بنیادی صفحہ / متفرق / جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان

جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان

نوجوان داعی سھیل امیر شیخ سے ایک خصوصی ملاقات

n آپ اپنا مختصر تعارف کرانا پسند کریں گے؟آپ تنظیم سے کب اور کیسے وابستہ ہوئے؟
2 مہاراشٹر کا مشہور شہر جلگاؤں میرا آبائی وطن ہے، ابتدائی تعلیم کے بعد میں نے کمپیوٹر ہارڈویئر انجینئرنگ کی،انجینئرنگ کے بعد میں نے بزنس لائن میں قدم رکھنے کی کوشش کی، لیکن پھر ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم جس سوچ اور فکر کے حامل ہیں، اس کی اشاعت اور توسیع کے لیے بہترین ذریعہ تدریس کا میدان ہے، چنانچہ میں نے ہیومن فزیولوجی میں گریجویشن اور ذولوجی میں پوسٹ گریجویشن کیا، اور پھر پوسٹ گریجویشن کے بعد بی ایڈ کیا۔ ۲۰۰۰ ؁ء ہی میں باضابطہ ایس آئی او آف انڈیا کا ممبر بن گیاتھا، جس کے بعد مقامی سرکل، یونٹ، اور ضلع کی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کی، ۲۰۰۹ ؁ء تا ۲۰۱۲ ؁ء کی دومیقاتوں میں صدر حلقہ کی ذمہ داری انجام دی، فی الحال ایس آئی او آف انڈیا کی مرکزی مجلس شوری کا ممبر ہوں۔
n آپ ایک طویل عرصے سے طلبہ ونوجوانوں کے درمیان دعوتی کام کررہے ہیں، کیا واقعی آج نوجوان طبقے کے اندر اسلام کی پیاس موجود ہے؟
2 حقیقت یہ ہے کہ اس وقت جبکہ اسلام کی مخالفت پر بہت کچھ لکھا اور پڑھاجا رہا ہے، اور صیہونیت زدہ میڈیا بھی اس کی تصدیق کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، اور اس حوالہ سے اسلام اور اس کی مخالفت پر مبنی گفتگو ہمارے حلقوں میں زبان زد عام وخاص ہوتی جارہی ہیں، جس کے نتیجہ میں عوامی مزاج Reactionary ہوتا جارہا ہے، اس کیفیت سے خواص بھی اسی طرح متأثر ہو رہے ہیں جس طرح کہ عوام متأثر ہیں، اور اقدامی دعوت نتیجتاً دفاعی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔
تصویر کا یہ وہ رخ ہے جس سے قنوطیت کا احساس ہوتا ہے مگر وہیں دوسری طرف زمینی حقائق قدرے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا جب اسلام اور اسلامی تعلیمات کا دائرہ مسجد کے منبر و محراب تک محدود تصور کیا جاتا تھا، مگر آج سائنس اور ٹکنا لوجی کے اس دور نے اور ابلاغ و ترسیل کے وسیع تر ہوتے ذرائع نے کئی دلوں میں اسلام کی محبت کی چنگاریاں روشن کردی ہیں۔ جس اسلام کی پیاس کا ذکر آپ نے کیا ہے اس کی تشقی کے لئے لوگ گھنٹوں انٹرنیٹ پر گوگل سرچ میں مصروف ہیں، کالجز اور یونیورسیٹیز سے وابستہ طلبہ اسلام کے موضوع پر چیٹنگ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر آپ کسی ایک اسلامی روایت کو شیئر کیجئے پچاسوں افراد اس پر اپنے کمینٹ دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ اور ان سب سے آگے بڑھ کر پورے ملک کے کتاب میلوں (Book Fairs) میں قرآن اور اسلامی لٹریچر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اورجس کی مقبولیت میں ہر دن اضافہ ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلامی لٹریچر کو خریدنے والوں میں بالخصوص وہی طلبہ ونوجوان ہیں جنہیں تعلیمی کتب کا مطالعہ کرنا تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے مگر وہی نوجوان اسلام کے تعلیمی، سماجی، معاشی، سیاسی اور روحانی موضوعات پر علمی تحریریں پڑھنا اپنی ضرورت سمجھتے ہیں۔ اس کیفیت نے داعیانِ حق کے ارادوں کو جواں کرنے کا کام کیا ہے، اور ممکنات کی دنیا وسیع تر کر دی ہے۔
