Home / تجزیہ ۔ قومی / جرمن بیکری بم دھماکہ چند ابھرتے ہوئے سوالات

جرمن بیکری بم دھماکہ چند ابھرتے ہوئے سوالات

۱۳؍ فروری ۲۰۱۰ ؁ء میں پونہ ایک بڑے بم دھماکہ کا نشانہ بناتھا، یہ دھماکہ کورے گاؤں پارک میں واقع جرمن بیکری نامی ریسٹورنٹ میں ہواتھا۔ اس حادثہ میں ۱۷؍ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ۵۸؍ افراد زخمی ہوئے تھے۔ تفتیش کی ذمہ داری پولیس سے اے ٹی ایس مہاراشٹر کو منتقل کردی گئی، اے ٹی ایس نے ۷؍ ستمبر ۲۰۱۰ ؁ء کو پونہ ریلوے اسٹیشن سے حمایت بیگ کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ یواے پی اے قانون کے تحت حمایت بیگ کو ایک ماہ کی ریمانڈ پر اے ٹی ایس کے سپرد کردیا گیا، اے ٹی ایس نے ۴؍ ستمبر ۲۰۱۰ ؁ء کو حمایت بیگ کے خلاف پونہ سیشن کورٹ میں چارج شیٹ داخل کردی۔ حمایت بیگ کے مطابق اس کی گرفتاری ۱۸؍ اگست ۲۰۱۰ ؁ء کو ادگیر سے ہوئی تھی، جب کہ اس کو بیس دن تک غیرقانونی حراست میں ٹارچر کیا گیا۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف ۲۱؍ نومبر ۲۰۱۱ ؁ء میں اسپیشل سیل دہلی نے قتیل صدیقی کوآنند وہار بس اسٹیشن سے جعلی نوٹ نیز دھماکہ خیز اشیاء کے ساتھ ایف آئی آر نمبر۲۰۱۱/ ۵۴ کے تحت گرفتارکیا، جب کہ قتیل کے مطابق اس کو تین روز قبل۱۹؍ نومبر کو پہاڑگنج سے اغواکیا گیا تھا، جب وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو ڈاکٹر کے پاس لے جارہاتھا۔ دوران حراست ایف آئی آر نمبر۲۰۱۰/۶۵ جامع مسجد فائرنگ اور ایف آئی آر نمبر ۲۰۱۰/۶۶ جامع مسجد کار بم دھماکہ کے تحت بھی ملزم بنایا گیا۔ان تینوں الزامات کے تحت لگاتار تین ماہ کی پولیس ریمانڈ ملتی رہی۔ دہلی اسپیشل سیل کی ریمانڈ ختم ہونے کے فوری بعد سینٹرل کرائم برانچ بنگلور(سی سی بی) ٹرانزٹ ریمانڈ پر قتیل صدیقی کو چناسوامی اسٹیڈیم بم دھماکے کے الزام میں بنگلور لے گئی، اسیڈیم میں ایک ہی وقت میں ایک ہی تھانہ علاقے میں پانچ دھماکے ہوئے، تاہم پانچ مختلف ایف آئی آر ۹۲؍ سے ۹۶ ؍(۲۰۱۰) درج کی گئیں، جن میں الگ الگ چارج شیٹ داخل کی گئیں، چارج شیٹ تقریبا تیس ہزار صفحات پر مبنی ہے، قانون کے مطابق چارج شیٹ ملزم کی زبان میں فراہم کرنا لازمی ہے، تاہم بنگلور سی سی بی نے کنڑ زبان میں چارج شیٹ فراہم کی، جوکہ ملزم کو انصاف سے دورکرنے کی ایک مروجہ رسم کا حصہ بن گئی ہے۔
۲۲؍ نومبر ۲۰۱۱ ؁ء کو مہاراشٹراے ٹی ایس کے افسران کی ہدایت پر اے ٹی ایس کے افسر دنیش کدم قتیل صدیقی سے تفتیش کرنے ممبئی سے دہلی آئے، تفتیش کے دوران قتیل صدیقی نے اسپیشل سیل و بنگلور سی سی بی کو دیئے بیانات کاتذکرہ کیا، اپنے اور یسین بھٹکل کے ملوث ہونے کی تصدیق کی، تفتیش مکمل کرنے کے بعد انسپکٹر دنیش کدم واپس ممبئی گئے، حمایت بیگ کے خلاف ۴؍ ستمبر ۲۰۱۰ کو ہی اے ٹی ایس اپنی چارج شیٹ جمع کرچکی تھی، چنانچہ ایک نئی ایف آئی آر ۲۰۱۱/۳۲بتاریخ ۹؍ فروری ۲۰۱۱ ؁ء کے تحت قتیل صدیقی کے خلاف ایک نیا مقدمہ قائم کیا گیا، جس کے مطابق ۱۳؍ فروری ۲۰۱۰ ؁ء کو قتیل صدیقی نے دگڑوسیٹھ ہلوائی گنیش مندر میں بم رکھنے کی کوشش کی تھی، جس میں وہ ناکام ہوا تھا، یہ ایف آئی آرپورے ۲۲؍ مہینوں کے بعددرج ہوئی تھی۔