بنیادی صفحہ / نظر / جنسی بے راہ روی اور نوجوان

جنسی بے راہ روی اور نوجوان

غلام صمدانی، ناندیڑ

جنسی شعور انسان کی عمر کے ۱۵ سال کے بعد جوش کھاتا ہے ۔ اس کی چند علامتیں ہیں جیسے آواز کی تبدیلی (آواز کا پھٹنا)،مونچھیں نمودار ہونا،قد میں اضافہ ہونا ،بے چینی پائی جانا،تعلیمی اور تدریسی مصروفیات میں دل کا نہ لگنا وغیرہ۔اس کے ساتھ ساتھ اس عمر(یعنی ۱۵ سے ۲۵ سال کی عمرجسے عنفوان شباب کہا جاتا ہے )میں فرد میں خود مختاری کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ اسے کسی کا ٹوکنا صحیح نہیں لگتا بلکہ کوئی اسے اپنائیت سے غلط بات بھی بتادے تو وہ اسے قبول کرلیتا ہے۔وہ اپنے آپ کو پورے انسان کی حیثیت میں دیکھنا شروع کرتا ہے ۔دوسری اہم بات یہ کہ وہ اس عمر میں جن شخصیات سے متاثر ہوتا ہے ان کی پرستش کی حد تک چاہت بڑھالیتا ہے ۔یہ شخصیات سنیما، کھیل ،سیاست،مذہب وغیرہ میں سے کسی بھی بنیاد پر کام کرنے والی ہو، اس کے ذہن پر جس شخصیت نے اپنا نقش ڈال دیا بس وہ اسے حرف آخر سمجھنے لگتا ہے ۔جو شخص اس کی پسندیدہ شخصیت پرتنقید کرے یااس سے اتفاق نہ کرے اس سے وہ لڑنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔اسی ر ویے کو ہیرو ورشپ Hero Worship کہا جاتا ہے ۔اس عمر کا فائدہ اٹھا کر بعض تنظیمیں لڑکوں کو کسی خاص مذہب کی ،مذہبی شخصیات کی برائیاں بتلاکر ان سے بد ظن بھی کر دیتی ہیں اور اس کے بالمقابل ان کی پسندیدہ شخصیات کا نقش ان بچوں کے ذہن پر بٹھادیتی ہیں ۔مثال کے طور پر آرایس ایس میں داخل اس عمرکے بچے زندگی بھر بلاسوچے سمجھے اسلام دشمن اور ہندو مذہب کے متوالے بن جاتے ہیں۔ پھر بھی اس عمر کا یہ استعمال جنسی استحصال میں نہیں آتا یا اسے جنسی بے راہ روی بھی نہیں کہا جاسکتا۔لیکن بہر حال یہ عمر حد درجہ سنبھالنے کی چیز ہوتی ہے ۔

اس عمر میں افراد کوجنسی عمل بالخصوص ان کے خود کے ماں باپ کا جنسی عمل کیسا ہوتا ہوگا؟ وہ کیا کرکے افزائش نسل کرتے ہوں گے ؟اس بارے میں بے حد تجسس رہتا ہے۔راتوں میں جب ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کہ بچے سوچکے ہیں اس عمر کے افراد (لڑکے اور لڑکیاں ) ماں باپ کی چھپی گفتگو سننے اور ان کے اقدامات کوسمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ بظاہر سورہے ہوتے ہیں لیکن انتہائی بیدار مغزی کے ساتھ وہ اپنے ماں باپ کے رویے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ جانکاری کی یہ خواہش ان کے لئے غلط حلقوں میں دلچسپی لینے کا سبب بنتی ہے اور دو چار تجربہ کار ان سے بڑی عمر کے لوگوں سے وہ اپنی جنسی بھوک کو ختم کرکے بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔اس عمر میں ذمہ داری کا احساس ، مکمل انسان ہوجانے کا احساس ، والد کے کپڑوں کو پہن کر دیکھنے کا عمل ، والد کے جوتے پہن کر دیکھنے کا عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ اس عمر میں داخل ہوچکے ہیں کہ ان کو بنیادی جنسی عمل صحیح طور سے سمجھایا جائے۔ ان کو ان کے فطری اعضاء کا صحیح استعمال کب اور کس طرح کرنا ہے، کن چیزوں سے احتیاط برتنی ہے یہ سب باتیں ماں باپ ،خاندان کے بڑے بزرگ ، اساتذہ اور علماء کی جانب سے سمجھایا جانا بہت ضروری ہے۔ اگر ان کو اس طرح نہ سمجھا یا جائے تو اکثر افراد جنسی بے راہ روی کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور ہاتھ سے شہوت رفع کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ عمل قوم لو ط و وطی بہائم وغیرہ کی طرف بھی چلے جاتے ہیں ۔