n اس وقت جبکہ ملکی وعالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی تصویر مسخ کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں، اس کے باوجود اسلام کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، آخر اس کی کیا وجوہات آپ سمجھتے ہیں؟
2 اگر اس سوال کا جواب دو مصرعوں میں دیا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ ؂
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے
سچائی یہ ہے کہ سامراجی طاقتوں نے اسلام کی مخالفت ایک مذہب کی حیثیت سے نہیں بلکہ صحیح معنوں میں ایک مکمل نظام حیات ہونے کی بنیاد پر کی ہے۔ اور حق وباطل کی یہ معرکہ آرائی نظریاتی سطح پر بھی ہے۔ لیکن ہماری یہ گفتگو سوئے اتفاق کہ اس زمانے میں ہورہی ہے جو زمانہ تہذیبی کشمکش اور ٹوٹتی بکھرتی انسانی قدروں کا زمانہ ہے۔ جہاں ہر آن زندگی جینے کے پیمانے جلا ہوتے ہیں۔ تہذیبوں کی اس کشمکش میں اسی کو دوام حاصل ہوگا جو نظریات کی تجربہ گا ہوں میں نتیجہ کے اعتبار سے کھرا ہوگا ۔ الحمد للہ اس وقت جبکہ دنیا اپنے سامنے مسائل کا انبار دیکھتی ہے۔ اس کو ان مسائل کا مناسب حل اسلام ہی کے پاس موجود نظر آتا ہے۔ جب دہلی کے بدنام زمانہ حادثے میں معصوم بچی علاج کے لئے سنگا پور روانہ کی جاتی ہے تو پورے ملک کے کئی پوسٹ پر یہ لکھا گیا کہ اگر مظلوم کا علاج سنگا پور میں ہورہا ہے تو ظالم کا علاج سعودی عرب کے قانون میں کیوں نہیں؟ یہ آواز انسانوں کے ضمیر کی آواز تھی ۔ اسلام کے خلاف طاغوت کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا کے سامنے اپنے تمام مسائل کا حل صرف اسلام ہے۔ تمام فلسفے ، تمام افکار و نظریات فرسودگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ تہذیبیں اپنے ہی خنجر سے خودکشی کررہی ہیں، اور شاخ نازک پر بنے ہوئے تمام آشیانے گرنے کوہیں۔ س وقت اسلام ایک متبادل کی حیثیت سے دنیا کے سامنے ہے۔ جس کا تہذیبی ورثہ آج بھی بڑی آب وتاب کے ساتھ دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اور یہی اس کی مقبولیت کی بنیادی وجہ ہے۔
n مسلم امت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا امت مسلمہ بحیثیت مجموعی اپنا دعوتی فریضہ انجام دے رہی ہے؟
2 اس وقت مسلم امت کے قدم دانستہ یا نا دانستہ طور پرزوال علم وعرفان کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور المیہ یہ ہے کہ یہ امت جس پیغام کی داعی ہے، افسوس کہ اس کی اکثریت اسی پیغام سے اتنی ہی نابلد و نا آشنا ہے جتنی کہ مدعو قوم ہے، اور جو اس کا فہم رکھتے ہیں ان کی معتدبہ تعداد اسلام کو دینِ کا مل اور زندگی کے لئے ضابطۂ عمل نہیں سمجھ پارہی ہے، یا پھر اس پہلو سے روگردانی کر رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم اس و قت جہاں مختلف اندورنی وبیرونی چیلنجز کا شکار ہیں وہیں فرقوں اور ملکوں کی جنگ نے ہمیں بہت ٹھیس پہنچائی ہے۔ سنجیدہ محفلوں کے موضوعات فروعی مسائل میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ مسجدوں میں خطابات کا حال یہ ہے کہ جیسے کوئی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کے پاس تیمم کے مسائل بیان کرے۔ ان تمام سرگرمیوں نے ہماری دعوتی ترجیحات کو غیر معمولی طور پر متأثر کیا ہے۔ سب کچھ کے باوجود کسی نہ کسی حد تک دعوت کا مزاج اِس وقت پروان چڑھ رہا ہے مگر آج بھی کئی ذہن اطمینان نہیں حاصل کر پارہے ہیں کہ آیا یہ زیادہ ضروری ہے یا اصلاحِ امت ضروری ہے۔