ایف آئی آر درج کرنے کے بعد تقریبا چھ ماہ کے بعد ۲؍ مئی ۲۰۱۲ ؁ء کو اے ٹی ایس مہاراشٹر قتیل صدیقی کو تفتیش کے لئے ریمانڈ پر لیتی ہے، اس کیس میں دنیش کدم شکایت کنندہ و اے سی پی صمد شیخ آئی او (تفتیشی افسر) ہیں۔ ۴؍ جون ۲۰۱۲ ؁ء کو دہلی کورٹ سے پیشی وارنٹ جاتا ہے، ۸؍ جون کو قتیل کا دہلی آنا طے ہوتا ہے، تاہم نہایت پراسرار و مشتبہ انداز میں یروڑا جیل پونہ کی ہائی سیکورٹی زون کی انڈا سیل میں قتیل صدیقی کا بہیمانہ قتل ہوجاتا ہے، تاہم کچھ راز رازداری کی انتہا کوششوں کے باوجود قتیل صدیقی کے ساتھ دفن نہ ہوسکے، جو اَب ممبئی ہائی کورٹ میں موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔
دہلی اسپیشل سیل نے اپنی چارج شیٹ (ایف آئی آر نمبر ۲۰۱۱/ ۵۴ ) کے صفحہ نمبر ۱۱؍ ، پیراگراف نمبر ۳؍ میں قتیل صدیقی کے خلاف جرمن بیکری بلاسٹ، پونہ و چناسوامی اسٹیڈیم بنگلور دھماکوں کا فرد جرم عائد کیا۔
سینٹرل کرائم برانچ بنگلور(سی سی بی) نے بھی اپنی چارج شیٹ( ایف آئی آر۲۰۱۰/ ۹۲ سے ۹۶) بتاریخ ۱۱؍ جولائی ۲۰۱۲ ؁ء میں قتیل صدیقی کے خلاف جرمن بیکری بلاسٹ، پونہ و چناسوامی اسٹیڈیم بنگلور دھماکوں کا فرد جرم عائد کیا۔ تاہم پونہ سیشن کورٹ میں اے ٹی ایس مہاراشٹر نے نہ تو ان حقائق کا تذکرہ کیا، اور نہ ہی قتیل صدیقی کا اقبالیہ بیان پیش کیا جو اس نے انسپکٹر دنیش کدم کو دیا تھا۔
حمایت بیگ کے سلسلے میں اے ٹی ایس کی جانب سے جمع کردہ چارج شیٹ کے مطابق ’’حمایت بیگ لشکر طیبہ کا کیڈر ہے، جو آئی ایم کے ایکٹیوسپورٹ سے حکومت ہند کا تختہ پلٹ کر اسلامی حکومت لانا چاہتا تھا۔ اس لئے یہ مارچ۲۰۰۸ ؁ء میں کولمبو (سری لنکا) جاتا ہے، جہاں سازش تیار کرنے کی غرض سے ابوجندال، فیاض کاغذی نیز بھٹکل برادران کے ساتھ حمایت بیگ ایک اہم میٹنگ میں شریک ہوتا ہے، سازش رچی جاتی ہے، حمایت بیگ کو آٹھ ہزار یورو کرنسی دی جاتی ہے، حمایت کرنسی لے کر ہندوستان واپس آتا ہے، اپنا گاؤں چھوڑ کر ادگیر منتقل ہوجاتا ہے، ادگیر میں حمایت کانام یوسف سر میں تبدیل ہوجاتاہے نیز وہ ایک انٹرنیٹ کیفے (گلوبل انٹرنیٹ کیفے) شروع کردیتا ہے، ساتھ میں الصباء کوچنگ سینٹر میں بچوں کو ٹیوشن کے ساتھ ساتھ علاقے میں لشکر طیبہ کے پروگرام میں حسن کے نام سے درس دیتا ہے، جنوری ۲۰۱۰ ؁ء میں یسین بھٹکل کے ساتھی حمایت کے کیفے میں آتے ہیں، جرمن بیکری دھماکے کی سازش تیار کرکے واپس چلے جاتے ہیں، ۸؍ سے ۱۱؍ فروری تک حمایت اور یسین ممبئی میں رہتے ہیں۔وہاں سے Nokia-1100 ماڈل فون خریدتے ہیں۔
