بنیادی صفحہ / ذکر / حسنِ ظن

حسنِ ظن

ڈاکٹروقار انور

عن ابی ہریرہ قال : جاء رجل الی النبی ﷺ فقال : ان فلانا یصلی باللیل فاذا اصبح سرق؟ قال : انہ سینھا ہ مایقول (السلسۃ الصحیحہ حدیث نمبر 589)
ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ؐ کے پاس آیا اور کہا : فلاں شخص رات کو قیام کرتا ہے اور صبح کو چوری کرتا ہے، تو آپ ؐ نے فرمایا : عنقریب وہ باز آجائے گا۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عنقریب شخص مذکورہ چوری سے باز آجائے گا۔ دوسرے لفظوں میں راتوں کو قیام کرنے والے اس شخص کی عبادتیں اسے توبہ کے در تک پہنچا دیں گی اور دن کی چوری کے کام کو وہ ترک کر دے گا۔

یہاں تک ایک خاص شخص کا معاملہ ہے جس کا ذکر آں حضرتؐ سے کیا گیا کہ وہ مجموعہ اضداد بنا ہوا ہے اور قیام اللیل اور سرقہ دونوں میں مبتلاء ہے۔ اس حدیث کے ذریعہ نبی ؐ نے خبر دی ہے کہ اس کی اصلاح ہو جائے گی۔ متعین شخص کے سلسلہ میں ایسی خبر دینا صرف ایک نبی کے لیے ممکن ہے جن کے پاس غیب سے کسی خاص معاملہ کی اطلاع اللہ تعالیٰ کی طرف سے فراہم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اس موقف میں کوئی غیر نبی نہیں ہوتا ہے اس لئے اس کی طرف سے اس موضوع پر امکان یاد عاء کے انداز میں کوئی بات کہنا ہی ممکن ہے لیکن یقینی علم کے طور پر خبر دینا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ ہمارے لیے صرف ایک ہی صورت بچتی ہے کہ حسن ظن یا غیر حسن ظن سے کام لیں اور رائے کا اظہار کریں۔ اس سلسلہ میں قرآن و سنت کی تعلیم یہ ہے کہ حسن ظن سے کام لیا جائے اور بدظنی سے بچا جائے۔ درج بالا حدیث سے بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔

قرآن کریم کی بہت ہی مشہور آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ بیشک نماز فحش اور منکر سے روکتی ہے (العنکبوت آیت 45) ۔ اس آیت کی تشریح میں آں حضرت ﷺ کی احادیث مبارکہ اور اصحاب کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کے آثار میں جو باتیں بتائی گئی ہیں اس کا ماحصل یہ ہے کہ جن نمازوں سے فحشات اور منکرات دفع نہ ہوں وہ نمازیں خود بے سود اور قابل رد ہیں۔ اس کے برعکس درج بالا حدیث میں جس نماز کا ذکر ہے وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہے کہ راتوں کی نمازیں دن میں کی جانے والی معصیت پر غالب آگئیں۔

اوپر قرآن کی ایک آیت میں جس نماز کا تذکرہ ہے اس سے مرادروزوشب کے فرائض ، دن کی سنتیں اور رات کے نوافل یعنی تمام نمازیں ہیں۔ درج بالا حدیث میں جس کردار کا ذکر ہے اس کی صفت یصلی باللیل یعنی رات کی نمازیں پڑھنے والا بتائی گئی ہے۔ یہ د راصل تہجد کا ذکر ہے۔ اگر کسی بندے کو فرائض کے ساتھ دیگر سنت و نوافل کی توفیق مل جائے اور اس میں بھی تہجد کا حسین عمل اس کا معمول بن جائے تو یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔

اس حدیث میں ایک غیر معمولی بات نوٹ کرنے کی ہے ۔ اس شخص نے اپنی روزی کا ذریعہ چوری کو اختیار کیا تھا جس کا سب سے اچھا وقت رات کا ہوتا ہے۔ یعنی جس وقت دیگر چور اپنی کارگذاری میں لگے رہتے ہیں اس وقت یہ شخص تہجد کی نمازوں میں اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا تھا اور دن میں جب دوسرے چوروں کا معمول سونے کا ہوتا ہے اس وقت وہ اپنی روزی کے لیے سرگرداں ہوتا تھا۔ خداوند قدوس سے اس کا یہ مضبوط تعلق بالآخر نتیجہ خیز ہوا اور اس نے روزی کے اپنے فاسد طریقہ کو رد کر دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ اس کے آج کے عمل کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جو شخص آج کوئی برا کام کر رہا کل اس برائی کو چھوڑ کر اچھا بن سکتا ہے۔ اسی طرح اس بات کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ آج کا اچھا شخص کل گناہوں میں ملوث ہو کر برا بن سکتا ہے۔ اس لیے درست طرز عمل یہ ہے کہ آدمی خود اپنی خیر منائے اور دوسروں کے سلسلہ میں حسن ظن رکھے۔ حسن ظن میں دعائے خیر مضمر ہے جس کا مطلب اپنے اور دیگر انسانوں کی بھلائی کی تمنا کے ساتھ رجوع الی اللہ کرنا ہے اور یہی درست مزاج ِ دین ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

مثالی ازدواجی زندگی کا خاکہ ( سیرت امہات المومنین کی روشنی میں)

ابوالاعلی سید سبحانی اسوۂ حسنہ سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ...