بنیادی صفحہ / رزم / خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
آج ہمارا معاشرہ جن مسائل سے دوچار ہے ان میں اخلاقی برائیوں کامعاملہ قابل تشویش ہے۔فحاشی و عریانیت، انٹرنیٹ کا بے لگام استعمال، بے پردگی و بے حیائی، عصمت دری کے واقعات، خواتین پر مظالم، جہیز، ہراسانی، سگریٹ نوشی اورمنشیات کا استعمال، جوا، سٹہ اور بے کار وقت گزاری کا معاملہ، سودی کاروبار، رشوت خوری، ہم جنس پرستی کی پرزور وکالت،وغیرہ نے علامہ اقبالؔ کے اس مصرعے کو سچ کردکھایاہے کہ ’’حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی‘‘۔افسوسناک بات یہ ہے کہ ان برائیوں میں بالخصوص نوجوان طبقہ بہت زیادہ ملوث پایا جاتا ہے۔
صورتحال کی سنگینی
ہندوستان میں جرائم کی شرح روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔اخلاقی زوال کی صورتحال تشویشناک ہوچکی ہے۔میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے سے فحاشی اور بے حیائی عام ہوتی جارہی ہے۔ پورنوگرافی (عریانیت) پر ہر سکینڈ تین ہزار ڈالر سے زائدخرچ کیے جارہے ہیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں ہر سکینڈ ۲۸؍ہزار سے زائد لوگ فحش سائٹس پر جاتے ہیں۔ ۱۲؍فیصد ویب سائٹس فحش مواد پر مشتمل ہیں۔ فحش ویب سائٹس کا کاروبار سالانہ ۱۳؍ملین ڈالر منافع حاصل کر رہا ہے۔حالیہ عرصہ میں ممبئی میں ہوئے اجتماعی عصمت دری کے واقعہ میں ملوث نوجوانوں کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ فحش ویب سائٹس دیکھنے کے عادی تھے۔ جہاں تک دوسری سماجی برائیوں کا تعلق ہے، ہندوستان میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ۲۰۱۲ ؁ء میں عصمت دری کے تقریباً پچیس ہزار واقعات درج ہوئے ہیں۔ جہیز ہراسانی کی وجہ سے ہونے والی اموات آٹھ ہزار سے زائد ہیں۔ عورتوں کی اہانت کے ۹؍ہزار سے زائد واقعات درج کیے گئے ہیں۔ملک میں شراب کے عادی سو اچھ کروڑسے زائد افراد پائے جاتے ہیں، اسی طرح سوا کروڑ کے قریب لوگ دوسری منشیات کی لت کا شکار ہیں۔ملک کے بارہ کروڑ لوگ سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ اسموکنگ کی وجہ سے ہونے والی اموات سالانہ ۹ ؍لاکھ بتائی گئی ہیں۔ہم جنس پرستی کی وبا بھی ہندوستان میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہے۔تعزیرات ہند کی دفعہ۳۷۷؍کے تحت اسے ایک جرم اور غیر قانونی فعل قرار دیا گیا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حزب اقتدار کے رہنماؤں سے لے کرحقوقِ انسانی کے نام نہاد محافظوں تک نے اس فیصلہ کا برا مانا اور ملک کے آوارہ خیال لوگوں میں اس فیصلہ کی وجہ سے صف ماتم بجھ گئی، یہ یقیناًملک میں بڑھتے ہوئے اخلاقی زوال کا ثبوت اور مذہب بیزاری ومغربی تہذیب کی اندھی پیروی کی ایک شرمناک مثال ہے۔
بے حیائی کے نمونے
اور اسلامی حل
زمانے میں بے حیائی کے کئی نمونے ہیں۔ حیا ایمان کا جز ہے اور بے حیائی شیطان کے ہتھکنڈوں میں سے سب سے اہم ہتھکنڈہ ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شیطان کی چالوں سے واقف ہوں اور اپنی جوانی کو داغدار ہونے سے بچائیں۔ اگر داغدار ہونے کا عمل شروع ہوچکا ہو، تو جلد سے جلد سچی توبہ کے ذریعہ ان داغ دھبوں کو دھوڈالنے کی سعی ہونی چاہیے۔ بعید نہیں کہ اللہ توبہ قبول فرمائے اور سےئات کو حسنات سے بدل دے۔اگلے سطور میں بے حیائی کے مختلف نمونوں کی طرف اشارات پیش کیے جارہے ہیں تاکہ ہم اپنا محاسبہ کر سکیں اور خود کی اصلاح کے ساتھ معاشرہ کی اصلاح کے لیے آمادہ ہوسکیں۔