اس وقت امت بحیثیت مجموعی اپنی دعوتی ذمہ داری کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ کاش کہ ہم پیغمبر انقلاب ؐ کی زندگی سے اسپرٹ حاصل کرتے ۔ آپ ؐ کا دستر خوان سے اٹھ کر قافلے کو دعوت دینا، طائف کی وادیوں میں مجروح ہونا ، عکاظ کے میلے میں انسانوں کو کفروشرک میں پاکربے چین ہو جانا ، بڑھیا کے بوجھ کو اٹھانا، یا کچرا ڈالنے والی عورت کی تیمار داری کرنا ۔۔۔۔ گویا سیرت رسول ؐ کا ہر ہر صفحہ اور آپ ؐ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ گویا دعوتی تڑپ کو واضح کرتا ہے۔ یہ ملت سنت کی اتباع میں میٹھا کھانا تو ضروری سمجھتی ہے مگر دعوتِ حق کی پاداش میں طائف کی وادیوں میں پتھر کھانے کی سنت کو بالکل ہی فراموش کئے ہوئے ہے۔فر یضۂ دعوت سے مجر مانہ غفلت اس امت کا اجتماعی گناہ ہے، جس کی تلافی وقت کی بڑی ضرورت ہے۔
n کیا ملک میں دعوت دین کا جو موقع موجود ہے وہ مسلم امت کے لیے غنیمت یا ایک بہترین موقع نہیں؟ امت کے درمیان دعوتی فکر کو کیسے عام کیا جاسکتا ہے جبکہ علماء تک اس سلسلے میں غلط فہمی کا شکار ہیں؟
2 بقول علامہ اقبال ؂
موسم اچھا ‘ پانی وافر ‘ مٹی بھی زرخیز
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان
واقعہ یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں دعوتِ دین کے لیے راستے ہموار اور فضا سود مند ہے۔اس کے باوجود کہ ملک میں فاشسٹ عناصر بر سرپیکار ہیں، ظلم وبریریت کی وارداتیں بھی سننے میں آتی رہتی ہیں، مسلم کش فسادات کا نہ تھمنے والا طوفان پتہ نہیں کتنی بستیوں کو اجاڑے گا، اور کتنی انسانی آبادیوں کو راکھ کردے کا !! مگر مجھے یہ بات کہنے دیجئے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلم کش فسادات میں ہزاروں مسلمان شہید کئے گئے ۔ کاش اس کا ایک تہائی حصہ بھی دعوت دین پہنچاتے ہوئے شہید ہوتا، تو اس ملک کے ہر گوشے سے وحدانیت کی صدا ئیں بلند ہوتی نظر آتیں۔
بالائے ستم یہ کہ آج تک مسلم امت کا سوادِ اعظم یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ کسی غیر مسلم کو قرآن دیا جائے یا نہیں ؟ ہم آج تک اِس ذہنی کشمکش میں مبتلا ہے کہ اس وقت کی ترجیحی ضرورت ملت اسلامیہ میں اصلاح کا کام ہے یا دعوت وتبلیغ یا کچھ اور ؟؟؟شاید اس موضوع پر ذاتی رائے اختلاف کا شکار ہوسکتی ہے، مگر قرآنی تعلیمات ان سارے سوالات کا نہ صرف مفصل بلکہ تشفی بخش جواب دیتی ہیں۔اللہ وحدہ لاشریک نے قرآن مجید میں اپنا جو تعارف کرایاہے وہ ’’ رب العالمین‘‘ کی حیثیت سے کرایا ہے، اپنے نبی رحمت ؐ کو’’ رحمتہ للعالمین ‘‘ کہا ہے اور قرآن مجید کو ’’ھدی للناس ‘‘ کہہ کرا سلام اور اسلامی تعلیمات کو تمام انسانیت کے لیے عام کردیا ہے، اس کے باوجود بھی آج تک اس ملک کی آبادی کو ہم ان حقیقتوں سے واقف نہ کراسکے ۔
اس بات پر ہمیں اللہ رب العزت کا شکر بجالانا چاہئے کہ ملک کے طول وعرض میں آج بھی نہ جانے کتنی مخلوط بستیاں پائی جاتی ہیں ، جس کے نتیجے میں ہمارے تعلقات کسی نہ کسی شکل میں برادران وطن سے موجود ہیں۔ اب ہمیں اپنے انہیں تعلقات کو دعوتی روا بط میں بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ہند میں اسلام کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات اِس ملک میں مسجدوں سے پہلے یہاں کے مار کیٹ اور بازاروں میں پہنچی اور اس نے لوگوں کو متأثر کیا۔ عرب سے ہند تشریف لانے والے مسلم تاجر صرف تاجر ہی نہ تھے بلکہ اللہ کے دین کے داعی بھی تھے۔ ہمیں بھی دعوت کے سلسلہ میں مساجد کے ساتھ ساتھ ہر محاذ پر کام کرنا ہوگا، اورنظریاتی وعملی طور پر اسلام کی سچی نمائندگی کرنی ہوگی۔
