بنیادی صفحہ / سخن / تنظیم سے رخصت ہونے والے ایک رفیق منظوم احساسات

تنظیم سے رخصت ہونے والے ایک رفیق منظوم احساسات

 ، جوایس آئی او مہاراشٹر نارتھکے ممبرس کیمپ میں پیش کیے گئے۔ ادارہ

سناتا ہوں تمہیں تنظیم سے کیا میں نے پایا ہے
میں اک پتھر تھا معمولی، مجھے ہیرا بنایا ہے
اندھیری شب میں، میں بھٹکا ہوا ایک راہی تھا
اجالوں میں مجھے لا کر صحیح رستہ دکھایا ہے
زباں گونگی تھی میری اس نے ہی تاثیر بخشی ہے
مرے جذبوں ارادوں کو نئی تصویر بخشی ہے
جو برسوں قبل دیکھا خواب مودودی نے دنیا میں
اُسے پورا کیا اُس خواب کو تعبیر بخشی ہے
بچھڑ کر تجھ سے ایس آئی او ترا کردار ہوں گے ہم
اگر ہو مشکلوں میں تُو، ترے غم خوار ہوں گے ہم
جدا تجھ سے میری تنظیم، ہم اس طرز سے ہوں گے
تو ہوگی کشتی دریا کی، ترے پتوار ہوں گے ہم
جو گزرے سنگ ممبرس کے، وہ لمحے یاد آئیں گے
ہوئے جس سے ذہن مضبوط، وہ لہجے یاد آئیں گے
جوانی جس نے بھی تنظیم کو بے باک ہوکر دی
وہی بے باک سے لوگوں کے چہرے یاد آئیں گے
چمن سے میں ہوا رخصت مجھے بھی یاد رکھنا تم
بچانا خار سے اس کو یہ گلشن شاد رکھنا تم
بہت زیادہ پریشانی ومحنت سے سنوارا ہے
محافظ اس کے بن جاؤ اسے آباد رکھنا تم
نصیحت کچھ نہیں بس اک یہی پیغام دیتے ہیں
میری تنظیم ہے چاہت، تمہیں انعام دیتے ہیں
یہ دل افسردہ ہے لیکن، خوشی اس بات کی بھی ہے
جواں ہاتھوں میں اب ہم پرچم اسلام دیتے ہیں
خدا کشتی ہے یہ، گرداب سے اس کو بچانا تو
اگر گمراہ ہوجائے صحیح رستہ بتانا تُو
وہ جن کے عزم نے تنظیم کو یہ حوصلہ بخشا
اُن ہی ممبرس کی راہوں پہ دانش کو چلانا تو

اسرار دانشؔ خان، پوسد۔ مہاراشٹر
موبائیل نمبر: 7875835552

تعارف: admin

2 تبصرے

  1. ما شا ء الله۔۔ برادر۔۔ صحیح معنوں میں ہر جانے والے کے ضزبات کی ترجمانی کی یے۔۔۔ الله ہماری مادرتنظیموں اور تحریکوں کے لیے منزلیں آسان کرے۔۔۔۔۔ سرمایا امت کی حفاظت کرے ۔۔ آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ائے کاش ایسا دیس ہو..!!

کبھی دل کرے سرگوشیاں میں جاؤں کہیں دور تک جیسے جاتی ہیں ...