بنیادی صفحہ / سخن / محفل / خاص کام : خوش رہنا سیکھیں

خاص کام : خوش رہنا سیکھیں

نفسا نفسی اور مادہ پرستی کے اس دور میں جدید تہذیب کا ایک تحفہ ذہنی دباؤ بھی ہے۔ ہر انسان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ۔ بہت کم خوش نصیب ایسے ہوں گے جو اس کیفیت سے نہ گزرتے ہوں ۔یہ احساس کی ایک ایسی لہر ہے جس میں جکڑ کر نہ جانے کتنے لوگ اپنی الگ ہی دنیا میں گم نظر آتے ہیں۔کالج میں، بازار میں، آفس میں غرض کتنے ہی ایسے چہرے آپ کو نظر آئیں گے جو فکر میں ڈوبے اور سوچتی آنکھوں سے معمول کا حصہ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ بظاہر سب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی دنیا سے کٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، غیر محسوس انداز میں اُن کی الجھن آمیز آنکھوں سے عیاں ہوتا ہے کہ زندگی ایسی سادہ تو ہرگز نہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ ایسا صرف ان چند افراد کے ساتھ ہی نہیں بلکہ دانستہ یا غیر دانستہ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب حالات اُس کی منشاء کے مطابق نہ ہوں تو گھبرا اُٹھتا ہے اور نااُمیدی اور مایوسی میں گھرتا چلا جاتا ہے اور بعض اوقات یہ کیفیت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ انسان خود کشی کے بارے میں بھی سوچنے لگ جا تا ہے۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری زندگی حاصل و لاحاصل کا مجموعہ ہے سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم چاہتے ہیں اور بہت کچھ ایسا بھی ہوتا ہے جو ہمیں بن چاہے مل رہا ہوتا ہے۔اگر دستیاب وسائل سے ہم لطف اندوز نہ ہوں اور اپنے ماضی کی تلخیوں یا مستقبل کے مسائل کو سوچ کر اپنے آج کو بلا مقصد گزار دیں تو یقیناً یہ ایک بڑا خسارہ ہے۔ کیونکہ بڑے سے بڑا حادثہ آخر کار ماضی کا حصہ بن جاتا ہے اور ماضی کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ کل کی بہ نسبت آج کا انسان زیادہ پریشان اور رنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ کل ہمارے پاس اگر اتنے وسائل نہیں تھے تو اتنے مسائل بھی نہیں تھے۔ وہ ہم سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود ہم سے زیادہ خوش اور مطمئن نظر آتے تھے۔اس کی اہم وجہ ہم خود ہیں۔ہم جو حاصل نہیں ہے اسے چھوڑ کر جو حاصل ہے اس پہ غور کریں تو یقینا یہ بات بھی ہمارے لئے باعث اطمینان ہو گی۔ مانا کہ زندگی میں غم بھی آتے ہیں مگر یہ کیا کہ بس ہم انہیں کا رونا روتے خوشیوں کے مواقع کھو دیں۔ جس طرح ہم چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو مناتے ہیں اگر خوشی کو منائیں تو یہ پریشانیوں کے لمحے ہمیں نظر ہی نہ آئیں۔ قرآ ن کی روشنی میں اہل ایمان کی خصوصیت یہی ہے کہ ان کی زندگی میں کوئی خوف یا رنج کا موقع نہیں۔ یہ زندگی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اور ذہنی دباؤ جیسے خود ساختہ مسائل سے باہر نکل کر ایک خوشگوار زندگی کی اساس ڈالنی چاہیے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

دعوت اور داعیانہ کردار

کوئی دعوت بھی اگر صرف لفظی دعوت ہو اور اس کے ساتھ ...