Home / متفرق / ایک چمکتا ستارہ تھا وہ

ایک چمکتا ستارہ تھا وہ

آج مزمل بننا کو اس دنیا سے کوچ کیے مکمل ایک ہفتہ ہونے کو ہے، لیکن وہ ہے کہ اپنے پورے وجود کے ساتھ میرے دماغ اور اعصاب پر اس طرح سوار ہے کہ کوئی دوسری چیز سوجھتی ہی نہیں، ہر وقت اسے یادوں کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں ، گزرے لمحوں میں اسے تلاش کرتا رہتا ہوں۔ اس دوران اللہ رب العزت نے مجھے ایک بیٹی عطا کی، اور میرے ایک ماموں کے انتقال کی افسوسناک خبر بھی ملی، لیکن ان خوشی اور دکھ کے لمحوں میں بھی وہ بدستور یاد آتا رہا۔
جب تنہائی میں ہوتا ہوں تو تصور کی آنکھوں سے اسے دیکھتا رہتا ہوں ، جہا ں کہیں جاتا ہوں ، جس کسی سے ملتا ہوں اسی کی بات ہوتی ہے۔ کمپیوٹر پر بیٹھتا ہوں تو ای میل پر، فیس بک پر، یو ٹیوب پر، ہر جگہ اسی کا چرچا، ہر جگہ اسی کی تصویر ہے، جہا ں کہیں جاتا ہوں ، جس کسی سے ملتا ہوں بس ایک ہی شخص کا تذکرہ ہورہا ہوتا ہے۔۔مزمل بننا۔۔مزمل بننا۔۔مزمل بننا
جدھر جاتا ہوں ادھر تیرا تذکرہ چھڑ جاتا ہے
کوئی محفل ہو تیری محفل یاد آتی ہے
اللہ نے انسان کی جبلت میں یہ بات رکھی ہے اور اس سے بڑھ کر بشری تقاضوں کے نتیجے میں انسان گزرنے والوں کو آہستہ آہستہ بھلا دیتا ہے، اگر اللہ نے ہم پر یہ رحمت نہ کی ہوتی تو ہمارااس دنیا میں جینا بہت دشوار ہو جاتا۔
24؍ اگست 2013 کی شام میں آفس سے گھر آنے کے بعد بیٹھا ’سہ روزہ دعوت‘ کی سرخیاں پڑھ رہا تھا، کہ وحید سہیل کی کال آنے لگی، میں نے جیسے ہی فون اٹھایا، فوری ان کا سوال تھا۔۔کیا آپ کو اطلاع ہے، میں گھبرایا،اور جواب دیا کہ جی نہیں، بتائیے کیا بات ہے؟!اور پھر انہوں نے دل کو دہلا دینے والی خبرسنائی کہ مزمل کا سڑخ حادثہ میں انتقال ہو گیا ہے!!!!انا للہ وانا الیہ راجعون
یہ سننا تھا کہ میرے کان سائیں سائیں کرنے لگے، یقین مانئے! پیروں تلے زمین نکل گئی، خود کو کسی بہت بڑے بوجھ تلے دبتا ہوا محسوس کررہا تھا ۔ تھوڑی دیر کے لیے مجھ پر پوری طرح سے سکتہ طاری رہا ، چند سیکنڈ تک کچھ بھی ہوش نہ رہا، دل تھا کہ جذبات کے بہاؤ میں بہا جارہا تھا، اور دماغ اس حقیقت کو ماننے سے انکار کر رہا تھا۔ ’’مزمل بننا‘‘ میری زندگی کے ایک بڑے حصیّ ’تحریک‘ سے بہت ہی گہرا تعلق رکھتا تھا،شائد یہی وجہ ہے کہ میرا اور اس کا تعلق بہت ہی گہرا تھا ؛
