بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / تعلیم کا بھگوا کرن

تعلیم کا بھگوا کرن

دنیا میں مروجہ نظام تعلیم بالعموم تین مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے: (۱) ملکی نظام چلانے کے لئے بہتر افراد تیار کرنے کے لئے۔(۲) استعماری قوتیں اپنا غلبہ قائم رکھنے کے لئے تعلیم کو بطورِ ہتھیار استعمال کرتی رہی ہیں۔(۳) خاص قسم کے طرز فکرپر لوگوں کی نظریہ سازی کے لئے ۔
دنیا کے زیادہ تر ممالک میں پہلے مقصد پر مبنی نظام تعلیم ہی رائج ہے، خود ہمارے ملک ہندوستان میں بھی یہی نظام تعلیم چلتا ہے۔
دوسری قسم کا نظام تعلیم استعماری قوتیں غلام قوموں کی تعلیم و تربیت کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں، تاکہ ان کے اندر آزادی کے خیالات نہ پیدا ہوسکیں۔ اسی کے بارے میں اقبال نے کہا تھا ؂
اک نردِ فرنگی نے کہا اپنے پسر سے
منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہوسیر
بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑاظلم
برّے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر
سینے میں رہے رازِ ملوکانہ تو بہتر
کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہوجائے ملائم تو جدھر چاہے اُدھرپھیر
تیسری قسم کا نظام تعلیم کسی قوم کو ایک خاص فکر پر ابھارنے اور اس کی تربیت کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ہندوستان میں جاری تعلیم کا بھگواکرن اسی سلسلے کی کوشش ہے، اس نظام تعلیم میں دو اجزاء بہت اہم ہوتے ہیں:
اوّل یہ کہ جس قوم کو ابھارنا مقصد ہو اس کو اپنے تاریخی ورثہ اور تہذیبی روایت پر بجا اوربے جا فخر سکھایا جاتا ہے اور اگر تاریخی ورثہ موجودنہ ہو تو خودساختہ تاریخ تیار کی جاتی ہے۔
دوم یہ کہ اندورنِ خانہ کسی دشمن کو تلاش کیا جائے اور اسے تمام مسائل کی جڑ بتایا جائے ۔ بھگواکرن کی کوششیں انہیں دو نکات کے تحت جاری ہیں، سنگھ نے بالکل اپنے ابتدائی زمانے ہی سے تعلیم کو ذہن سازی کا ذریعہ بنایا ہے۔ سنگھ کا دوسرا سرچالک ایم ۔ایس ۔ گولوالکر لکھتا ہے: ’’نوجوان ذہنوں میں صحیح جذبہ اور طریقہ کار کا شعور پیدا کرنا ہوگااس کے لئے ہمیں لامحدود پیمانے پر قدیم و جدید لٹریچر شائع کرنا ہوگاجو ہمارے قومی ہیروز اور ان کے واقعات کو بیان کرے تاکہ ہمارے جدید ذہن کو اپنے رِشی اور یوگی کے ورثہ پر فخر محسوس ہو، ہمیں ہندو کی طرح جینا چاہیے، ہمیں ہندو ہی کی طرح رہنا چاہیے اور دنیا نے ہمیں ہندوہی سمجھنا چاہیے ۔ ‘‘ تعلیم کا بھگو اکرن کیا ہے ؟ اس کو واضح کرتے ہوئے مرلی منوہر جوشی نے کہا تھا: ’’بھگواکرن کا مطلب مقدس ہندوستانی روایات کی واپسی ہے‘‘۔تعلیم کے بھگوا کرن کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
پہلا مرحلہ وہ ہے جس میں سنگھ اقتدار سے دُور رہا اور غیر سرکاری سطح پر تعلیم کے بھگواکرن کی کوششیں کرتا رہا۔ دوسرا مرحلہ اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب سنگھ کی سیاسی جماعت بی جے پی کو پہلی مرتبہ اقتدار حاصل ہوتا ہے اور نریندر مودی کے دور میں اپنے عروج پر پہنچتا ہے ۔ سنگھ نے تعلیم کے بھگواکرن کے لئے مستقل کوششیں کی ہیں۔ ابتداء ہی سے سنگھ کی توجہ اسکولوں کی طرف رہی ہے، ودیہ بھارتی جو ہندوستان کا سب سے بڑا پرائیویٹ اسکول نیٹ ورک ہے سنگھ ہی کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ جس کے زیر انتظام ۱۸؍ہزار سے زائد اسکول ہیں جس میں بالعموم مڈل کلاس کے طلبہ پڑھتے ہیں۔اسی طرح آدی باسی علاقوں میں ون واسی کلیان آشرم کے نام سے ہاسٹل چلائے جاتے ہیں۔اسی طرح اکھل ودیان فاؤنڈیشن ہے،اس میں اس طرز کے اسکول قائم کئے جاتے ہیں کہ ایک ہی ٹیچر اسکول میں پڑھا تا ہے جہاں طلبہ کو سنسکرت زبان لکھائی اور پڑھائی جاتی ہے۔اساتذہ کی ذہنی تربیت کے لئے بھارتی ادھیاپک پریشد ، طلبہ کی رہنمائی کے لئے اے بی وی پی اور اسی طرح کی کئی تنظیمیں تعلیمی میدان میں سنگھ کے ایجنڈے کو آگے بڑھارہی ہے۔ ان تمام اسکولوں کی کامیابی کی بڑی وجہ سرکار کی ناکامی بھی رہی ہے جہاں حکومت لوگوں کو تعلیم مہیا نہ کراسکی، وہیں سنگھ نے آگے بڑھ کر اپنے اسکول قائم کئے ہیں۔ اس طرح اس پہلے مرحلہ میں سنگھ نے پورے ہندوستان کے اندر اسکول، کالجز ، لائبریریز ، اسٹڈی سرکلس اور ہاسٹلس کا بڑا نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ ان تمام چیزوں نے سنگھ کی فکر پھیلانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ دوسرے مرحلہ میں سنگھ کو پہلی مرتبہ تعلیم کے بھگواکرن کا سرکاری طور پر موقع اس وقت ملاجب ان ڈی اے کے دور حکومت میں مرلی منوہر جوشی ایچ آر ڈی منسٹر بنے ۔مرلی منوہر جوشی کے دور میں پورے ہندوستان بھر سے خاص سنگھی فکر کے افراد کو چن چن کر تعلیمی پالیسی ساز اداروں میں بٹھایاگیا اور اسی وقت سے نصاب تعلیم میں بھگواکرن کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کے این ڈی اے کا دور حکومت ختم ہونے کے بعد کانگریس کے دور میں بھی بھگوا کرن کا سلسلہ جاری رہا ۔اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں ارجن سنگھ نے ’’شکشا کے طالبانی کرن‘‘ کے نام سے اٹھایا تھا، جبکہ واجپئی حکومت نے اس کو اپنی بڑی کامیابیوں میں سے ایک گنوایا تھا۔
مودی حکومت کے دور میں یہ کوششیں اپنے عروج پر ہیں اور بہت ہی تیز رفتار اور منصوبہ بند طریقے سے جاری ہیں۔ سنگھ نے ایک کمیشن شکشا نیتی آیوگ کے نام سے بنایا ہے، یہ اپنی طرز کا پہلا غیرسرکاری کمیشن ہے جو موجودہ تعلیمی نظام کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کو اپنی تجاویز سونپے گا۔اس کمیشن کی ذمہ دار ی بدنام زمانہ رائٹر دیناناتھ بترا کو دی گئی ہے۔ ۸۵؍ سالہ بترا ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر اور ودیہ بھارتی کے جنرل سکریٹری رہ چکے ہیں۔ جو نصاب تعلیم سنگھ نافذ کرنا چاہتا ہے اس کا بڑا حصّہ بترا ہی کے ذریعے تیار کردہ ہے۔ ان کے ذریعہ تیار کردہ نصاب تعلیم پورے ملک میں نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بترا تاریخ کے نام پر سادھو سنتوں کے قصے اور افسانے سنانے میں ماہر ہے، دوسری طرف بترا خالص سنگھی فکررکھتے ہیں۔ بترا کی ذہنیت سمجھنے کے لئے ہندوستان ٹائمز میں شائع ہوا کرن ناگر کا یہ بیان کافی ہے:
’’آزادی کے بعد سے ہندوستان میں انسانوں کے ذریعے کئی تباہیاں آئی ہیں۔ بٹوارا، چینی دراندازی، دہشت گردانہ حملے۔ لیکن یہ تمام آفات اس سے کم ہیں جو اَب آنے والی ہیں، ایک بھیانک اندرونی دشمن جو وطن پرست ہونے کا دعویدار ہے، جی ہاں! میرا اشارہ دیناناتھ بترا کی طرف ہے ۔ بترا کے ذریعے تیار کردہ نصاب تعلیم میں اس بات کی کوشش کی جارہی ہے۔ طلبہ کو ہندوستان کی تہذیبی روایت اور تاریخی ورثہ پر فکر کرنا سکھایا جائے۔‘‘
اپنی تاریخ کو لے کر سنگھ ہمیشہ سے احساسِ کمتری کا شکار رہا ہے۔ اکھل بھارتیہ اتہاس شکشن یوجنا سنگھ کے ذریعے قائم کردہ ایک تنظیم ہے جو تاریخ کا مطالعہ کرتی ہے، اس کے جنرل سکریٹری بال مکوند پانڈے کہتے ہیں: ’’ ہمارے بچے وہ تاریخ پڑھ رہے ہیں جو انھیں ان کے ماضی پر شرمسار کرتی ہے ہم ایسی تاریخ چاہتے ہیں جس پر وہ فخر محسوس کریں‘‘۔