ٹی وی کے مضر اثرات
ٹیلی ویژن کے جہاں بہت سے فوائد ہیں، وہیں اس سے زیادہ اس کے نقصانات ہیں۔بے حیائی کے فروغ میں ٹی وی کا بہت بڑا رول ہے۔ اس نے ہر گھر کو سینما گھر بنا دیا ہے۔ اس پر فحش گانے بھی نشر ہوتے ہیں اور بے حیائی کے مناظر بھی دکھائے جاتے ہیں۔ خوبصورت عورتوں کو منظر عام پر لاکر دعوت نظارہ دی جاتی ہے۔ٹی وی کے بے قید استعمال سے گھروں کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ خاص طور سے بچوں اور نوجوانوں کے ذہن اور کردار پر اس کا گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ یاد رکھیے کہ کان، آنکھ اور دل سب سے آخرت میں باز پرس ہوگی۔(بنی اسرائیل:۳۶)۔ ٹی وی کے بہت ہی محتاط استعمال کی ضرورت ہے۔با مقصد اور صاف ستھری ڈاکیومنٹریز سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ فلمی گانوں کے بجائے بچوں میں اچھی نظموں اور ترانوں کا ذوق پیدا کرنا چاہیے۔
انٹرنیٹ کی بے حیائی
ٹی وی سے زیادہ جس چیز نے دور حاضر میں بے حیائی کو فروغ دیا ہے وہ انٹرنیٹ ہے۔ انٹرنیٹ کے فوائد یقیناًہیں، لیکن اگر بے احتیاطی برتی گئی تو اس سے زیادہ نقصاندہ بھی کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔نظر شیطان کی تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ نظر بازی شہوت کو بھڑکاتی ہے اور آدمی غلط کاموں کی طرف راغب ہوتا ہے۔فحش سائٹس سے لطف اندوز ہونا آنکھوں کا زنا ہے۔ سماجی ویب سائٹس کا غیر ضروری اور غلط استعمال کرنا ایمان کے مغائر ہے۔قرآن نے مردوں اور عورتوں دونوں کو غض بصر (نگاہیں نیچی رکھنے)کا حکم دیا ہے(سورۂ نور: ۳۰۔۳۱)۔لہٰذا اس سے اجتناب اور محتاط استعمال ہی سے دونوں جہانوں میں عافیت ہے۔
ہم جنس پرستی
تعزیرات ہند کی دفعہ۳۷۷؍کے تحت ہم جنس پرستی ایک جرم اور غیر قانونی فعل ہے، جس پر ۱۰؍سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں ہم جنسیت کے لیے جس انداز سے وکالت کی جارہی ہے وہ اخلاقی زوال کی انتہا معلوم ہوتی ہے۔ازدواجی زندگی کا مرداور عورت کے ذریعہ وجود میں آنا خدا کی بنائی ہوئی فطرت ہے، اور اس سے بغاوت ایسا جرم ہے کہ آخرت سے پہلے دنیا ہی میں انسان کو اس کی سزا مل جاتی ہے ۔آج امریکہ اور مختلف مغربی ملکوں میں ہم جنسی کے نکاح کی یا تو قانونی طور پر اجازت دے دی گئی ہے یا وہ اس کی اجازت دینے کے قریب ہیں اور ہندوستان میں بھی اس کے جراثیم اپنا اثر دکھانا شروع کررہے ہیں۔اس وبا میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جب ملوث ہوئی تو اللہ نے اس قوم پر عذاب نازل فرمایا۔اس فعل کی وجہ سے عذاب الٰہی کا نزول ہی اس برائی کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔البتہ اس وبا کے جو نقصانات آج دنیا بھگت رہی ہے وہ ایڈز کی بیماری کی شکل میں ہے۔یہ بات میڈیکل دنیا میں پوری طرح تسلیم شدہ ہے کہ ایڈز کی بیماری کا بنیادی سبب ہم جنسی ، جنسی انحراف کے دوسرے طریقے اور پاکیزہ زندگی سے محروم ہونا ہے اور یہ اللہ کی طرف سے ایک طرح کا عذاب ہے۔