دوسرا خوش آئند پہلو ملکی سماج کی مذہبی حس یا مذہبی مزاج کا ہے۔ اس ملک کے عوام اپنے اندر مذہبی مزاج رکھتے ہیں بلکہ صحیح معنوں میں مذہب پر یقین واعتماد میں پختہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر مہاراشٹر اور چند ریاستوں کے تناظر میں بات کی جائے تو یہاں کے مذہب پسند جب اپنے یہاں مذہبی عدم تحفظ یا پرانی رسم ورواج سے تنگ آگئے تو خود ساختہ نئے مذاہب کی بنیادیں بھی رکھی گئیں ۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے بھارتی عوام کے ذہنوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ جس قوم کے پاس متبادل ہی نہ ہو، وہ یہی کرسکتی ہے۔ آج ہمیں اسلام کو ایک متبادل نظام زندگی کے طور پر متعارف کرانا ہوگا۔
امت میں دعوتی فکر کو پروان چڑھانے کے لئے اس ملت کو قرآن سے وابستہ کرنا انتہائی لازمی ہے۔ قرآن سے وابستگی کا نتیجہ ہے کہ یہ ملت فروعی مسائل میں الجھی ہوئی ہے ، مسلکی اور جماعتی عصبیت کا شکار اور دین کے فہم اور وسیع تر مفہوم سے نہ صرف دور ہے بلکہ تباہی کے خطرناک جال میں الجھ کر رہ گئی ہے۔
n دعوتی محاذ پر ایس آئی او آف انڈیا کی کیا سرگرمیاں ہیں؟ ان سرگرمیوں کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
2 ایس آئی او آف انڈیا اس ملک میں ایک نظریاتی طلبہ تحریک ہے۔ جس کا نظریہ یہ ہے کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو زندگی کے تمام ہی زاویوں پر محیط ہے۔ اور اس دین سے وابستہ افراد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پورے نظام حیات کے قیام کی شعوری کوشش کریں، اور یہی حقیقت میں خدمت دین ہے۔ اس مبارک جدو جہد میں ایس آئی آو طلبہ و نوجوانوں کی علمی وفکری سطح پر تیاری کے لیے نہ صرف منصوبہ بند کام کر رہی ہے بلکہ عملاً میدان عمل میں بھی کوشاں ہے ۔تقریباً تین ۳؍ دہا ئیوں سے ملک کے علمی مراکز اور تعلیمی ادارے تنظیم کی کوششوں کا اوّلین ہدف ہیں جہاں اسلام کی دعوت اسلام کے ’’حقیقی تنا ظر‘‘ میں پیش کرنا تنظیم کی مستقل سر گرمی ہے۔ تنظیم چاہتی ہے کہ موجودہ سماج میں اسلام کی دعوت عقا ئد اور اقدار دونوں کے حوالے سے پیش کی جائے۔ اس وقت حیا، امن و انصاف، طہارت و پاکیز گی، عفت ، ا خوت و محبت اور اِن جیسی بنیادی اِنسانی قدریں بڑی تیزی سے پامال ہوتی جارہی ہیں اور اِنسانی سماج اخلاق و اقدار سے محروم ہوتا جارہا ہے۔ حالات کے اِس تنا ظر میں ایس آئی او اقدار پر مبنی سماج کا خواب دیکھتی ہے۔ جس کے لیے اِسلامی اقدار کا وسیع تعارف چاہتی ہے۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں مختلف مسائل کے حل کے ذ ریعہ طلبہ برادری کو اسلام سے قر یب کرنا چاہتی ہے۔ نیز مسلم طلبہ میں جذبۂ دعوت کو پروان چڑھانا بھی تنظیم کا ایک اہم ہدف ہے۔
اِن تمام اہداف کے حصول کے لئے پورے ملک میں مختلف ریاستوں اور زونس کے پاس مختلف النوع سر گرمیاں اورلائحۂ عمل مو جود ہے۔ جہاں ہم انفرادی و اجتما عی سطح پر مختلف پر و گرامس دیکھتے ہیں۔ مگر میں کہوں گا کہ ہمارے وا بستگان کو زمانے کی تبدیلیوں پر مسلسل نظر دیکھتے ہوئے اپنے پیغام کو مزید سر عت کے ساتھ منظم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری سر گرمیوں کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے لئے ہمیں سائنس اور ٹکنالوجی کا شعوری طور پر استعمال کرنا ہوگا۔ یہ پہلو بھی خوش آئند ہے کہ اس وقت بھارت کے مخصوص ’’ مذہبی و سماجی تنا ظر‘‘ میں اسلام کی دعوت پیش کرنے کے لئے علمی و تحقیقی تیاری پر خصوصی کام ایس آئی او کی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے لئے ہمیں وسیع تر صلا حیتوں کے حامل افراد کی ضرورت ہے جو زمانے کی ’’مر وّجہ زبان‘‘ میں اپنے نظریے کی تر ویج کا فن جانتے ہوں، اور مجھے کامل یقین ہے کہ اس طرح کے بیش قیمت افراد ہماری ہر یو نٹوں اور سر کلس میں موجود ہیں، بس انہیں صحیح سمت دے کر ان کی صلا حیتوں کے بہتر استعمال کی ضرورت ہے۔
