بنیادی صفحہ / نظر / تعصب کا آسیب

تعصب کا آسیب

عبدالملک شارق، نظام آباد

ھمارے ملک کے وزیراعظم نےیوم آزادی کی تقریر کے موقع پر’’ نیوانڈیا‘‘کا نعرہ لگایا،جسمیں انہوں نے GST  کے نام پرٹیکس اصلاحات اورکالے دھن کے نام پرDemonetisationجیسے کارناموں کا ذکر کیا،  یہ سب انہیں تاریخ میں منفردمقام دلاچکے ہیں لیکن انکی حیثیت ’’عصرحاضر کے تغلق‘‘ کی ہوگی یا کچھ اور، یہ تو وقت ہی بتائیگا لیکن سماجی سطح پرنئے ھندوستان میں بڑھتے ہوئے تعصب، عدم تحمل ،عدم رواداری ، عدم برداشت،  فرقہ پرستی،کٹر پن، جنگجو وطن پرستی،میڈیا کی زبان بندی و میڈیا کی جانبداری،  بھیڑ کے ذریعہ قتل،گاوٗ رکھشا کے نام پر دہشت گردی کے واقعات کی کثرت اور ان پر وزیر اعظم کا’’ منموہن کی خاموشی‘‘ والا رویہ اختیار کرنا کی بنا پرانہیں ضروریاد رکھا جایئگا۔Pew Research  کی رپورٹ کے مطابق مذہبی عدم رواداری کی رینکنگ والے ۱۹۸ ممالک کی فہرست میں شام، نائجیریا اور عراق کے بعد ہندوستان چوتھے نمبر پرکھڑا ہے۔نیشنل کرائم رکارڈ بیوریو کے اعدادوشمار کے مطابق ھندوستان میں یوں تو فسادات میں ۲۰۱۰ سے ۲۰۱۵ کے درمیان کمی واقع ہوئی ہے لیکن یوپی اور بہار کی ریاستوں میں فسادات دو ہندسی گنا رفتارسے بڑھے ہیں۔یو ایس کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی ۲۰۱۶ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں مذہبی روادری کی کیفیت خستہ اور مذہبی آزادی میں خلل میں اضافہ ہوا ہے۔یو این کی رپورٹ برائے ذات پات پر مبنی امتیازات ۲۰۱۶ کے مطابق کمزور اور پچھڑے ہوئے طبقات آج بھی ھندوستان میں کسمپرسی کی حالت میں ہے۔سماج میں بڑھتا ہوا تعصب کا آسیب، ’’کثرت میں وحدت‘‘ والے پلورل سماج (تکثیری )کو پولارائزڈ سماج (قطبی) بنارہاہے۔اور اقبال کے یہ اشعارآج کے حالات پربھیصادق آتے ہیں

رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستان! مجھ کو

کہ عبرت خیزہےتیرافسانہ سب فسانوں میں

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے مشورےہےآسمانوں میں

نہ سمجھوگے تومٹ جاوٗگےاے ہندوستان والو!

تمھاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

تعصب چھوڑناداں! دہرکےآئینہ خانے میں

یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تونے(تصویردرد۔ بانگ درا ۔ ۱۹۰۴ )

اس مضمون میں عصبیت و تعصب کا تجزیہ کرنا مقصود ہے۔ ان الفاظ کا عربی زبان میں مصدر’ع‘۔’ ص‘ اور’ ب‘ ہے۔ اور ان سے بننے والے الفاظ کے معنیٰ ’’پٹی ‘‘ کے ہیں جو زخم پر یا آنکھوں پر باندھی جائے اسکے علاوہ انکو’’ بدن کے پٹھے جوجوڑوں کو تھامے ہوئے ہیں ‘‘ یا ’’ وہ جماعت جس کے افراد ایک دوسرے کے ھامی و مددگار ہوں‘‘ کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریزی زبان میں لفظ تعصب کو Narrow Mindedness  تنگ نظری سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ لفظ عصبیت کو Prejudice, Bigotry, partisanship  اور tribalism سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آج کل دونوں الفاظ کو مترادف کے طورپر بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

تحقیق کے مطابق عصبیت ہمیشہ مذموم و مردود نہیں ہوتی اور تعصّب کو کبھی بھی محمود و مقبول کے درجے پر نہیں رکھا گیا۔ ابن خلدون نے جب عصبیت کی ضرورت بتائی تو اس کے محمود و مقبول ہونے کی وجہ سے بتائی ہے۔ قرابت داروں سے محبت، دوستوں سے تعلق، برادری سے وابستگی، مظلوم کی حمایت، حق دار کی مدد، طاقتورکے مقابلے میں کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا، عدل کے اصولوں کی نگہداری کرنا عصبیت کے دائرے کے عمل ہیں اور اس وقت تک یہ محمود ہیں جب تک عصبیت تعصّب میں نہ بدل جائے۔ عصبیت مثبت انداز میں بروئے عمل آئے توملی، قومی، قبائلی، خاندانی، ذاتی روایات و اقدار کے ’خزانے‘کو سینے سے لگائے رکھنے کا داعیہ پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس تعصّب حسد و حقد، نفرت و حقارت اور انتقام پر ابھارتا ہے اور سماجی رشتوں کو کاٹتا اور کمزور کرتا ہے۔عصبیت ایک اندرونی کیفیت ہے۔ کسی فرد یا گروہ، قوم، قبیلے یہاں تک کہ معتقدات، اصول و مبادی، نظریات و افکار کے دفاع کا داخلی نظم ہے لیکن تعصّب کا رخ ہمیشہ اندر سے باہر یعنی دوسروں کی طرف ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر بعض کے نزدیک عصبیت پہلے پہل مثبت جذبہ کے طور پرمستعمل تھی بعدمیں اسکا اطلاق منفی جذبہ پر بھی ہونے لگا لیکن تعصب یقینی طور پر صرف منفی جذبہ ہی کے لئے مستعمل رہی ہے۔علامہ اقبال کے مطابق

 شجر ہے  فرقہ آرائی،  تعصب ہے  ثمر اسکا

یہ وہ پھل ہے کہ جنت سےنکلواتا ہے آدم کو

یہ انسان سے شیطان کا حسد و تعصب ھی تھا جسکی بنا پر شیطان نے حضرت آدمؑ کوممنوعہ پھل کھانے کی غلط رہنمائی کی اور یہی تعصب تھا سکی وجہہ سے زمین پر ہابیل و قابیل کے درمیان لڑائی و قتل کا موجب بنا۔ اسلام کی نظر میں عصبیت اور تعصب کا کیا مقام ہے اسکو واضح کرنے میں سنن ابن ماجہ  کی حدیث سے مدد ملتی ہے ھدیث میں ہے کہ ایک صحابی نے اللہ کے رسولﷺسے پوچھا : اے اللہ کے رسول! کیا اپنی قوم سے محبت رکھنا عصبیت ہے؟ آپﷺنےفرمایا: نہیں بلکہ ظلم پر قوم کی مدد کرنا عصبیت ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہیکہ عصبیت اپنی فطری حیثیت میں مطلوب ہے جبکہ تعصب غیر مطلوب۔ابن خلدون نے مقدمہ تاریخ میں عصبیت پر یہ تبصرہ کیا ہے۔