اسی لیے سب سے زیادہ تبدیلیاں تاریخ کی درسی کتابوں میں کی جارہی ہیں۔ اقلیت مخالف ذہن بنانے کی کوشش سنگھ ابتدائی زمانے سے کررہا ہے۔ گولوالکر نے اپنی کتاب Bunch of Thought میں بھارت کو درپیش اندرونی مسائل میں اقلیتوں کو بھی بڑا مسئلہ گنوایا ہے اور یہی چیز درس کی کتابوں میں پڑھائی جانے والی ہے ۔ نویں کلاس کی کتاب میں ہندوستان کو درپیش مسائل رشوت ، کرپشن ، اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو بھی ایک مسئلہ بتایا گیا ہے ۔ اسی طرح اقلیتیں مسلم ، عیسائی اور پارسیوں کو باہر سے آنے والے کی حیثیت میں دکھایا جارہا ہے۔ اسی طرح آزادی کی جنگ کو اس طرح پیش کیاجارہا ہے گویا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ تھی۔ بٹوارے کی پوری ذمہ داری مسلمانوں کے سر ڈالی جارہی ہے لیکن ہندو انتہا پسند تنظیموں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔اسی طرح گاندھی کا قتل ایک باب ہے جس میں گاندھی جی کے قتل کی وجہ آزادی کے بعد فسادات کو روکنے کی ان کی کوششوں کو بتایا گیا ہے لیکن وہاں بھی سنگھ کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔اسمرتی ایرانی پوری کوشش کررہی ہے کہ کسی طرح ویداس ، اپنیشداور قدیم ہندوستانی تاریخ کو آٹھویں ، نویں اور دسویں کے نصاب میں داخل کردیا جائے۔
لطف یہ ہے کہ بترا کے ذریعہ تیار کردہ نصاب تعلیم میں نہ صرف تاریخ اور جغرافیہ بلکہ سائنس تک میں تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مثلاً دنیا آج تک یہ سمجھتی رہی کہ ٹیلیفون گراہم بیل اور ہوائی جہاز وائٹ برادرس نے ایجاد کیا ہے لیکن اب ہندوستان کی مقدس تاریخ کے مطابق یہ ایجادات تو بہت پہلے ہندوستان ہی میں ہوچکی تھی۔ اسی طرح ٹیسٹ ٹیوب بے بی ، بھاپ کا انجن، ٹیلی ویژن ، ہوائی جہاز، موٹر کاریہ تمام چیزیں ہندوستان میں 7600 سال پہلے ہی ایجاد ہوچکی تھیں۔ اسی طرح ہندوستانیوں کا بڑا احسان عربوں پر یہ بھی رہا کہ انھوں نے الجبرا ایجاد کرکے عربوں کو تحفتاً دے دیا تھا ۔ تعلیم کے بھگواکرن کی فضا اس طرح بنائی جارہی ہے کہ پچھلے دنوں اپنی ایک تقریرمیں وزیر اعظم نریندر مودی بھی بترا کے ذریعے تیار کی گئی افسانوی کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ بیٹھے: ’’ ہم گنیش کی پوجا کرتے ہیں، اس وقت کوئی نہ کوئی پلاسٹک سرجن ضرور رہا ہوگا جس نے ہاتھی کا سر انسانی جسم پر لگادیا،اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے تو اس معاملہ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا جب انھوں نے کہا کہ ’’ہائیسن برگ کیtheory of uncertainty کی بنیاد ویداس ہے ۔ غالبا اسی لئے حفیظ نے کہا تھا ؂
مورخ تیری رنگ آمیزیاں توخوب ہے لیکن
کہیں تاریخ ہوجائے نہ افسانوں سے وابستہ
یہ وہ مختلف کوششیں ہیں جو وطن عزیز میں تعلیم کے بھگواکرن کے نام پر ہورہی ہیں حالانکہ عرفان حبیب نے اس کو تعلیم کے بھگواکرن کے بجائے تعلیم کا افسانوی کرن قرار دیا ہے۔ لیکن سچ بات وہی ہے جو The Hindu اخبار نے لکھی ہے:
Saffranisation is Nothing but intelactual Terorrism ۔
شبیع الزماں، پونہ۔ مہاراشٹر

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

سنگھ پریوار: ترجیحی عدم توازن کا شکار

عقل مند وہ ہے جو دوسروں کی غلطی سے ہوشیار ہوجاتا ہے ...