n کیا دعوت دین ہماری سرگرمیوں کا مرکزی عنوان بن سکی ہے؟ اگر نہیں، تو اس کے سلسلے میں آپ کیا مشورہ دینا پسند کریں گے؟
2 اِس سوال پر حتمی گفتگو نہیں کر سکتا، مگر یہ سچائی ہے کہ اس وقت ملک کے طول و عرض میں اِس سِلسِلہ میں ہم نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ یقیناہمیں اپنی تمام تر سر گرمیوں کا مرکز و محور دعوت دین کو بنانا ہو گا۔ ساتھ ہی جدید ٹکنالو جی کی وسیع دنیا کو خوب خوب استعمال کرنا ہوگا، اس وقت انسا نیت فحا شی اور عر یاں کلچر سے بیزار ہورہی ہے۔ جس ملک کی کثیر آبادی دو وقت کی روٹی سے محروم ہو، اُسی ملک میں کروڑوں روپیوں کا خرچ اگر عریا نیت کے نام پر ہو جا ئے تو اُسے یقیناًہمارے درمیان گفتگو کا مو ضوع بننا چاہیے، جہاں جرائم اور منشیات نے ملک کی رگیں کاٹ کر رکھ دی ہیں وہیں کرپشن جیسی بیماری نے ہر خاص و عام کواپنی چپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کیمپس میں اِس موضوع پر ڈبیٹ کا اِس سے سُنہری موقع اور کیا ہوسکتا ہے۔؟ دراصل کیمپس خود اِس صالح انقلاب کے منتظر ہیں جو حیا سوزی کے طوفان بد تمیزی سے انہیں نجات دلا ئے، تہذیب و تمدن کی پاش پاش ہوتی ہوئی عما رت کِسی سہا رے کی منتظر ہے، انفار میشن ٹکنا لوجی کی بے حدود دُنیا داعیانِ حق کی تلاش میں ہے کہ اِسے دعوتِ حق کے ابلاغ وتر سیل کے لئے اِستعمال کیا جائے، مثال کے طور پر ہم اپنی دعوت کے لئے سو شل میڈیا کا خوب خوب اِستعمال کریں۔ میں کہوں گا کہ یہ بات ہمیشہ ہمارے ذہن نشین رہے کہ دعوتِ دین کا یہ محاذ کسی مہم یا مخصوص سرگرمیوں کی حد تک محدود نہ رہ جائے بلکہ تنظیم خود ایک ’’دعوہ موومنٹ‘‘ ہے، اس کو اس کی اصل پر قائم رکھا جائے اور اس سے وابستہ ہر فرد ’’سراپا داعی‘‘ بننے کی کوشش کرے۔
n وابستگان ایس آئی او کے درمیان دعوتی سوچ کس طرح پروان چڑھائی جاسکتی ہے؟ کیمپس اور سوسائٹی میں ہمارے وابستگان کا کیا اور کیسا رول ہونا چاہئے؟
2 تنظیم قرآنِ مجید اور اسوۂ رسولؐ کو بنیادی محرک تسلیم کرتی ہے۔ قرآن مقدس ہمارے لیے ہدایت و رہنمائی کا Ultimate Sourceہے اور سیرتِ رسولؐ ہمیں مہمیز کرنے کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا ہم اپنی تربیت کرنے اور اپنے آپ کو تحریک دینے کے لیے انہیں مأخذ سے رہنمائی حاصل کریں۔دوسرے یہ کہ جس طرح فنِ تیرا کی کے لیے چاہے ڈھیروں کتابیں مطالعہ کرلی جائے، سینکڑوں سیمینارس اور ورکشاپس منعقد ہوجائیں، مگر حقیقی فن اسی وقت حاصل ہوگا جب کہ سیکھنے والا پانی میں چھلانگ لگا دے۔ ٹھیک اسی طرح ہم نے دعوت کے موضوع پر کئی کتابوں کا مطالعہ کیا ہو، دعوۃ ٹریننگ کیمپس منعقد کیے ہوں لیکن عملاً میدانِ عمل ہی سے ہمارے عزائم بلند ہوں گے اور ہم اس کے ثمرات سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔
تعلیمی کیمپس دراصل قوم و ملت کے لیے مستقبل ساز ادارے ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی سماج کا آئینہ دار ہوتے ہیں، اور یہ بھی سچائی ہے کہ نہیں دانش گاہوں میں مملکتوں کے قائدین تیار ہوتے ہیں۔ چنانچہ کیمپس ہمارے لیے دعوت کا ناقابل فراموش میدان ہے۔ جس میں پائی جانے والی طلبہ برادری ہر نظریے اور فلسفے کو منطق، سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیادوں پر پرکھ کر دیکھتی ہے، اور اسلام سے بڑھ کر سچا دین کون سا ہوسکتا ہے؟ ترقیات کی دنیا نے متعددانسانی مسائل کے حل کی خاطر دانستہ یا غیر دانستہ انھیں راہوں پر قدم بڑھائے ہیں، جن کی طرف اسلام نے رہنمائی کی ہے۔ شاید میری یہ بات آج قابل قبول نہ ہو، مگر آئندہ چند سالوں میں جہاں ترقیات مزید بام عروج پر ہوں گی، اس دور میں خدا کا انکارغیرمعقول قرار دیا جائے گا، اور لوگ اسلامی تعلیمات کا نفاذ زمانے کی ضرورت سمجھیں گے۔
