرآن جو ہم نازل کررہے ہیں مومنوں کے لیے تو سراسر شفا اور رحمت ہے ۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی ۔ ‘‘
یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء تْکُم مَّوْعِظَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاء لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْن۔(سورۃ النساء:۲۹)
’’اے لوگو!تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جوروگ ہیں ان کے لیے شفاہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔‘‘

یہ جہاں جسمانی امراض کے لیے نسخہ شفا ہے وہیں صدور و قلوب کے ہر شبہات و شہوات کا ازالہ کرنے والاہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ قرآن مجید ایسے دلائل و براہین سے پر ہے جو علم تصور اور ادراک کے ذریعہ سارے فاسد شبہات کو ختم کردیتے ہیں۔ اس میں ایسی حکمت و موعظت اور قصص ہیں جو ترغیب و ترہیب کے ذریعہ سے دلوں کا اصلاح کرتے ہیں۔ جو دل کو نفع بخش عمل کی طرف راغب اور مضر عمل سے نفرت دلاتے ہیں، جس کے سبب ایک باغی ، راہ راست کو ناپسند کرنے والا دل بغاوت کو ترک کر کے راہ راست کا خوگر ہوجاتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں اگر کوئی اپنے دل کا اصلاح کرنا چاہے تو وہ اسی طرح فطرت کی طرف لوٹ آئے گا جس طرح بدن مرض کے بعد حالت طبعی میں لوٹ آتا ہے۔ (۹)
یہی وجہ کہ صحابہ کرام اور سلف صالحین تلاوت قرآن کے ذریعہ ذہنی اضطراب دور کرتے تھے اور اپنی بیماروں کا علاج کیا کرتے تھے۔

ذکر و اذکار اور دعا

اللہ رب العالمین کی تسبیح و تحمید ، اس سے ہمہ وقت تعلق کا احساس ، اس کے سامنے دست بدعا ہوکر اپنی عاجزی و بے بسی کا اظہار اور اپنی پریشانیوں اور مشکلوں کو بیان کرکے اس سے فریاد کرنا جہاں اس کی نصرت و مدد کا موجب ہے وہیں اس سے انسان کو ذہنی و قلبی چین و سکون ، فرحت و انبساط نصیب ہوتی ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُہُم بِذِکْرِ اللّہِ أَلاَ بِذِکْرِ اللّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب۔(سورۃ الرعد: ۲۸)
’’جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوںکو تسلی حاصل ہوتی ہے۔‘‘
وَذَکِّرْ فَإِنَّ الذِّکْرَی تَنفَعُ الْمُؤْمِنِیْن۔(سورۃ الزاریات:۵۵)’اور نصیحت کرتے رہیں یقینا یہ نصیحت ایمان داروں کو نفع دے گی۔‘‘
ذکر کرنے والوں کو اللہ یاد کرتا ہے: فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُواْ لِیْ وَلاَ تَکْفُرُون۔(سورۃ البقرۃ:۱۵۲)
’’اس لئے تم میرا ذکر کرو ، میں بھی تمہیں یاد کروں گا ، میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو۔‘‘
حدیث نبوی ؐ ہے: لا یقعد قوم یذکرون اللہ الا حفتھم الملائکۃ وغشیتھم الرحمۃ ونزلت علیھم السکینۃ وذکرھم اللہ فیمن عندھم ۔(۱۰)
’’جب کوئی قوم اللہ کے ذکر کے لیے بیٹھتی ہے تو فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں ، اسے رحمت ڈھانپ لیتی ہے ، سکینت کا نزول ہوتا ہے اور اللہ اپنے پاس موجود مخلوق میں اس کا تذکرہ کرتا ہے۔‘‘

اذا تقرب عبدی منی شبرا تقربت منہ ذراعا و اذا تقرب منی ذراعا تقربت منہ باعا او بوعا واذا اتانی یمشی اتیتہ ھرولۃ ۔(۱۱)
’’جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک بازو قریب ہوتا ہوں اور جب وہ ایک بازو قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک بوع(دونوں ہاتھوں کے پھیلانے کی مقدار) قریب ہوتا ہوں ،اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑکے آتا ہوں۔‘‘

صدقہ و خیرات اور خدمت خلق

دماغی و ذہنی پریشانیوں میں الجھے ہوئے لوگوں کے لیے صدقہ و خیرات ،خدمت خلق ، مصیبت زدہ ، تنگدست ، بے سہارا اور نادار افراد کی جانب دست تعاون دراز کرنا چین و سکون حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس سے جہاں ایک انسان بے سہارا لوگوں کی مدد کرکے ان کی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور خدمت خلق کا فریضہ انجام دے کر ذہنی فرحت و انبساط محسوس کرتا ہے وہیں غریبوں اور نادار لوگوں کی اس کے اصلاح حال کے لیے دعائیں ملتی ہیں اور اللہ بھی اس سے خوش ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ فِیْ السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْن۔(سورۃ اٰل عمران:۱۳۴)