۱۱؍ فروری کی شام میں واپس ادگیر کے لئے نکلتے ہیں ، ۱۲ ؍فروری کی رات گلوبل کیفے میں بم تیار کرکے۱۳؍ فروری کی صبح یہ دونوں تیارشدہ بم لے کر پرائیویٹ کار کے ذریعے ادگیر سے لاتور آتے ہیں(جو کہ تین گھنٹے کا سفر ہے)، پھر وہاں سے مہاراشٹر اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بس سے پونہ آتے ہیں، پونہ پہنچ کر ریلوے اسٹیشن سے بذریعہ آٹو رکشا جرمن بیکری پہنچتے ہیں( یہ آٹو ڈرائیور شیواجی گورے جو کہ پرازیکیوشن گواہ نمبر ۹۳ ہے، پانچ منٹ کی مسافت طے کرنے والے مسافر کی شکل دوسال تک یاد رکھتا ہے)، یسین اندر جاتا ہے، حمایت بیگ موٹر سائیکل سے واپس اورنگ آباد صرف چار گھنٹے میں آجاتاہے ۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ یہ مسافت کم ازکم ۷؍ گھنٹہ کی ہے، نیز اس دوران حمایت بیگ کے دونوں ہی موبائل آئی ڈی آر رپورٹ کے مطابق اورنگ آباد رینج میں ہی رہے ہیں۔
اس کیس میں چند اہم قانونی و اصولی بے ضابطگی سامنے آتی ہیں، جن کو عدلیہ و تفتیشی ایجنسیاں نظر انداز کرتی دکھائی دیتی ہیں،جو نہایت تشویشناک ہیں، مثلا اے ٹی ایس مہاراشٹر کی چارج شیٹ کے مطابق سازش کولمبو میں تیار کی گئی۔ کولمبو میں میں کہاں ہوئی، تاریخ، مقام، گواہ و ثبوت کسی چیز کا کوئی تذکرہ موجود نہیں۔ صرف حمایت بیگ کے پاسپورٹ پر کولمبو کا اسٹیمپ موجود ہے۔کوئی انکوائری وہاں نہیں ہوئی، اس صورت میں بنیادی اصول جو کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۸۸؍ میں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ’’ اگر کوئی بھی جرم یا جرم کی سازش اگر کسی بھی بیرون ملک میں ہندوستان کے شہری کے ذریعے تیار ہوتی ہے تو اس جرم کی انکوائری یا عدالتی کارروائی سے قبل مرکزی حکومت سے باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہے، کوئی بھی عدالت مرکزی حکومت کے پیشگی اجازت کے بغیر کسی طرح کی انکوائری یا عدالتی کاروائی و قانونی چارہ جوئی کی حامل نہیں ہے‘‘،تاہم اس کیس میں اب تک مرکزی حکومت کی طرف سے کسی بھی طرح کی اجازت طلب یا حاصل نہیں کی گئی۔ساتھ ہی سپریم کورٹ کے اہم فیصلے یعقوب عبدالرضا میمن بنام اسٹیٹ آف مہاراشٹر میں بیان کردہ اصول و ضوابط بھی عدالت نے نظراندازکردئیے۔
جرمن بیکری بم دھماکہ سے دوسال قبل ۲۰۰۸ ؁ء میں ہماری پارلیمنٹ نے این آئی اے ایکٹ پاس کیا تھا۔ این آئی اے ایکٹ کی دفعہ ۶؍ کی شق ۳؍ کے تحت صوبائی حکومت کے ذریعے حاصل شدہ معلومات کو سامنے رکھ کر صرف مرکزی حکومت ہی اس اختیار کی حامل ہے کہ وہ طے کرے کہ متعلقہ حادثہ یو اے پی اے کے تحت جرم کے دائرے میں آئے گا یا نہیں( یعنی یواے پی اے کا اطلاق صوبائی حکومت یا ادارے نہیں کرسکتے بلکہ صرف مرکزی حکومت کا ہی دائرہ اختیار ہے)، اس سلسلے میں بھی مرکزی حکومت کی طرف سے یواے پی اے لگانے کی کوئی اجازت حاصل نہیں کی گئی ہے۔