وہ میری تحریک تھا۔۔ میرا قائد تھا ۔۔ میرا رہبر تھا۔۔ میرا ہم سفر تھا۔۔ میرا ساتھی تھا۔۔ میرا مشیر تھا۔۔ میری ہمت تھا۔۔میرا راز داں تھا۔۔
جس وقت ہم ہسپتال پہنچے ، ہمارے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئی جارہی تھیں، ہمیں مردہ گھر کی طرف جانے کی ہدایت ہوئی، وہاں دیکھا وہ بڑے ہی سکون سے لیٹا ہوا تھا ، اور پھر جیسے ہی ایک شخص نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، سب کی زبان سے درد میں ڈوبی ایک آہ!!! ! نکل پڑی، کنپٹی پر گہرا زخم تھا ، اور اسی زخم کی بنا پر اس کی موت واقع ہوئی تھی،افراد کا ایک ہجوم تھا، پورے کمرے میں سسکیوں اور آہوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ میرے اندر بھی جو جذبات اٹھ اٹھ کر دب رہے تھے پوری طرح پھوٹ پڑے اور میں زار و قطار رونے لگا ، بہت دیر تک سرہانے کھڑا رہا، ڈبڈباتی آنکھوں سے بار بار دیکھتا رہا، اور دبے دبے الفاظ میں کہہ رہا تھا، ’’مزمل ہم نے کیا کیا منصوبے بنائے تھے، ہم نے کیا کچھ کرنے کی ٹھانی تھی، ہم نے اس شہر کو کہاں تک لے جانے کی باتیں کی تھیں، ہم نے بہت کچھ سوچا تھا، لیکن اللہ کو یہی منظور تھا کہ تمہارا سفر یہیں پر ختم ہو، اور تم ایک نئے سفر کے لیے روانہ ہو جاؤ ‘‘۔۔۔
مزمل بننا خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے، تنظیمی اور غیرتنظیمی ہر طرح کے افراد کے ساتھ ان کے تعلقات بہت ہی مضبوط تھے، آپ کے آئیڈیل اور نمونہ اللہ کے رسولؐ تھے،جس طرح تمام صحابہؓ یہی سمجھتے تھے کہ اللہ کے رسولؐ مجھ سے زیادہ محبت کرتے ہیں ، اسی طرح تنظیم کا ہر فرد یہی سمجھتا ہے کہ بننا مجھ سے زیادہ قریب ہیں۔ جو کوئی بھی ان سے ایک بار ملاقات کرلیتا، ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ مزمل بننا کی یہ خاصیت تھی کہ وہ ملنے والے پر ایسی چھاپ چھوڑجاتے کہ وہ بار بار ان سے ملنے کا مشتاق ہوتا ، ان کے عوامی تعلقات بھی خوب تھے ،