’’حکومت عصبیت کی ایک طبعی غرض وغایت ہےجس کے واقع ہونےمیں اختیارکوذراسابھی دخل نہیں بلکہ عصبیت حکومت کا تقاضا ہےاور اسی سے حکومت وجود میں آتی ہے۔۔۔شریعتوں کومذہبی تحریکات کوبلکہ ہرقسم کی تحریکات کو(جسے جمہورلےکراٹھتے ہیں)عصبیت کے بغیر چارہ نہیں۔کیونکہ عصبیت ہی سے حقوق منوائے جاتے ہیں اور تکمیلی مراحل تک پہونچتے ہیں لہذا مذہب کےلئے عصبیت ہوناضروری ہےاور عصبیت ہی کےبل پراللہ کےاحکام جومذہب کی شکل میں پیغمبرلےکرآتےہیں،پروان چڑھتے ہیں اورپھلتے پھولتےہیں چنانچہ ایک صحیح حدیث میںہےکہ اللہ نےہرنبی کواس کی قومی طاقت ہی میں بھیجا ہےپھر ہم شریعت کوعصبیت کی برائی کرتےہو ئے پاتےہیں اور اس عصبیت کو نظراندا زکرنے کی ہدایت کی ہےچنانچہ رحمت عالمﷺ نےارشاد فرمایااللہ تعالیٰ نےتم سے عہد حاضرہ پرغرورکو اور نسبت پرفخرکو مٹادیاہے تم سب آدم کی اولاد ہواور آدم کومٹی سےپیداکیا ہے۔اور اللہ کا ارشاد ہےتم سب میں زیادہ عزت والااللہ کے نزدیک وہی ہےجوسب سے زیادہ تقویٰ والا ہےـ‘‘

’’انسانی افعال کےسلسلہ میں اگرشریعت کسی چیز سے روکتی ہے یا اسکی برائی کرتی ہے یا اسکےچھوڑنےکامشورہ دیتی ہےتو اسکی مراد یہ نہیں ہوتی کہ اسے بالکل ہی چھوڑدیا جائےیا اسکی جڑ ہی اکھاڑکر پھینک دی جائےاور جن قوتوں سے یہ افعالانجام دئے جاتے ہیں انکوبالکل ہی معطل کردیا جائے۔بلکہ شریعت کامقصدیہ ہوتاہیکہ ان افعال کومقدور بھرصحیح اورجائز اغراض میں پھیردیناچاہئےتاکہ ان کامصرف صحیح اور جائز ہواور تمام مقاصددائرہ حق میں آجائیں۔۔۔۔۔مثلا شریعت نے اسلئے غصہ کی برائی نہیں کی کہ اسکو بالکل ہی ختم کردیاجائے کیونکہ اگر انسان بالکل ہی قوت کھوبیٹھےتو حق کےلئے انتقام لینے پرکیسےقادرہوگااورجہادکسطرح کریگا ۔۔۔۔اگربرےمقاصدکےلئے غصہ ہےتووہ واقعی قابل نفرت ومذمت ہےلیکن اگراللہ کے دین کے بارےمیں اوراللہ کے قانون کے احترام کو برقراررکھنے کے لئے ہے توبلاشبہ غصہ قابل تعریف و تحسین ہے۔۔۔۔۔یہی حال عصبیت کا ہے۔‘‘

 عصبیت و تعصب کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں جیسے کہ مذہبی ، مسلکی و جماعتی وگروہی، صوبائی و علاقائی و وطنی( جو ریجنلزم یانیشنلزم کی بنیادہے) ،نظریاتی ،نسلی اور لسانی وٖغیرہ اور یہ تمام صرف حق و انصاف ہی کی حدود میں محمود ہیں اور ظلم و ناانصافی کی حدود میں غیرمحمود۔

کیسے پہچانیں کہ کوئی متعصب ہے؟

سائیکوتھیراپسٹس کو نزدیک ۷عادتیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہیکہ آیاکوئی متعصب ہے یا نہیں؟

۱۔ ایسا شخص جو شدت پسند ہے ایسا شخص کسی بھی معاملہ کی گہرائی وگیرائی تک نہیں پہونچتا اور معاملہ کو ایک سے زیادہ زاویہ ہائے نگاہ سے دیکھنے سے قاصر رہتا ہے اوراپنی محدود و تنگ نظر کی اساس پر فیصلہ کرتا ہے اور اپنی ہی رائے کو مقدم سمجھتا ہے اور اس سے مختلف آرا رکھنے والے کو غلط اور دشمن سمجھتا ہے

۲۔ایسا شخصجو نفسیاتی طور پرغیرلچک دار ہے معاملہ کو دوسرے نقاط نظر سے دیکھنااسکو  سخت متفکراور خوفزدہ کردیتا ہےاور سامنے والے سے کو ہمخیال و متفق بنانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے تیار ہوتا ہے

۳۔ ایسا شخص خود کو ‘I know it all’ سمجھتا ہے اور اپنی تنگ نظری کی بنا پر سخت جارحانہ موقف اختیار کرتا ہے۔

۴۔ایسے افراددوسروں کو سماعت  کرنیکا مادہ اپنے اندر نہیں رکھتے۔

۵۔ایسے افراد کے تعلقات نہایت خراب ہوتے ہیں۔انکے تعلقات صرف انہی لوگوں سے اچھے ہوتے ہیں جو انکے بات مانیں، انکے تابع رہیں اور انکی اطاعت و ماتحتی کریں۔

۶۔ ایسے افرادکے نزدیک دنیا صرف Binary ہوتی ہے یعنیٰ یا تو صرف سفید ہوتی ہے یا کالی۔۔ وہ  دنوں کے مجموعہ پر یادرمیانی یا خاکی رنگ پر یقین نہیں کرتے۔

۷۔ ایسے افراد حاسد ہوتے ہیں اور کبھی امن و چین کی حالت میں نہیں رہتے۔

 تعصب کاحل کیا ہے؟؟

تعصب نفرت ہی کی ایک شکل ہے اور نفرتوں کا مقابلہ ہمیشہ محبتوں ہی سے کیا جاتا ہے محبت کو پروانے چڑھانے کے لئے ضروری ہے دو باہم متحارب گروہوں کو آپس میں ایک دوسرے کو جاننے، ایک دوسرے کے اعادات و اطوار، عقائد و رسومات سے واقف ہونے کے مواقع فراہم کئے جائیں ،غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے اورمعاملات کو سلجھانے کے لئے حق وانصاف کو معیار بنانے کی طرف توجہ دلانا چاہئے۔ انکی وسعت نظر کے لئے ان میں حقائق کو سامنے لانا اور جھوٹی و غلط معلومات کو دورکرنا چاہئے معتدل و تعمیری سوچ و فکر کو فروغ دینا چاہئے جو افراد و تنظیمیں امن کو اور حقوق انسانی کے لئے کام کررہے ہیں انکی ہمت افزائی اور انکا تعاون کرنا چاہئے۔جو مظلوم افراد تعصب کا نشانہ ہو ئے ہیں انکی مدد کرنا اور انکے لئے انصاف کودلانے کےلئے کوشش کرنا چاہئے۔انکی قانونی امداد کرنا چاہئے۔نفرت کےسوداگروں کی شناخت اور انہیں قانون کے شکنجہ میں کسنے کے لئے اقدام کرناچاہئے۔ منتخب نمائندے اور تمام گروہوں کے ذمہ دار سے تعلقات کو استوار رکھنا اور ناگہانی صورتحال میں صحیح رخ میں عمل کرنے کے لئے ان پر دباوٗ ڈلوانا چاھئے۔دونوں گروہوں کومشترکہ مقاصدکے حصول کےلئے تگ ودوکرنے کے لئے آمادہ کرنا چاھئے۔ امید کہ تعصب کی فضا دور ہوگی اور محبتوں کا راج ہوگا۔ جیسا کہ اقبال نے کہا۔

محبت کے شررسےدل سراپا نور ہوتا ہے

ذراسےبیج سےپیدا ریاض طور ہوتا ہے

محبت ہی سےپائی ہےشفابیمار قوموں نے

کیاہےاپنےبخت خفتہ کو بیدار قوموں نے

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مسلمان اور سائنسی تحقیقات – ڈاکٹر محمد اسلم پرویز سے ایک گفتگو

ڈاکٹر اسلم پرویز کا نام علمی دنیا میں ایک معروف نام ہے۔ ...