این آئی ایکٹ کی دفعہ ۶؍ کی شق۴؍ اور بقیہ شقات کے مطابق ’’ اگر مرکزی حکومت اس جرم میں یواے پی اے کی کسی بھی دفعہ کے استعمال کی اجازت دیتی ہے، تو صرف اور صرف نیشنل ایوسٹگیشن ایجنسی (این آئی اے) ہی اس کیس کی انکوائری و تفتیش کرنے کی حامل ہوگی، نہ کوئی دیگر صوبائی یا مرکزی ایجنسی، بلکہ خود بہ خود یہ کیس این آئی اے کی تحویل میں چلاجائے گا، نیز اس سے متعلقہ تمام دستاویزات کو این آئی اے کے سپرد کردیا جائے گا، بصورت دیگر یہ کیس یواے پی اے کے تحت درج کرنے کی اجازت نہ ملنے تک متعلقہ پولیس اسٹیشن کا آفیسر انچارج ہی اس کیس کی تفتیش کرے گا۔ ‘‘ یہ تمام ہی قانونی اصول بالائے طاق رکھ دئیے گئے، جو ہمارے مروجہ قوانین و ضوابط کی روشنی میں بنیادی و لازمی شرائط کی اہمیت کے حامل تھے، چنانچہ اے ٹی ایس کے ذریعے تیارشدہ چارج شیٹ ہی غیرقانونی تھی۔
یو اے پی اے قانون کی دفعہ ۲؍ کی شق ڈی کے تحت اس قانون کے تحت درج مقدمات کی سماعت کا اختیار صرف اور صرف این آئی اے کی اسپیشل عدالت کو ہی ہوگا ، بصورت دیگر سیشن کورٹ کے جج کا دائرہ اختیار ہوگا، تاہم حمایت بیگ کے کیس میں تمام ہی عدالتی و پولیس ریمانڈ کے احکامات مجسٹریٹ نے دئیے ، جبکہ یہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھا، نیز سراسر قانون کی خلاف ورزی تھی۔
اے ٹی ایس مہاراشٹر کا دعوی ہے کہ اس کے پاس ’’ہوٹل او‘‘ کے سی سی ٹی وی کیمرے سے لی گئی وہ ویڈیو ہے ، جس میں یسین بھٹکل کو بم رکھتے یا لے جاتے دیکھا گیا ہے، این آئی اے کی پے درپے درخواستوں کے باوجود نہ تو وہ فوٹیج (ویڈیو) اب تک این آئی اے کو سونپی گئی ہے جو کہ این آئی اے ایکٹ کی دفعہ ۶؍ کی شق ۶؍ کے تحت لازمی ذمہ داری تھی، نہ ہی ملزم یا وکیل دفاع کو دی گئی جو اس کا بنیادی حق تھا، نیز سب سے اہم یہ کہ اب تک میڈیا کو بھی نہیں دی گئی جوکہ ہماری پولیس ایجنسیوں کا مروجہ و محبوب ترین راستہ ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جرمن بیکری نیز ہوٹل او کے درمیان سو فٹ چوڑا ہائی وے ہے، اس کے علاوہ جرمن بیکری کے چاروں طرف ساڑھے سات فٹ اونچی دیوار ہے، جس کے بعد بھی اندر کا ویڈیو ہوٹل کے کیمرے سے تیار ہونا، ایک تخیلاتی دعوی معلوم ہوتا ہے جس کی تائید پولیس کا طریقۂ کار بھی کرتا ہے۔