n دعوت دین کا عظیم فریضہ انجام دینے والوں کو کن بنیادی خوبیوں سے آراستہ ہونا چاہئے، تاکہ قولی دعوت کے ساتھ ساتھ عملی دعوت کا کام بھی جاری رہے؟
2 اللہ رب العالمین نے ہمیں نہ صرف دعوتِ دین کا حکم دیا ہے بلکہ اس کا طریقۂ کار اور داعی کی مطلوبہ صفات کی بھی تفصیل بیان کی ہے۔ کتابِ ہدایت کی رہنمائی ہمیں اس سلسلہ میں گہرا فہم اور فراست عطا کرتی ہے، اور رسول اللہؐ کا اسوہ ہمارے لیے بہترین گائیڈبک کی حیثیت رکھتا ہے۔ داعیِ حق کے لیے سب سے اہم صفت انسانیت دوستی ہے۔ وہ شخص کبھی اس راستہ میں قربانیوں کے لیے تیار نہ ہو گا جس کا دل اللہ کے لیے انسانوں کی محبت سے خالی ہو۔ وہ انسانی محبت کا درجۂ کمال ہی تھا جس نے طائف میں ’’ملک الجبال‘‘ کو واپس بھیج کر پتھر برسانے والوں کے حق میں دعائیہ کلمات کہے۔ دوسرا پہلو اخلاقی بالا دستی کا ہے۔ چاہے ہماری دعوت کتنی ہی پر کیف و پر سرور ہو، مگر اس وقت تک وہ انسانوں کی سماعتوں سے قلب میں داخل نہ ہو گی، جب تک اس دعوت کے امین کی زندگی اس سے متصف نہ ہو۔ سماج میں لوگ لٹریچر بعد میں پڑھتے ہیں مگر پہلے پہل داعیان حق کی زندگیاں دیکھتے ہیں کہ یہ ان کے لیے کھلی کتاب ہوتی ہیں۔تیسری چیز زبان و بیان کا دلنشیں انداز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم (محمدؐ) ان لوگو ں کے لیے نرم خو ہو ورنہ اگر تم درشت خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ تمھارے گردو پیش سے چھٹ جاتے۔‘‘ (آل عمران: ۱۵۹) ایک بہت اہم پہلو اخلاص و للہیت کا ہے۔ دعوتِ دین کی راہ کا یہ وہ ہتھیار ہے جس کے سامنے لوگ گردنیں نہیں، بلکہ دل جھکا دیتے ہیں۔ آپؐ کا یہ کمال ہی تھا کہ آپؐ نے لوگوں کی گردنیں فتح نہیں کیں، بلکہ انسانوں کے دل جیت لیے۔ فتح مکہ کسی جغرافیائی سرحد کی فتح نہ تھی بلکہ یہ فتحِ قلوب کا مظہر تھی۔
n ہندوستان جیسے تکثیری معاشرے میں اسلام کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں؟ یہاں مسلمانوں کی صورتحال اور دعوت دین کے سلسلے میں ان کی مجرمانہ غفلت کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کیا کہیں گے؟
2 ہندوستان میں دعوتی مواقع اور امکانات کی دنیا بہت وسیع ہے۔ وہیں مسلمانوں کی اس محاذ پر سرگرمیاں بہت ہی محدود و مختصر ہیں۔ آزاد ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں نے اپنے تحفظ اور طلبِ حقوق کے لیے بہت کوششیں کی ہیں۔ ہمارے تعلیمی، معاشی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے ہم سرگرم عمل رہے ہیں، مگر انسانیت کی فلاح اور بہبود کے لیے ہم کم ہی میدان میں دیکھے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تکثیری معاشرے میں ہزاروں برس کی مسلمانوں کی تاریخ بھی لوگوں کو اسلام کا شیدائی نہ بنا سکی۔ اس کی ایک وجہ ہماری بے حسی اور کارِ دعوت میں بے توجہی، اور انسانی مسائل سے دوری بھی ہے۔ جبکہ نبوی طریقہ دعوت یہ بتاتا ہے کہ انسانوں کو ’’یا قومی‘‘ کہہ کر جب پکارا جائے، اسی وقت تعصب کی دیواریں منہدم ہوسکیں گی۔ اِن تمام تلخ حقیقتوں کے باوجود بقولِ علامہ اقبال ؂
کھول کر آنکھیں میرے آئینہ افکار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی ایک تصویر دیکھ