جنسی اعتبار سے قرآن مجید میں سورہ مومنون کی آیت نمبر ۵ تا ۷ میں یہ صریح ہدایت موجود ہے کہ

فلاح پانے والے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ا ن عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں (یعنی جنگ میں پکڑ کر لائی گئی لونڈیاں ) ہوں۔

اس کے علاوہ جنسی تسکین کا ہرطریقہ زیادتی میں یعنی حرام شمار ہوتا ہے۔ اس آیت کی تا ئید میں امام شافعی ، امام مالک ، امام احمد بن حنبل نے کچھ احادیث کا حوالہ دیا ہے۔ ابن کثیر نے بھی ان آیات سے احادیث کی روشنی میں احکام مستنبط کئے ہیں۔ (یہاں زنا کا حوالہ اس لئے نہیں دیا گیا کہ اس کی حرمت کے بارے میں قرآن میں الگ سے واضح احکامات بیان ہوئے ہیں۔) وہ احادیث حسب ذیل ہیں ۔
۱)ـ’’اپنے ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے ۔اللہ نے ایسے لوگوں کو عذاب دیا جو اپنے اعضائے جنسی سے کھیلتے تھے۔ ،،
۲)’’سات آدمی ایسے ہیں جن کی طرف اللہ قیامت کے روز نظر نہ فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ انہیں دوسرے لوگوں کے ساتھ جمع کرے گا اور سب سے پہلے دوزخ میں داخل ہونے والوں میں شامل کرے گا الاّ یہ کہ وہ توبہ کرلیں اور جو توبہ کرے اللہ اسے معاف کردیتا ہے۔ اپنے ہاتھ سے نکاح کرنے والا ، عمل قوم لوط کرنے والا ، یہ فعل کرانے والا ، عادی شراب خور،اپنے والدین کو مارنے والا ، اپنے ہمسایوں کوستانے والا ، اپنے ہمسائے کی بیوی سے مکاری کرنے والا ۔

مندرجہ بالا احادیث اور قرآنی ہدایات کی روشنی میں یہ بات قطعی طے ہے کہ یہ ایک حرام فعل ہے، بعض لوگ زنا کے خوف سے ہاتھ سے شہوت رفع کرنے کو اتنابرا نہیں کہتے۔ لیکن یہ فیصلہ کہ کیا واقعی ایسا نہ کیا جائے تو وہ زنا ہی کرے گا بہت مشکل ہے ۔اس لئے اس راستے پر جانا ہلاکت کے گڑھے تک خود کو لے جانا ہے۔