ہم جنس پرستی کے علاوہ جنسی آزادی کے لیے وضع کردہ مغربی اصطلاحات اور تصورات بھی اسی قبیل کے ہیں جن میں بغیر شادی کے شادی شدہ زندگی گزارنا(live-in relationship)، Dual Income No Kids (DINKs)، Lesbians, Gays, Bi-Sexuals, Trans sexuals (LGBT)، وغیرہ کے آزادانہ تصورات کے فروغ کی پرزور کوشش کی جارہی ہے، جو علامہ اقبال ؔ کی زبانی ایسی آزادی ہے جو ظاہر میں تو آزادی ہے باطن میں گرفتاری۔ ہندوستانی فلمیں بھی ان تصورات کو فروغ دینے میں اپنا رول شروع کر چکی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طوفان بدتمیزی سے انسانیت کو بچایا جائے۔
منشیات ، ڈرگس اور سگریٹ نوشی
سوسائٹی کے بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ نئی نسل کا شراب اور عقل کو ماؤف کردینے والے ڈرگس کی بری عادت میں مبتلا ہوجانا ہے۔ شراب کا نشہ ایک خاص قسم کا سُرور پیدا کرتا ہے اور طبیعت کو عیش کوشی کی طرف راغب کرتا ہے، اس لیے ایک مرتبہ اس کی عادت پڑجاتی ہے تو پھر آسانی سے نہیں چھوٹتی۔ شراب کادوسرا روپ وہ ڈرگس (Drugs)ہیں جو محذّر یعنی عقل کو بے حس کرنے والے (Narcotic) ہیں۔ سگریٹ نوشی بھی اپنی اور دوسروں کی صحت کے لیے نقصاندہ ہے۔ سگریٹ نوشی یا تمباکو کا استعمال تباہ کن ہوتا ہے، گو کہ اس کے اثرات دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس سے پھیپھڑوں کا کینسر، ٹی بی اور دل کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ سگریٹ اور رتمباکو کے اشیاء پر یہ چیز مذکور بھی ہوتی ہے (smoking kills)کہ یہ جان لیوا ہوتے ہیں۔اسموکنگ کرنے والے اپنے پیسے بھی ضائع کرتے ہیں۔ اس لیے کہ نقصاندہ اشیاء پر مال صرف کرنا مال کاضیاع ہی ہوسکتا ہے۔سگریٹ نوشی ایک عادت بن جاتی ہے جس سے چھٹکارا آسان نہیں ہوتا۔ اسموکنگ سے ہونے والی اموات میں بھی روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ اسموکنگ کرنے والوں کے منہ سے بو آتی ہے جو دوسروں کے لیے بھی کراہت کا باعث بنتی ہے۔ یہ حالت نماز میں شرکت کے لیے بھی مانع ہوتی ہے، اس سے دوسرے نمازیوں کی نماز میں بھی خلل پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سے اجتناب ہی میں عافیت ہے۔قرآن و حدیث میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کے سلسلے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ قرآن نے شراب کی حرمت کی ایک اہم علت یہ بیان کی ہے کہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز سے روکتی ہے، اور یہ علت تمام مخدر عقل اشیاء میں پائی جاتی ہے کیونکہ وہ عقل کو بے حس کر کے اللہ سے غافل کردیتی ہیں،لہٰذا یہ ڈرگس خواہ ان کو جامد شکل میں استعمال کیا جائے یا ان کو رقیق بنا کر ان کے انجکشن لیے جائیں، حرمت ہی کے حکم میں ہیں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے:
’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘‘ (مسلم، کتاب الاشربہ) اور ابو داؤد کی حدیث میں یہ صراحت بھی ہے کہ : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر ایسی چیز سے منع فرمایاہے جو نشہ آور اور فتور پیدا کرنے والی ہو‘‘۔
حضرت عمر رضی الہ عنہ نے خمر کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے کہ : ’’خمر وہ چیز ہے جو عقل کو مغلوب کردے‘‘۔
