Home / کیمپس / این آئی ٹی، مدراس کیا اب تعلیمی ادارے بھی ہوں گے آزادئ اظہار رائے سے محروم؟

این آئی ٹی، مدراس کیا اب تعلیمی ادارے بھی ہوں گے آزادئ اظہار رائے سے محروم؟

این آئی ٹی ،مدراس جس کا شمار ملک کے باوقار تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے گزشتہ دو تین ہفتوں سے ملک کی طلبہ برادری ،دانشور حلقے اور میڈیا میں چرچے کا موضوع رہا ہے۔ کالج کے ڈین آف اسٹوڈنٹس افیرس نے مرکزی منسٹری آف ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ (MHRD)کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے دلت طلبہ کی تنظیمAPSCپر پابندی عائد کردی۔ ’دلت‘ طلبہ کی اس تنظیم پر ’عطاکئے گئے اختیارات کا غلط استعمال‘ کرنے اور ’طلبہ کے مابین منافرت پھیلانے‘ کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ تاہم ملک بھر میں اس فیصلے کی سخت مذمت اور طلبہ کی جانب سے پرزور احتجاج سامنے آنے پر کالج انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہو گئی اور APSCپر سے پابندی ہٹالی۔
IITM کے اس ایشو پر گفتگو کرتے ہوئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ اس کیمپس میں ہندوتوا ایجنڈا رکھنے والی مختلف تنظیمیں برسوں سے سرگرم رہی ہیں۔وویکا نندا اسٹڈی سرکل (VSC) اس کی مثال ہے جس کا قیام 1990 میں ہوا تھا۔اس طرح کی تنظیموں کو آئی آئی ٹی ،ایڈمنسٹریشن کی مکمل حمایت اور معاونت حاصل ہے۔کیمپس میں ذات پات کی تفریق اور دلت طلبہ کے خلاف تعصب کا ماحول پیدا کرنے میں ان تنظیموں کا بڑا رول رہا ہے۔دوسری طرف دلت طلبہ کے تئیں کالج انتظامیہ کا رویہ ہمیشہ پریشان کن رہا ہے۔غیر ہندی داں طلبہ پر ہندی زبان کو تھوپنے کی کوشش ہوتی ہے۔ویجیٹیرین ازم (vegetarianism)کی حد تو یہ ہے کہ کیمپس میں اس بات کی ’نگرانی ‘ بھی کی جاتی ہے کہ کینٹین میں کتنے طلبہ ویج کھانا کھاتے ہیں اور کتنے نان ویج؟
ہندتوا ایجنڈے کی تبلیغ کرنے والی تنظیموں کی ان سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اور کیمپس میں دلت طلبہ کے خلاف تعصب کا بڑھتاہوا گراف دیکھ کر چند سنجیدہ دلت طلبہ نے ایک اجتماعیت تشکیل دی۔اس کا نام امبیڈکر – پیریار اسٹڈی سرکل رکھا گیا۔معمار قوم ڈاکٹرامبیڈکر شمالی بھارت میں دلت کمیونٹی کے لئے ریفارمر کی حیثیت سے معروف ہیں جبکہ جنوبی ہند میں پیریار دلت طلبہ اور نوجوانوں کے icon ہیں۔شروع میں کالج انتظامیہ کی جانب سے اس نام پر بھی اعتراض ظاہر کیا گیا تھا۔APSC کا دائرہ عمل فی الحال صرف انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، مدراس (IIT,Madras) ہے اور اس کے ممبرس کی تعداد پچاس سے بھی کم ہے۔اے پی ایس سی کے ذمہ داروں کے مطابق دلت طلبہ میں ذات پات اور چھوت چھات کے نظام کے خلاف بیداری لانا،حکومت کی اقلیت مخالف اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں پر تنقید کرنا ان کی بنیادی سرگرمیاں ہیں۔اس مقصد سے وہ کیمپس میں سیمینار، ڈیبیٹ اورڈسکشنس منعقد کرتے ہیں۔پمفلٹ اور پوسٹرس بھی شائع کرتے ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں ڈیموکریٹک فریم ورک میں انجام دی جاتی ہیں۔عدم تشدد ہی ان کی پالیسی ہے۔
اس وقت IITM جن اسباب سے سرخیوں میں ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ گزشتہ۷؍ اپریل کو آئی آئی ٹی،مدراس کے ایڈریس سے مرکزی منسٹری آف ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کو ایک گمنام (anonymous) خط موصول ہوا۔یہ خط کالج کے طلبہ کی جانب سے ارسال کیا گیا تھا۔اس میں مرکزی وزارت سے شکایت کی گئی تھی کہ