اس کے نقصانات حسب ذیل ہیں۔

۱) جو افراد ہاتھ سے شہوت رفع کرتے ہیں ان کے اس عمل سے ان کو فطری طور پر ڈر ہونے لگتا ہے کہ کہیں وہ شادی کے بعدغیر مطمئن جنسی زندگی کا شکار ہوں گے، اور اس خیال کو رفع کرنے کے لئے وہ بار بار اس عمل کو دہر اکر خود کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ ا پنی جنسی زندگی کے لیے پوری طرح اہل ہیں اور اس طرح وہ اس بری عادت سے چھٹکارا نہیں پاتے۔
۲)مرد کے عضو تناسل کی اوپری جلد کا حصہ بہت نرم ونازکepithelial cell سے بنتا ہے ۔ ان کے اندرپھیلنے اور سکڑنے کی بے پناہ صلاحیت ہوتی ہے ۔جب ہاتھ سے رفع ِشہوت کی کوشش ہوتی ہے ، تو عضو تناسل کا وہ حصہ جو زد میں آتا ہے وہاں کے cellsمرتے جاتے ہیں حتیٰ کہ عضو تناسل کے گرد ایک کالا رنگ بن جاتا ہے ۔
۳) اگلی اسٹیج میں عضو تناسل طبی کمزور یوں کا شکار ہو سکتا ہے۔جیسے ٹیڑھا پن وغیرہ، یہاں تک تعلقات زن و شو میں پریشانیاں وارد ہونے لگتی ہیں۔
۴)اگرچہ کہ انتشار عضو اور مادہ منویہ کا اخراج ہوتا رہتا ہے اور اسے کسی طرح عورت کے رحم میں پہنچادیا جائے تو حمل بھی ٹھر جاتا ہے لیکن اس سے بیوی کا جنسی اطمینان نہیں ہوتا۔ یہاں سے بیوی کے لئے ایک تکلیف دہ سفر کا آغاز ہوتا ہے ۔بعض شرم کے مارے اسی چیز کو جنس سمجھ کر خاموش ہوجاتی ہیں اور بعض کو جب یہ شعور جاگ جاتا ہے تو شوہر کا عدم اطمینان خلع تک پہنچا دیتا ہے۔
۵)سب سے بڑا نقصان جسمانی کمزوری سے زیادہ نفسیاتی کمزوری کا ہونا ہے۔یعنی مرد خود اعتمادی کھو دیتا ہے۔ وہ بڑے عزائم ،بڑے کام ،بڑے پروجیکٹس ہاتھ میں لینے سے گھبراتا ہے۔ مصیبتیں جھیلنا،حالات سے ٹکر لینا وغیرہ کے بجائے وہ ہر جگہ سمجھوتے کی روش پر آجاتا ہے۔ بیوی سے سمجھوتہ ،حالات سے سمجھوتہ،زمانے سے سمجھوتہ وغیرہ یعنی وہ اقبال کا نوجوان نہیںرہتا جو انہوں نے حسب ذیل شعر میں سوچا تھا؛

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب ہے جس کا بے داغ،ضرب ہے کاری

اس کے برخلاف جنسی خواہش کو قابو میں رکھنے کے فوائد بے انتہاء ہیں۔

۱)بیوی کو ہر حال میں اپنے شوہر کی اطاعت کے لئے مرد کا سو فیصد مرد رہنا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ عورت بھوکی ،مفلس،مفلوق الحال رہنا گوارا کرلیتی ہے لیکن جنسی آسودگی اسے ان قربانیوں کے لئے تیار نہیں ہونے دیتی۔
۲)نوجوانوں کے جسم و جاں میں خود اعتمادی کا ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندرا ن کو ایک زبردست طاقت بنادیتا ہے جن سے ٹکرانا زمانے کے بس کی بات نہیں۔

۳) رضائے الہیٰ۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ کی رضاء ، جس نوجوان نے اپنے جذبات کے باوجود اپنے نفس پر قابو حاصل کر لیا، اس کا درجہ ولیوں سے کم نہیں ۔وہ یقینا اللہ کے دوست ہوتے ہیں ۔

بعض ایسے جرائد بازار میں دستیاب ہیں جو اس کام کو بہت زیادہ قبیح نہیں مانتے اور یہ کہتے ہیں کہ مرد کی مردانگی پر اس کا بہت زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سراسر غلط اور اشتہار بازوں کا مارکٹینگ کا اپنا طریقہ ہے۔ جس میں پھنس کر نوجوان نسل پریشان ہورہی ہے ۔