جہاں تک سگریٹ نوشی کی بات ہے ، قرآن نے واضح حکم دیا ہے کہ’’اپنے ہاتھو ں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۹۵)۔ قرآن نے یہاں تک کہا ہے کہ ’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو‘‘ (سورۂ نساء: ۲۹)۔
حضورؐ نے بدبو دار اشیاء کے استعمال کے بعد مسجد میں داخل ہونے سے منع فرمایا ہے۔
کسبِ حرام۔سود کی لعنت،
جوا، لاٹری وغیرہ
بے حیائی کا ایک نمونہ اور بگاڑ کا ایک بنیادی سبب حرام کمائی ہے جس میں بری طرح لوگ مبتلا ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ کمانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے معیار زندگی کو بلند کرسکیں۔ موجودہ زمانہ میں جس حرام چیز نے معاشی زندگی کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، وہ سود (interest) ہے۔ قرآن نے سود کو صریح ظلم سے تعبیر کیا ہے۔ سود قرض دار پر صریح ظلم ہے اور سود کھانے والے کے اخلاق پر اس کے بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے اسلام نے اس کو شدید حرام قرار دیا ہے۔ حرام کمائی کا ایک ذریعہ جوا ہے جس کی نئی نئی شکلیں رائج ہوئی ہیں۔ مثلاً مٹکا، ریس، لاٹری ،وغیرہ۔ جو محض اتفاق (chance) کی بنا پر دوسرے کا مال حاصل کرنے کا یا اپنا مال دوسرے کے لیے کھودینے کا نام ہے۔ ہار حیت کا یہ معاملہ اس عدل کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے ۔اسی طرح لاٹری بھی جوئے ہی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔لاٹری کے ٹکٹ ہزاروں لوگ خریدتے ہیں اور ان میں سے گنے چنے لوگ بڑے بڑے انعامات حاصل کرتے ہیں۔ ہارنے والے کف افسوس ملتے رہ جاتے ہیں۔اسلام نے جوئے کو خواہ وہ کسی شکل میں ہو اخلاقی اور دیگر خرابیوں کی بنا پر حرام قرار دیا ہے۔ (المائدہ: ۹۰۔۹۱) کاروبارمیں جھوٹ اور مکر و فریب سے کام لینا ایک عام بات ہوگئی ہے۔نفع خوری کے ذہن نے ملاوٹ کی ایسی ترکیبیں ایجاد کی ہیں کہ خریدار کے لیے ملاوٹ کا اندازہ کرنا دشوار ہوگیا ہے۔قرآن نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے ۔ (سورۂ مطففین:۱ ۔ ۶ ) کاروبار کرنے والے اپنے خریداروں کو دھوکہ بھی دیتے ہیں۔جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دھوکہ دینے والے کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔الغرض مال کمانے کے جتنے بھی غلط طریقے رائج ہیں، وہ سب ناجائز ہیں اور بے حیائی کا مظہر ہیں۔ ان سب سے بچنا ضروری ہے۔
کرپشن
کرپشن میں ہمارا ملک ساری دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے، حرص و ہوس گویا ہماری رِیت و پہچان بنتی جارہی ہے اور اس کا بہترین مظاہرہ ہمارے صاحب اقتدار اور اہل ثروت سیاست دان اور کارپوریٹس کر رہے ہیں۔ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک ، چپراسی سے لے کر اعلیٰ افسران تک ، سرکاری یا غیر سرکاری ادارے ، فوج ہو یا پولیس، تعلیم گاہ ہو یا اسپتال، غرض زندگی کے ہر شعبہ میں یہ مرض سرایت کر گیا ہے۔ عام شہری کے لیے کوئی معمولی کام یا جائز حق کا حصول رشوت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔قرآن مجید میں ہے:
’’اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقے سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے‘‘۔ (البقرہ:۱۸۸)حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دو ٹوک انداز میں رشوت کی مذمت کی ہے:
رشوت دینے اور لینے والے دونوں جہنمی ہیں۔ (حدیث)
جہیز کی لعنت
جہیز کا مطالبہ مرد کی غیرت کے خلاف ہے اور بے حیائی کا بے باک مظاہرہ ہے۔ اللہ نے مرد کو عورت پر قوّام اس بنا پر بنایا ہے کہ وہ دینے والا اور خرچ کرنے والا ہوتا ہے نہ کہ لینے والا۔حدیث میں بھی یہی بات ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔جہیز ہندوانہ رسم ہے جسے مسلمانوں نے اختیار کرلیا ہے۔ حالانکہ اسلام میں جہیز کے مطالبے کی گنجائش نہیں۔ فاطمی جہیز حضرت علیؓ کے مال سے ادا ہوا تھا، جس کو بنیاد بنا کر مروجہ جہیز کے جواز کی صورت نہیں نکالی جاسکتی۔ ملت کے نوجوانوں کو باغیرت ہونا چاہیے اور اس عام بے حیائی سے خود کو اور دوسروں کوبچانا چاہیے۔
اسراف ، فضول خرچی اور صارفیت
لوگ جس طرح کمانے میں حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتے اسی طرح خرچ کے معاملے میں بھی شرعی حدود کا لحاظ نہیں کرتے۔کبھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں جو اسراف ہے اور کبھی فضول کاموں میں دولت لٹاتے ہیں جو تبذیر یعنی فضول خرچی ہے۔ شادی بیاہ کی تقریب میں مسرفانہ اخراجات تو ایک عام سی بات ہے۔امیر ہو یا غریب اس موقع پر سب فضول خرچی پر اتر آتے ہیں کیوں کہ ان کے جذبات کی تسکین کا سامان اس کے بغیر ہونہیں سکتا۔ آج کل ایک اور وبا جو اسراف ہی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے وہ صارفیت ( consumerism)ہے۔ مغربی دنیا نے انسانوں کو دنیا پرستی میں اس قدر مشغول کر دیا ہے کہ ان کے لیے اپنی حقیقی ضرورتوں اور غیر ضروری اشیاء میں فرق کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ لہٰذا ہر غیر ضروری چیز بھی خریدی جانے لگی ہے۔ میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعہ کمپنیاں اپنے پروڈکٹس کی اس قدر تشہیر کرتی ہیں کہ انسان اس کو اپنی ضرورت شمار کرنے لگتا ہے۔ ایک کمپنی کا پروڈکٹ خریدا گیا ہے تو دوسری کمپنی کے اور بہتر پروڈکٹ حاصل کرنے کی تمنا پیدا ہوجاتی ہے۔ نوجوان برانڈ کے پیچھے بھاگنے لگے ہیں۔یہ اسی اسراف کی ترغیب ہے جس کی اسلام نے سخت الفاظ میں ممانعت کی ہے:
’’فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کابڑا ہی ناشکرا ہے۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل:۱۷)
بد اخلاقی۔زبان کی بے احتیاطی
آج معاشرہ میں ایک بڑی معصیت گالم گلوج ہے جس میں ہمارے نوجوان بڑی بے باکی کے ساتھ ملوث ہوتے ہیں۔ یہ موجودہ ماحول میں جاہلوں کا تکیہ کلام ہے اور جھگڑے کی صورت میں تو وہ پوری طرح بے حیائی پر اترآتے ہیں اور ایسی فحش گالیاں دینے لگتے ہیں کہ شریف آدمی شرم کے مارے پانی پانی ہوجائے۔ حدیث میں ہر قسم کے گالم گلوج کو فسق (اللہ کی نافرمانی)کہا گیا ہے:
سباب المسلم فسوق (بخاری کتاب الادب) ’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔‘‘
اور یہ لوگ شاید اس بات سے بے خبر ہیں کہ آدمی اپنی زبان سے جو لفظ بھی نکالتا ہے اسے فرشتہ فوراً نوٹ کر لیتا ہے اور قیامت کے دن وہ اپنے اعمال نامہ میں ان گالیوں کو بھی پڑھیں گے جو انہوں نے دی تھیں۔ اس وقت انہیں احساس ہوگا کہ انہوں نے اپنی زبان سے ایسے فحش اور بے ہودہ کلمات نکال کر گناہوں کا کتنا بڑا بوجھ اپنے سر لیا ہے؟ کاش وہ اپنی زبان کو پاک رکھ لیتے!
بے حیائی کا اسلامی حل:
تقویٰ کی زندگی
تقویٰ یہی ہے کہ آدمی برائیوں کے سیلاب میں خود کو محفوظ رکھے۔ صراط مستقیم پر گامزن ہونے کے لیے خاردار جھاڑیوں سے دامن کو بچانا ہی تقویٰ ہے۔اگر دنیا کی بے ثباتی کا احساس ہوگا کہ ’’آدمی ایک بلبلہ ہے پانی کا‘‘اور حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے جس کی حقداری کے لیے دنیا میں امتحان لیا جارہا ہے تو آدمی خود پر قابو پاسکتا ہے جس کو قرآن نے صبر کا نام دیا ہے، تو یہ ممکن ہے کہ آدمی برائیوں سے بچا رہے۔ آخرت کی فکر ہوگی، خدا کے حضور جوابدہی کا احساس قوی ہوگااور اللہ کی جنت اوراس کے انعامات کی امید اور چاہت ہوگی تو دنیا کی معصیتوں سے بچنا آسان ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ نے جنت کا انعام ان لو گوں کے حق میں لکھ رکھا ہے جو دنیا میں اپنے نفسانی خواہشات پر قابو رکھتے ہیں، اور رب کے حضور جوابدہی کے احساس سے ڈرتے ہیں (النازعات: ۴۰)۔ اس کے برعکس اللہ نے یہ بات کہی کہ جو لوگ سرکشی اختیار کرتے ہیں اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں ان کے لیے جہنم ہی ٹھانا ہوگی (النازعات: ۳۷۔۳۹)۔
ملک کے نوجوانوں کو عمومی طور پر اور ملت کے نوجوانوں کوخصوصی طورپربے حیائی کی اس وبا سے محفوظ رکھناوقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسلم نوجوانوں کے کردار کی تعمیر کے لیے فضا ہموار کریں، مغربی کلچر کے مضر اثرات سے انہیں واقف کرائیں اور اس سے اجتناب کے لیے آمادہ کریں، فحاشی و عریانیت، فیشن ،نشہ آور اشیا کا استعمال، صارفیت اور دیگر منکرات کے نقصانات سے آگاہ کریں، اخلاقی برائیوں میں ملوث نوجوانوں کی اصلاح کے لیے کوشش کریں اوراپنی اصلاح کے ساتھ معاشرہ کی برائیوں کے ازالے کے لیے مسلم نوجوانوں کو تیار کریں۔اس تناظر میں ایک عہد نامہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ اس عہد نامہ پر غور فرمائیں۔ اپناا احتساب کریں اور اس کے مطابق ذاتی طور پر تنہائی میں عہد کریں، امید ہے کہ ہماری جوانیاں داغدار ہونے سے بچ سکتی ہے ۔
جوانی کو بے داغ رکھنے کے لیے آئیے ہم عہد کریں کہ:
ء خدا سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں گے، آخرت کی جوابدہی کو یاد رکھیں گے، قرآن کا سمجھ کر مطالعہ کریں گے۔
ء صالح نوجوانوں کی صحبت اختیار کریں گے، بری صحبت کو اختیار کر کے اپنی جوانی کو برباد نہیں کریں گے۔
ء خود کو خدمت خلق ،سماجی فلاح و بہبود اور دینی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں گے۔
