بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ بین الاقوامی / خدایا تیری یہ دنیا اس قدر بے حس کیوں ہوگئی؟

خدایا تیری یہ دنیا اس قدر بے حس کیوں ہوگئی؟

۱۶؍ مئی ۲۰۱۵ ؁ء بروز سنیچر مصر کی درندہ خصلت عدالت نے سرزمین مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی پھانسی کا فیصلہ سنا دیا۔ اور اسے توثیق کے لیے مصر کے مفتی عام کے پاس بھیج دیا۔
یہ سیاہ فیصلہ نہ صرف ڈاکٹر محمد مرسی کی پھانسی کا ہے بلکہ مزید ایک سو سے زائد اخوانی رہنماؤں کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں اخوان المسلمون کے مرشد عام شیخ محمد بدیع، اور انٹرنیشنل یونین فار مسلم اسکالرس کے صدر علامہ یوسف القرضاوی بھی شامل ہیں۔
صدر مرسی کے بیٹے اسامہ مرسی نے یہ فیصلہ سن کر کہا:
(یہ فیصلہ ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہے۔ مگر ظالموں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس فیصلے سے ہمارے عزائم پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں! اس سے نہ ہمارے قدم ڈگمگانے والے ہیں، نہ صدر مرسی کے! نہ مصر کی تحریک آزادی اس سے کمزور پڑنے والی ہے!)
انہوں نے مزید کہا:
(مصر کی اس تحریک آزادی کا محور کبھی اشخاص نہیں رہے ہیں!)
یہ سیاہ فیصلہ سنائے جانے سے چند ہی لمحے پہلے صدر مرسی کی زبان سے یہ تاریخی الفاظ سنے گئے:
(جو لوگ اس راہ میں شہید ہوچکے ہیں، میری جان ان سے زیادہ قیمتی نہیں ہے! اس تحریک کی جڑیں سیکڑوں شہداء4 کے خون سے سیراب ہوچکی ہیں، میرا خون بھی ان کے خون میں مل کر اس کی توانائی میں اضافہ کرے گا!!)
شاعر اسلام نے سچ فرمایا:
آئین جواں مرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی!
اس موقع پر شیراسلام ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کے فرزند ارجمند اسامہ مرسی نے جو بیان دیا، ہم ان سے اسی طرح کے بیان کی توقع کرسکتے تھے!
ظاہر ہے شیر ہو، یا شیر کا بچہ! وہ کبھی گیدڑ نہیں بن سکتا!
ہمیں یقین ہے یہ بیانات تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔
ہم صدر مرسی ، ان کے شیر دل بیٹے اسامہ مرسی، اور ان کے تمام شاہیں صفت ساتھیوں پر جان ودل سے فدا ہیں۔ اور انہیں دل کی گہرائیوں سے عقیدت ومحبت کا سلام بھیجتے ہیں۔
مگر خدایا! یہ تیری دنیا اس قدر بے حس کیوں ہوگئی؟ کہیں سے کوئی صدائے احتجاج نہیں، جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو! یا سب کے سب موت کی نیند سوگئے ہوں!
خدایا! کیا یہ انسانیت کے مکھن، اور تمام انسانوں کے دردمند اتنی آسانی سے خاک میں ملادیئے جائیں گے؟ کیا اب تیری اس زمین پر صرف کتے، بھیڑیئے اور سانپ بچھو ہی راج کریں گے؟
کیا اب یہاں شریف انسانوں، اور انسانیت کے دردمندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی؟
اے خدائے کریم!
اے رب رحیم!
اے رب العالمین!
توانسانیت کے ان روشن چراغوں کو بجھنے سے بچا لے!
تو اس دنیا کو تاریکیوں میں بھٹکنے کے لیے مت چھوڑ!
خدایا! تو ان ظالموں کا بیڑا غرق کردے۔ تو انہیں دریائے نیل کی اتنی گہرائیوں میں پہنچادے کہ یہ دوبارہ سر نہ اٹھاسکیں!
آمین آمین یا رب العالمین

ڈاکٹر محمد عنایت اللہ اسد سبحانی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اسلام دین فطرت ہے

کونسلنگ کے لیے اک ہندو لڑکا مجھ سے کچھ دنوں سے فون ...