اس ملک میں بھی اسلام کے روشن مستقبل کی دھندلی سی تصویر مطلع صاف ہونے کی منتظر ہے۔ اس وقت وطنِ عزیز میں بسنے والے مسلمانوں کو ماضی کی مجرمانہ غفلت سے نکل کر اپنے فریضہ دعوت کی ادائیگی کے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا، ورنہ لمحوں کی خطائیں، صدیوں کی سزاؤں کا باعث بن جائیں گی۔
n ملک میں فاشسٹ طاقتیں مستقل تبدیلی مذہب مخالف قانون بنانا چاہتی ہیں تاکہ مذہب کی تبلیغ کا راستہ بند کیا جاسکے، کیونکہ اس سے ماحول خراب ہوتا ہے اور سماج میں مختلف قسم کے خطرناک مسائل جنم لیتے ہیں، آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
2 چراغ مصطفویؐ اور شرارِ بو لہبی کی معرکہ آرائی انسانی تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں ہوتی رہی ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں اظہارِ خیال کی آزادی فرد کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہیں اس ملک کا قانون بھی اس میں بسنے والے انسانوں کو اپنی پسند و ناپسند میں، عقیدے اور کلچر میں آزادی دیتا ہے۔ لیکن اس آزادی نے کئی دلوں کی دنیا بدل دی ہے۔ جس سے ملک کی فاشسٹ قوتیں بوکھلا اٹھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی چند ریاستوں میں اس طرح کے قوانین پر تجربات بھی کیے گئے، گرچہ انہیں دوام حاصل نہیں ہوسکتا۔ دراصل اس قسم کا رویہ فاشسٹ طاقتوں کی ناکامی کو ثابت کرتا ہے۔ جسے یہ طاقتیں کبھی طاقت کے زور پراور کبھی قانون کے ذریعہ انسانوں پر تھوپنا چاہتی ہیں۔ میرے خیال میں یہ تہذیبی و ثقافتی دہشت گردی ہی ہے کہ فرد پر کسی ایک فکر کو مسلط کردیا جائے اور پھر اس سے نکلنے کے تمام راستے مسدود کردیئے جائیں۔ مگر اس کے باوجود ؂
؂بہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الا اللہ
n ملک میں اس وقت دعوت دین کے مختلف طریقے رائج ہیں، نوجوانوں کے درمیان بحث ومباحثے کا رجحان بڑھ رہا ہے، آپ کس اسلوب کو زیادہ مناسب سمجھتے ہیں؟
2 اس وقت یہ بات قابلِ قدر ہے کہ ملک کے مختلف گوشوں میں دعوت کے سلسلہ میں بیداری آرہی ہے۔ بالخصوص نوجوان طبقہ کسی نہ کسی درجہ میں اس موضوع پر کام کرنا چاہتا ہے۔ لیکن بہرحال موجودہ بحث و مباحثے کے انداز اور طریقۂ دعوت پر ایک تفصیلی گفتگو ہوسکتی ہے۔ مگر یہاں یہ بات ذہن نشیں رہے کہ دعوتِ دین میں قرآنی طریقۂ دعوت اور نبویؐ اسلوب کو ہم زیادہ سے زیادہ Adoptکرنے کی کوشش کریں۔ نیز ہماری دعوت کا انداز فطری ہو۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں: ’’اسلام کی صداقت کے لیے بہت سارے دلائل موجود ہیں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ دل اور دماغ کے کام کرنے کے طریقوں میں بہت فرق ہے۔ دماغ اکثر اوقات ہزارہا مضبوط دلائل کو مسترد کردیتا ہے اور ان کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا، لیکن دل کا معاملہ اس کے برخلاف ہے۔ بعض اوقات کم زور سے کم زور چیزوں سے بھی دل متأثر ہوجاتا ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں زندگی کا سارا نقشہ بدل جاتا ہے۔ قبولِ اسلام کا جس قدر تعلق دل سے ہے اتنا دماغ سے نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک داعی اور مبلغ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کون سے نشتر ہیں جن سے دل متاثر ہوا کرتے ہیں۔‘‘
n دعوت دین کے سلسلے میں آپ کے اہم تجربات جو ہمارے ساتھ شیئر کرنا پسند کریں گے؟