’’جو لوگ آسانی اور سختی کے موقعہ پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں ، اللہ تعالی ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُم بِاللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ سِرّاً وَعَلاَنِیَۃً فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِندَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُون۔(سورۃ البقرۃ:۲۷۴)
’’جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب تعالی کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگین۔‘‘
الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ ثُمَّ لاَ یُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُواُ مَنّاً وَلاَ أَذًی لَّہُمْ أَجْرُہُمْ عِندَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ۔(سورۃ البقرۃ:۲۶۲)
’’جو لوگ اپنا مال اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں نہ ایذادیتے ہیں ، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وہ اداس ہوں گے ۔‘‘
حدیث نبوی ؐ ہے :انفق یا ابن آدم فانفق فیک ۔(۱۱) ’’اے ابن آدم خرچ کرو میںتم پر خرچ کروں گا۔‘‘
ان الصدقۃ لتطفئی غضب الرب وتدفع میتۃ السوء ۔ (۱۳)
’’صدقہ رب کے غضب کو ٹھنڈا کردیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔‘‘

قال رسول ﷺ من نفس عن مومن کربۃ من کرب الدنیا نفس اللہ عنہ کربۃ من کرب یوم القیامۃ ،ومن یسر علی معسر یسر اللہ علیہ فی الدنیا والآخرۃ ،ومن ستر مؤمنا ستر اللہ فی الدنیا الآخرۃ ، واللہ فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ۔(۱۴)
’’نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو کسی مومن کی دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا اللہ اس کو قیامت کی مصیبتوں سے بچائے گا ،جو کسی مسلمان محتاج پر آسانی کرے گا اللہ تعالی اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا ،جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اور تعالی اس کی پردہ پوشی کرے گا ،اور جب تک بند ہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہے گا اللہ تعالی اس کی مدد میں لگا رہے گا۔‘‘

آخری بات

اسلام میں زندگی اللہ رب العالمین کی ایک بیش بہا نعمت سمجھی جاتی ہے ، یہ ایسی نعمت ہو جو صرف ایک بارنصیب ہوتی ہے ، زندگی کے گردش حالات اور اس کے موجوں کے تھپیڑو ں سے گھبرا کر خود اپنے ہاتھوں اپنی جان گنوادینا حماقت و بے وقوفی ہے۔ اگر اس کے دامن میں کئی محرومیاں ، تشنگیاں ، پریشانیاں اور دکھ ہیں تو اس کی نعمتوں ، محبتوں اور عنایتوں کی بہتا ت ہے۔
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً ، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرا۔(سورۃ الشرح:۵۔۶)
پس یقینا مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
اگر ہم خود اپنے ہنر سے سماج و معاشرہ کی چکڑ سے نکل کر اپنی دنیا آپ سجانا چاہیں ، اپنی خواہشات کو مختصر کردیں ، اپنی ضروریات کی فہرست چھوٹی کردیں ، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر قناعت کرنا سیکھ لیں اور اپنے حال پر مطمئن ہوجائیں تو ایک حسین و جمیل دنیا کی تخلیق کرسکتے ہیں اور فرحت و انبساط ، چین و سکون کے ساتھ زندگی کا لطف اٹھا سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ خواہشات اور ہوس کی دنیا میں ساری نعمتوں کی فراوانی کے باوجود چین و سکون اور اطمینان نصیب نہیں ہوتی۔

حوالہ جات

(۱)راشٹریہ سہارا ، ہندی ،دہلی.۰۲۔۱۲۔۲۰۱۷۔
(۲)ابو عبداللہ ، محمد بن اسماعیل ،صحیح بخاری ، کتاب المرضی: ۵۰۷۱۔
(۳)ابو الحسین،مسلم بن حجاج ، صحیح مسلم، کتاب الایمان:۱۷۵۔
(۴)ابو عیسی ،محمد بن عیسی ترمذی،جامع ترمذی ، کتاب الزھد :۲۳۴۴۔
(۵)ابو الحسین ، مسلم بن حجاج ، صحیح مسلم ، کتاب القدر : ۲۶۵۳۔
(۶)ابو الحسین ، مسلم بن حجاج ، صحیح مسلم ، کتاب القدر :۲۶۵۵۔
(۷)ابو عبد اللہ ، محمد بن اسماعیل بخاری ،صحیح بخاری، کتاب المظالم والغضب:۲۴۴۱ ۔
(۸)ابو الحسین ، مسلم بن حجاج ، صحیح مسلم ، کتاب الزھد :۲۹۹۹۔
(۹)ابن تیمیہ ، احمد بن عبد الحلیم ،امراض القلوب وشفائھا،ص۴۔
(۱۰)ابوالحسین ، مسلم بن حجاج ، صحیح مسلم ، کتاب الذکر :۲۶۹۹۔
(۱۱)ابوالحسین ، مسلم بن حجاج ، صحیح مسلم ، کتاب الذکر:۲۶۷۵۔
(۱۲)ابو عبد اللہ ، محمد بن اسماعیل ، صحیح بخاری ، کتاب النفقات :۵۳۵۳۔
(۱۳)ابو عیسی ، محمد بن عیسی تزمذی ، جامع ترمذی ، کتاب الزکاۃ : ۶۶۴۔
(۱۴)ابو الحسین ، مسلم بن حجاج ، صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعا:۲۶۹۹۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ممبئی میں طلبائی الیکشن

اکھیل اوکا جب کہ ایک پرجوش مہم کی سرگرمیاں زوروں پر تھیں ...