برآمدگی میں آرڈی ایکس کا اعلان و دعوی کیا گیا جس کی شکل پاؤڈر بتائی گئی، اسی کی بنیاد پر اکسپلوزیو ایکٹ کی دفعہ ۷؍ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، نیز یہی دعوی کورٹ میں کیا گیا تاہم اس حقیقت کو پولیس و عدالت بے خیالی و کم علمی میں تسلیم بھی کرگئی، جبکہ آرڈی ایکس ہمیشہ جامد حالت میں ہی ہوسکتا ہے، یوں عدالت نے اپنی غفلت یا تعصب کی آڑ میں پولیس کی اندھی تقلید سے کام لیا۔نیز آرڈی ایکس جہاں سے دکھایا گیا وہ ایک کھلا ہوا بغیر تالے کا کمرہ تھا، جہاں کوئی بھی آجاسکتا تھا، جب کہ اکسپلوزیوسبسٹنس ایکٹ کی لازمی شرط Concious possession یعنی مکمل علم کے ساتھ یقینی قبضہ ہے۔اس کے علاوہ استغاثہ کے ایک گواہ کے مطابق حمایت بیگ مسجد میں ہی رہتا تھا۔
نوکیا ۱۰۰ ۱؍ کے استعمال کو ثابت کرنے میں بھی استغاثہ و پولیس پوری طرح ناکام رہے، اور نہ سی ایف ایس ایل کی اہم رپورٹ کو اہمیت دی گئی۔حمایت بیگ ۱۳؍ فروری ۲۰۱۰ ؁ء کے روز صبح ساڑھے آٹھ سے ساڑھے نو کے درمیان اورنگ آباد میں ہی تھا، اس دعوی کو تقویت پہنچانے کے لئے سرکاری گواہ نمبر ۹۶؍ کابیان بھی کافی تھا، سرکاری گواہ نمبر ۹۷؍ کا بیان بھی سرکاری کہانی کو غلط ثابت کررہاہے ، تاہم فاضل جج نے نظرانداز کردیا۔
آٹھ ہزار یورو کرنسی کا کیا ہوا، کہاں کرنسی کو تبدیل کیا گیا، کس استعمال میں آئی، کیا اس الزام کا کوئی گواہ یا ثبوت موجود ہے، اے ٹی ایس کے ساتھ ساتھ ہمارے صد احترام قابل جج نے بھی خاموشی اختیار کرکے فرض منصبی کی ادائیگی کی جو کہ عوام کی نظر میں مشکوک و متعصبانہ رویہ ہے۔
یسین بھٹکل ادگیر آیا، گلوبل کیفے میں بم بنایا گیا، اس الزام کا بھی نہ تو کوئی گواہ ہے نہ ہی کسی طرح کا کوئی بھی ثبوت پولیس یا وکیل استغاثہ پیش کرنے میں کامیاب ہوئے ۔پولیس کہانی کے مطابق حمایت بیگ اور یسین بھٹکل ادگیر سے بذریعہ پرائیویٹ کار لاتور پہنچے، کون سی کار تھی، کس کی تھی، کیسی تھی، کار کا نمبر کیا تھا،نیز کار کا ڈرائیور یا مالک کون تھا، کسی بھی طرح کی کوئی معلومات و تفصیل پولیس یا عدالت کے پاس نہیں، اور نہ کوئی بھی گواہ یا ثبوت پیش کیا گیا۔
لاتور سے پونہ کس بس سے گئے، اگیارہ گھنٹہ کی مسافت طے کی، کوئی گواہ نہ مل سکا، کوئی تفصیل یا ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا،تاہم پونہ بس اسٹینڈ سے جرمن بیکری تک کاچند منٹوں کی مسافت طے کرنے والا آٹو ڈرائیور دو سال بعد بھی حمایت بیگ و یسین بھٹکل کو پوری طرح پہچاننے میں کامیاب رہا، اس پر بھی عدالت کو کوئی تشویش یا تعجب نہیں ہوا۔
اس پورے کیس کی سماعت کے دوران کسی بھی دفاعی گواہ کو نہ تو بلایا گیا اور نہ ہی کسی دفاعی وکیل کی گواہی ہوسکی، اس پر بھی عدالت کو کوئی تشویش نہیں ہوئی۔پرازیکیوشن کے مطابق بھی وہ براہ راست دھماکہ میں شامل نہیں تھا، البتہ سازش میں شریک تھا۔ ان تمام ہی حقائق کے ہوتے ہوئے بھی صرف اور صرف Circumstantial Evidences کی بنیاد پر ہماری عدلیہ نے پانچ بار پھانسی اور چھ بار عمر قید جیسا فیصلہ سنادیا۔