2 اللہ کے بندوں کو اللہ کی معرفت عطا کرنا ہم جیسے گنہگاروں کے لیے سعادت کی بات ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس سعادت سے اللہ نے ناچیز کو بھی بہرہ مند کیا ہے۔ بالخصوص ریاستِ مہاراشٹر میں اور بالعموم ملک کی بیشتر ریاستوں میں اللہ سے غافل انسانوں سے مختلف حیثیتوں میں گفتگو کا موقع ملتا رہا، اور نت نئے تجربات حاصل ہوتے رہے۔ کئی مندروں، گرجاؤں، بودھ وہاروں اور چرچوں میں جانے کا موقع ملا، مگر کسی جگہ بھی قابلِ ذکر مزاحمت نہ ہوئی۔ گزشتہ سال ایک کالج میں عید ملن پروگرام سے لوٹ ہی رہے تھے کہ دونوجوانوں کا فون آیا جو MBA کے طالب علم تھے۔ وہ بے ساختہ کہہ رہے تھے کہ اسلام کی جو تعلیمات آج ہم نے آپ سے سنی ہیں، یہ دراصل ہمارے دل کی آواز تھی۔ ہمیں بنا کسی تاخیر کے مسلمان ہونا ہے۔ جب ہم نے دوبارہ ان سے ملاقات کی، تو اس ملاقات کے اختتام سے پہلے ہی وہ مسلمان ہوچکے تھے۔ اپنی طویل فہرست سے اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سعید روحیں گویا داعیانِ حق کی تلاش میں ہیں۔ ان چند برسوں میں خاص طور سے جس بات کا غالب احساس ہوا، وہ مدعوئین کی طرف سے محبت آمیز ردِ عمل ہے۔شاید دعوتِ دین کی پاداش میں اب کوئی پتھر نہیں مارے گا، اور اس راستے میں پتھر کھانے کی سنت ہم ادا کرنے سے قاصر ہی رہیں گے۔
یہ ہیں وہ خالد جنہوں نے ضلالتوں سے اسلام کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ جن کے ایمان کے لیول کو دیکھ کر اب ہمیں بھی مہمیز ملتی ہے۔ لیکن ان کے قبولِ اسلام کی رات شاید فراموش نہ ہوسکے۔ ان کے بہتے ہوئے آنسوؤں کی قطاریں اور ہچکیاں میرے رونگٹے کھڑے کردیتی ہے، جب وہ اپنی کفر کی حالت میں انتقال ہوچکی ماں کو یاد کررہے تھے۔
یہ ہیں وہ وشوناتھ جو ایس آئی او کے زونل آفس، ناگپور میں ہم سے ملنے اور اسلام کے بارے میں چند سوالات کرنے آئے تھے۔ ساتھ میں جناب وحید صاحب (رکنِ جماعت) بھی تھے۔ لیکن ایک گھنٹے کی گفتگو کے بعد مشرف بہ اسلام ہوگئے اور ہم نے ساتھ میں شکرانہ کی نماز ادا کی۔ آج یہ وشوناتھ، بلال بن چکے ہے۔ جن کو دیکھ کر مجھے تحریک ملتی ہے۔
کس کس کا انتخاب کروں، کس کو چھوڑدوں
جو ذرہ جس جگہ ہے، وہیں آفتاب ہے
حلقہ مہاراشٹر نارتھ زون پر گزارے چار سال میرے لیے اللہ کا انعام ہیں، جب کثرت سے یونٹ وسرکلس پر دورے ہوئے، اور اس بات کا خیال ہوا کہ ٹرینوں اور بسوں میں جو وقت سفر میں یوں ہی چلا جاتاہے اسے استعمال کیا جائے۔ ہمارے بیگ میں اسلام کا بنیادی لٹریچر موجود ہو اور ہم اسے راستے بھر استعمال کرتے رہیں۔الحمد للہ! سفر کے ان تجربات میں کئی لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے اور مجھے بالکل نئے تجربے کا احساس ہوا۔
n قارئین رفیق ، بالخصوص وابستگان تنظیم کو کیا پیغام دیں گے؟
2 ہماری اجتماعیت ہمارے لیے اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ جس نے ہمیں دین کا روشن اور واضح تصور دیا ہے۔ اس فہم و ادراک کا تقاضا ہے کہ ہم بہت ہی تیز رفتار اور تیز گام پیش قدمی کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کریں۔ اس ملک کی تقدیر ہمیں ہی بدلنی ہے، اور بلامبالغہ میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ایس آئی او آف انڈیا کی گود ہی میں ملک وملت کی قیادت تیار ہوگی، ان شاء اللہ۔ مجھے یقینِ کامل ہے کہ ہماری اجتماعی کاوشیں اللہ کی حمایت و نصرت سے ہمیشہ سرفراز ہوتی رہیں گی۔
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
2n2

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اپنے دل سے کہیں، محبت کرے

محی الدین غازی چمن کے حسن اور رنگینی کو بڑھانے کا بہترین ...