اس سلسلے میں مندرجہ ذیل تدابیر بطور علاج تجویز کی جا سکتی ہیں۔

۱) عام طور پر تعلیم کے بعد اچھی ملازمت اور اچھی ملازمت کے بعد بھی ملازمت کا استحکام اور اس کے بعد برابری کے جوڑے کے انتخاب میں جو وقت ضائع ہوتا ہے اس کی وجہ سے لوگ کسی عورت سے نکاح ہونے تک شریف رہتے ہوئے اور زنا کی طرف نہ جاتے ہوئے ہاتھ سے نکاح کرلیتے ہیں۔ اس سماجی رویہ میں کمی آنا بے حد ضروری ہے ۔
۲)یہ بات بالکل درست ہے کہ اس بے راہ روی سے مرد سو فیصد ناکارہ نہیں ہوتا لیکن جتنا زیادہ جس کا دلچسپ مشغلہ رہا ہوگا وہ اتنا زیادہ اس کا نقصان اٹھائے بغیر نہیں رہتا۔
جن قوموں میں خداکا خوف ،آخرت کی جوابدہی کا احساس نہیں ہے ان کی شادیاں تو زیادہ تر دونوں کی بے راہ روی کے بعد ایک سمجھوتے کے طور پر ہوتی ہے جسے ہم extra marital relations کہتے ہیں۔ یہ ان قوموں میں ایک عام بات ہے جن کا سماج، اخلاقی گراوٹ میں مبتلاء ہے۔ نہ وہ اسلام دشمنی میں سخت ہیں اور نہ ہی مثبت تعمیری کام میں خود کو جھونکے ہوئے ہے، اس کی وجہ ان کا یہ معاشرتی بگاڑ ہے ۔اگر ہمیں اپنے معاشرہ کو ایک مضبوط اور پر عزم سماج میں تبدیل کرنا ہے تو ہماری نئی نسل کو جنسی بے راہ روی سے بچانا بے حد ضروری ہے ۔اس کے لئے ماں باپ ،اساتذہ ،دوست احباب اور علماء ان عنوانات کو شجر ممنوعہ نہ سمجھ کر قوم کی رہنمائی کریں تو توقع ہے کہ یہ بیماری مسلم معاشرہ میں نہیں پھیلے گی۔ ساتھ ہی ساتھ نئی نسل کو فحش و عریاں تصاویر،فلمیں اور لٹریچر سے بھی بچانا ضروری ہے تاکہ ان کے جنسی جذبات غلط راستے پر نہ جائیں ۔

اگر کوئی نوجوان اس عمل سے بچنا چاہتا ہے تو اس کے لئے جلد نکاح کرنا ، روزے ٔرکھنا اور اللہ سے ڈرنا،اپنے آپ کو کسی مثبت اور تعمیری کام میں اس قدر جھونک دینا کہ اس کا ذہن برے خیالات کی طرف مائل نہ ہو، یہ تدابیر مفید ہوں گی۔

چند باتیں نوجوانوں کی خو د کی تربیت کے لئے ضروری ہے ۔

۱) خود سے حیا کرنا۔ تنہائی میں ضروریات سے فراغت کے وقت وہ اپنی شرمگاہوں کو نہ دیکھیں ،نہ چھوئیں اور نہ اس سے کھیلیں ۔انتشار عضو کی صورت میں اُ س وقت تک عضو کو ہاتھ نہ لگائیں جب تک کہ دوسری طرف توجہ ہٹاکر یا پانی کا استعمال کرکے عضو کو اپنی پہلی پوزیشن پر نہ لے آئیں۔
۲)کوئی ایسے کام میں اپنے آپ کو مصروف کرلیں کہ جس کے بعد فوراً نیند آجائے۔
۳) شام کے وقت پیدل چلنا ،دوڑنا،تھوڑی سی ورزش کرنا اگر پڑھنے لکھنے کا کام نہ ہو تو اس سے تھکاوٹ جلد ہوجاتی ہے اور فوراً نیند آجاتی ہے ۔اس طرح ایک جسم مضبوط بنتا ہے دوسری طرف جوانی محفوظ رہتی ہے ۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مسلمان اور سائنسی تحقیقات – ڈاکٹر محمد اسلم پرویز سے ایک گفتگو

ڈاکٹر اسلم پرویز کا نام علمی دنیا میں ایک معروف نام ہے۔ ...