اس پورے کیس کی پہلی تشویشناک کڑی وہ تھی جب ایک مراٹھی اخبار ’’دینک ساکال ‘‘ نے ۲۵؍ مئی ۲۰۱۰ ؁ء کے ایڈیشن میں یہ دعوی کیا کہ جرمن بیکری بم دھماکہ کا ماسٹر مائنڈ و پلانٹر عبدالصمد گرفتار ہوگیا، مرکزی وزیرداخلہ پی چدمبرم نے اس عظیم کامیابی پر تعریف کے پل سجادئیے، ممبئی پولیس کمشنر نے ایوارڈ و کیش ریوارڈ کی بارش کردی۔ بہرحال عبدالصمد کی ۲۸؍ دن تک پولیس ریمانڈ ہوتی ہے۔ اسی دوران عبدالصمد کے والد میڈیا میں ایک ویڈیو پیش کرتے ہیں، جس ویڈیو میں عبدالصمد کو دھماکے والے دن ووقت ۱۳؍ فروری ۲۰۱۰ ؁ء کی ایک شادی میں شرکت کرتے ہوئے دکھایاگیا تھا۔جس کے بعد اے ٹی ایس نے معافی کے ساتھ عبدالصمد کو رہا کردیا، ریمانڈ کے دوران عبدالصمد کو ٹارچر کے دوران جو الیکٹرک شاک، Narcoاور Truth Syremکے جو انجکشن دیئے گئے، آج تین سال گزرنے کے بعد بھی وہ اپنا اثر دکھانے سے باز نہیں آتے۔ یہ عبدالصمد حالیہ متحدہ عرب امارات کے ذریعے ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کو سپرد کئے گئے گرفتارشدہ یسین بھٹکل ( ڈی این اے بتاریخ ۳۱؍ اگست ۲۰۱۳ ؁ء) کا چھوٹا سگا بھائی ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ فاضل جج اپنا فیصلہ دیتے وقت کرمنل جسٹس سسٹم کی روح نیز انڈین ایویڈنس ایکٹ کے بنیادی اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے کئی گواہ کے بیانات میں سے کچھ حقائق کو اپنی صوابدید سے نکارتے گئے اور کچھ نکات پر آنکھ بند کرکے اپنے فیصلہ کی بنیاد بناتے چلے گئے تو یقیناًشک وشبہات کو جنم دینے کا جواز رکھتا ہے۔ہندوستان میں مروجہ قوانین و ضوابط کی روشنی میں ہر کوئی یہ دعوی کرسکتا ہے کہ حمایت بیگ کو صرف اور صرف قیاس و خیال اور Circumstantial Evidences کی بنیاد پر پانچ بار پھانسی اور چھ بار عمر قید با مشقت کے علاوہ دیگر ۲۲؍ سال کی قید بامشقت کی سزا کا یہ مضحکہ خیزفیصلہ ہمارے نظام عدلیہ سے عدل و انصاف کی روح پرواز ہونے کا گمان یقین میں بدلنے پر مجبور کرتا دکھائی دیتاہے۔
۱۸؍ اپریل ۲۰۱۳ ؁ء پونہ سیشن کورٹ نے جب یہ فیصلہ سنا یا تو حمایت بیگ نے روتے ہوئے عدالت سے کہا تھا:’’ اگر دھماکہ کے روز سترہ افراد کا خون ہوا، تو آج میں اٹھارہواں شخص ہوں جو اس بم دھماکہ کی بھینٹ چڑھایا گیا ہوں۔‘‘
گزشتہ ۱۷؍ جولائی کو این آئی اے نے ملک میں انڈین مجاہدین کی مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کے سلسلے میں دہلی کی ایک عدالت میں اپنی ۵۷؍ صفحات پر مشتمل چارج شیٹ جمع کی، جس میں یسین بھٹکل کا نام جرمن بیکری دھماکہ پونہ میں بطور ملزم نامزد کیا، تاہم اس پوری چارج شیٹ میں کہیں بھی حمایت بیگ کا تذکرہ موجود نہیں ہے، جو کہ انڈین مجاہدین کے نام پر گرفتار افراد میں پہلا سزایافتہ شخص ہے۔ اس چارج شیٹ میں این آئی اے نے دہلی پولیس ، بنگلور پولیس، راجستھان اے ٹی ایس، نیز احمدآباد کرائم برانچ کے ذریعے کی گئیں انڈین مجاہدین کے تمام مبینہ بم دھماکوں کی تحقیقات کا تذکرہ کیاگیا، تاہم مہاراشٹر اے ٹی ایس کے ذریعے جرمن بیکری دھماکہ پونہ یا ممبئی ۷/۱۳ کیس کی کسی بھی تحقیقات کی اہمیت یا تذکرہ کو جگہ نہیں دی۔ قتیل صدیقی جو کہ دہلی و بنگلور پولیس کی چارج شیٹ میں جرمن بیکری کیس کا ملزم تھا ، مہاراشٹر کی پونہ جیل میں مشتبہ حالت میں قتل کردیا گیا۔ یسین بھٹکل نے بھی اپنی گرفتاری کے بعد این آئی اے کو دئیے گئے بیانات میں حمایت بیگ کے کسی بھی رول کا انکار کرکے مہاراشٹر اے ٹی ایس و پونہ سیشن کورٹ کے طریقۂ کار پر شک و شبہات پیدا کردئیے ہیں۔
یہاں حمایت بیگ کے اس خط کا تذکرہ بھی کم اہم نہ ہوگا جو اس نے جیل سے گزشتہ ۳۱؍ اگست ۲۰۱۳ ؁ء کو ہائی کورٹ ممبئی کے جج صاحبان کے نام تحریر کیا ہے۔ حمایت بیگ نے اپنے خط میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کے ذریعے اپنی غیرقانونی گرفتاری نیز اس ٹارچر کا تذکرہ کیا ہے جبکہ وہ بیس دن کی غیر قانونی پولیس حراست میں تھا، اس دوران اس کے پوشیدہ مقامات پر کرنٹ لگایاگیا، غیرانسانی سلوک کیا گیا، سادے اوراق پر دستخط لیے گئے، زخموں پر خود ہی اے ٹی ایس کے افراد نے تھانے میں ٹانکے لگائے، انکاؤنٹر کی دھمکیاں دی گئیں، اے رحمان کی شکل میں اے ٹی ایس نے اپنا وکیل کرنے پر مجبور کیا، اے رحمان کے وکالت نامہ پر اے ٹی ایس والوں نے ہی زبردستی دستخط کروائے، جو صرف ایک بار ہی اس سے ملے، وکیل نے بارہا اصرار کے باوجود چارج شیٹ اسے نہیں دی، نہ ہی کبھی اس کے بتائے ہوئے پوائنٹس کو عدالت میں پیش کیا۔
حمایت بیگ نے نظام عدلیہ پر اپنے اعتماد کی دہائی دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج صاحبان سے التجا کی ہے کہ پورے کیس کی ازسرنو این آئی اے سے تحقیق کروائی جائے،نیز کیس کی ازسرنوسماعت کے دوران مجھے حاضر ہوکر اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے۔
یہ پورا کیس آج ہمارے ملک میں قائم نظام عدلیہ، تفتیشی ایجنسیوں کے طریقۂ کار، سماج کے ذمہ دار افراد کے طرزعمل کے تناظر میں بہت سے سوالات جنم دیتا ہے، آج ہمیں خود یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس رخ پر اپنے ملک نیز اس کے اہم تر شعبہ عدل وانصاف کو لے جارہے ہیں۔ کیا ان حالات میں ہمارے اوپربھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟ ہم اپنے آپ کے لیے ملک کی تخریب یا تعمیر میں سے کس ذمہ داری کو منتخب کرنا پسند کریں گے؟
ابوبکر سباق سبحانی(اے پی سی آر)

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

دادری کا وحشیانہ قتل: فسطائی دہشت گردی

دادری کا تازہ واقعہ ہو ، مظفرنگر ہو ، بلبھ گڑہ ہو ...