ء سماجی برائیوں سے خود بھی رکیں گے اور دیگر نوجوانوں کو بھی روکیں گے اور معاشرہ کی اصلاح میں سرگرم حصہ لیں گے۔
ء رشوت خوری کی ہمت شکنی کریں گے۔ نہ رشوت لیں گے اور نہ رشوت دیں گے۔
ء جوا، سٹہ ،لاٹری ، وغیرہ میں ملوث نہیں ہوں گے۔
ء بیڑی ،سگریٹ ،گٹھکا ،نشہ آور اشیاء اورڈرگس وغیرہ سے دور رہیں گے اور اپنے دوستوں کو بھی دور رکھیں گے۔
ء اپنی وسعت کے لحاظ سے ضروریات متعین کریں گے۔ سودی قرضوں کے بوجھ میں گرفتار نہیں ہوں گے۔ صرف ضرورت کی حد تک اشیاء خریدیں گے۔ محض اپنی شان کے لیے کوئی چیزنہیں خریدیں گے۔
ء اپنی شادی میں سادگی کا لحاظ رکھیں گے۔ دینداری کو ترجیح دیں گے ۔ جہیز کا ہر گز مطالبہ نہیں کریں گے، اور نہ مطالبہ کرنے والوں کی ہمت افزائی کریں گے۔
ء اپنی نظریں نیچی رکھیں گے۔ ڈیٹنگ (dating)، غیر محرم سے چیٹنگ (chatting)، لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ ،وغیرہ جیسی قبیح حرکتیں نہیں کریں گے۔
ء فحاشی و عریانیت کی طرف لے جانی والی ساری سرگرمیوں سے خود کو دور رکھیں گے۔
ء ٹی وی، موبائل فون اور انٹرنیٹ کا بے لگام استعمال نہیں کریں گے۔
ء سڑکوں میں آوارہ گردی اوربیکار گپ شپ نہیں کریں گے۔
ء فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سماجی ویب سائٹس کے غیر ضروری اور غلط استعمال سے بچیں گے۔
ء اپنا مال غلط کاموں میں نہیں لگائیں گے ، نمود و نمائش پر خرچ نہیں کریں گے اور نہ فضول خرچی کریں گے۔
ملت کے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اسلامی اجتماعیت سے وابستہ ہوکر اپنی جوانی کو اللہ کے دین کی خاطر لگائیں اور دنیا و آخرت میں کا میابی سے ہمکنار ہوں۔یاد رکھیے !اللہ کے دین کی خدمت جوجوانی میں کی جاتی ہے وہ قیامت کے روز عرش کے سایہ میں جگہ پانے کی ضمانت ہے۔زندگی برف کی طرح گھلی جارہی ہے۔ اپنی قوت، صلاحیت اور جوش و جذبہ میں کمزوری کے آنے سے پہلے اپنی جوانی کو غنیمت جان کر اللہ کی خاطر اپنی زندگی لگانے کے لیے کمر بستہ ہوجائیے۔ علامہ اقبالؔ کی زبانی وہی نوجوان قابل ستائش ہے جس کی جوانی بے داغ ہے اور جس کی جدوجہد غیرمعمولی ہو۔ ؂
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہو بے داغ، ضرب ہو کاری
لئیق اللہ خاں منصوری،
اسسٹنٹ کوآرڈی نیٹر، یوتھ ونگ، حلقہ کرناٹک

([email protected])

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر حملہ : حقیقت کیا ہے

اسامہ حمید اے ایم یو، علی گڑھ بات شروع ہوئی، علی گڑھ ...