 

ایک چمکتا ستارہ تھا وہ
جس بستی میں رہتے اس بستی کے عام دوکاندار، حجام، ترکاری اور گوشت فروش، ہوٹل اور دواخانوں تک ہر کوئی ان سے واقف رہتا۔
ان کی تدفین کے دوسرے دن میری طبیعت کچھ ناساز محسوس ہوئی تو میں ایک قریبی ہسپتال گیا، وہاں میں نے یونہی ڈاکٹر سے ا ن کاتذکرہ کیا، ان کا نام سننا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے کہا: ’’ہاں،میں ان کو جانتا ہوں، کئی مریض وہ میرے پاس لایا کرتے تھے، اور وہ جماعت اسلامی کے تھے نا، مجھے بھی انہوں نے اپنے یہاں پروگرامس میں شرکت کی دعوت دی تھی‘‘۔ ابھی دو دن قبل میں بال بنوانے حجام کی دکان پر گیا ، جیسے ہی میں دکان میں داخل ہوا، وہ مجھ سے تعزیتی کلمات کہنے لگا، بڑے افسوس کے ساتھ کہتا رہا کہ ’’مزمل ایسا تھا، مزمل ویسا تھا، بہت نیک اور با اخلاق لڑکا تھا‘‘، اس کو میں کیا بتاتا کہ وہ ہمارے لیے اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا۔
جس کمپنی میں مزمل کام کرتے تھے وہاں کے اوپر سے لے کر نیچے تک ہر سطح کے افراد سے ان کے بہت زیادہ قریبی تعلقات تھے، ان کی خبر گیری کرنا، ان کے مسائل کو سننا، اور ان کے حل کی کوشش کرنا، یہاں تک کہ وقت پڑنے پر اپنی جیب سے ان کی مالی مدد کرنا، بغیر کسی تفریق کے ، چاہے وہ انڈیا کا ہو، یا پاکستان کا، یا بنگلہ دیش کا ہو یا مصر کا، وہ کسی کی مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے، لوگوں کی خدمت کو ایک ذریعہ بناتے ہوئے وہ ان تک اسلام اور تحریک کی بات پہنچاتے تھے ، یہ طریقہ بھی اللہ کے رسولؐ کا تھا، بھائی مزمل نے اس کو اختیار کیا تو وہ ہر دلعزیز ہوگئے ، انڈین اور پاکستانی کہتے یہ جماعت اسلامی کا ہے ، بنگالی بھائی کہتے یہ چھا تر شبر کا ہے، مصری اور عربی کہتے یہ اخوانی ہے۔ وہ گھر میں بھی تحریکی تھا ، وہ بازار میں بھی تحریکی تھا ، وہ آفس میں بھی تحریک ہی کا تھا، اس کا کردارہر جگہ اور ہر مقام پر ایک جیسا تھا، یہ کچھ باتیں غیر تحریکی افراد کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق تھیں۔ رہی بات تحریکی افراد کی، تو اگر سچ کہوں توان کے لئے’’مزمل بننا‘‘گوگل سرچ انجن تھا۔۔۔ سروس اسٹیشن تھا۔۔۔ کسٹمر کیئر تھا۔۔۔ ہیلپ لائن تھا۔۔۔ اور پتہ نہیں وہ کیا کیا تھا !!
پری ایس آئی او بچوں میں بہت آسانی سے گھل مل جانا ، ہم عمر اور ایس آئی او کے حلقے میں انتہائی مقبول ہونا، جماعت کے افراد میں سنجیدہ اور با شعور نوجوان کے طور پر اپنی شناخت بنانا، دوستو ہمیں اس سے بڑھ کر اور کیا کہا جائے کہ جنازہ میں موجود افراد کا ہجوم اس کی نیکی، اس کی عظمت اور مقبولیت کو خود ہی بیان کرتا ہے، قبرستان میں کام کرنے والے ایک شخص کے بقول’’ میں نے پہلی دفعہ ایک خارجی کے جنازہ میں اتنا مجمع دیکھا ہے‘‘!! اس نے بار بار پوچھا: آخر یہ شخص کون تھا!!آخر یہ کون تھا!!آخر یہ کون تھا!!
کون اس بیچارے کو بتائے کہ ’’ایک ستارہ تھا، وہ ایک ستارہ تھا، جو اس دنیا کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں اپنے وجود کو منواتا رہا، جو بھولے بسرے مسافروں کے لیے قندیلیں روشن کرنے میں مصروف رہا ، اور اس حال میں اس دنیا سے رخصت ہوا کہ اللہ اس سے راضی اور وہ اللہ سے راضی رہا‘‘۔
اس شخص کی جدائی پر تحریک کا ہر گھر ماتم کناں ہے ، ان سے ملنے والا ہر فرد افسردہ ہے، ان کی کمپنی کے افراد کی کیفیت بھی دگرگوں ہے، ہر دوست کے کمپیو ٹر پر ’’بننا‘‘ کی تصویر لگی ہے ، عام طور سے یہاں کے شہری موت پر غم نہیں کھاتے ہیں، لیکن ہمارے کسی ساتھی نے بتایا کہ ان کی آفس میں کام کرنے والے ایک سعودی نے آنسو بہاتے ہوے کہا’’دو مہینے قبل میرے باپ کا نتقال ہوا تھا، میں اس وقت اتنا غم زدہ نہیں ہوا تھا، جتنا آج ہوں‘‘،اور پھر اس نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا’’یا ربی ھذا رجل صالح۔۔یا ربی ھذا رجل صالح۔۔‘‘(اے میرے رب یہ ایک صالح مرد تھا، اے میرے رب یہ ایک صالح مرد تھا ۔)

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

نظم

کھا نہ دھوکا گردش ایام سے اب تو کٹتی ہے بڑے آرام ...