۱۔کچھ ’بگڑے ہوئے ‘طلبہ کیمپس میں منافرت پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔
۲۔یہ طلبہ دوسرے طلبہ کو موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مخالفت پر اکسا رہے ہیں۔
۳۔ہندو مذہب کی توہین کر رہے ہیں۔
۴۔کوئی باہر سے انہیں فنڈنگ کر رہا ہے۔
۵۔کالج انتظامیہ سے کئی مرتبہ شکایت کی جا چکی ہے مگر یہ شکایتیں بے سود رہیں، وغیرہ۔
دراصل APSCنے کچھ دنوں پہلے ایسے پمفلٹ شائع کئے تھے جس میں ڈاکٹر امبیڈکر کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ ’’جب تک ہندوازم کا خاتمہ نہیں ہوجاتا ،عدم مساوات کا نظام ختم نہیں ہو سکتا‘‘۔ اس کے علاوہ دیگر سرگرمیوں کے ذریعے موجودہ حکومت کی کارپوریٹ نواز پالیسی پر بھی تنقید کی گئی تھی۔جس سے چراغ پا ہو کر رائٹ ونگ طلبہ نے مذکورہ بالا خط ارسال کیا تھا۔اس لیٹر کے موصول ہونے کے بعد MHRD نے آئی آئی ٹی،مدراس کو ۱۵؍اپریل کو ایک نوٹس جاری کر کے APSCپر پابندی عاید کر دینے کی ہدایت دے دی۔میڈیا والوں نے اس بابت متعلقہ مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی سے دریافت کیا تو انہوں نے اس قسم کا کوئی بھی نوٹس جاری کئے جانے سے انکار کردیا۔مگر بعد میں جب وہ نوٹس میڈیا میں آگیا، تو وہ اپنے سابقہ بیان سے مکر گئیں۔مرکزی وزارت کی نوٹس پر کالج کے ڈین آف اسٹوڈنٹس نے ۲۲؍اپریل کو APSC کے کوآرڈینیٹرکو ای میل کے ذریعے اس بات سے مطلع کیا کہ تنظیم کو کالج میں ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے اور اس پر کیمپس میں کسی بھی قسم کی ایکٹیوٹی انجام دینے پر پابندی عائد کر دی۔ طلبہ تنظیم پر ’عطاکئے گئے اختیارات کا غلط استعمال‘ کرنے اور ’طلبہ کے مابین منافرت پھیلانے‘ کا الزام عاید کیا گیا تھا۔البتہ ان الزامات کی تفصیلی وضاحت کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔حیرت اس بات پر بھی ہے کہ پابندی کا انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے اس سلسلے میں نہ کوئی نوٹس جاری کیا گیا اور نہ APSCکے ذمہ داروں کو یہ موقع ہی دیا گیا کہ وہ کالج انتظامیہ سے گفت و شنید کر کے اپنی پوزیشن کلیئر کر سکتے۔
ڈین آف اسٹوڈنٹس افیئرس کو بھیجے گئے جوابی ای میل میں APSCکے ذمہ داروں نے تنظیم پر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے مسترد کردیا۔سوشل میڈیا پر APSCکے آفیشیل پیج پر اس حقیقت کا نکشاف بھی کیا گیا کہ یہ کارروائی وزیر اعظم پر کی گئی تنقید کا رد عمل ہے۔
جمہوریت کا گلا دبا دینے والے اس فیصلے کے سامنے آنے کے بعد پورے ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔تمام حلقوں کے انصاف پسند اور جمہوریت کے علمبردار افراد نے اس کی شدید مخالفت اور پر زور مذمت کی۔میڈیا میں بالخصوص الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ڈسکشنس کا سلسلہ چل پڑا۔مختلف طلبہ تنظیمو ں نے احتجاج اور مظاہرے کئے۔یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔اس ذیل میں ایس آئی او،تمل ناڈو کا تذکرہ اور ا س کی جدوجہد کی سراہنا ضروری ہے۔تمل ناڈو زون اس نازک موقع پر APSCکے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی رہی۔احتجاج اور مظاہروں کے نتیجے میں تمل ناڈو کے مختلف شہروں میں ایس آئی او کیڈرس کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔یہ مسئلہ ایس آئی او جیسی نظریاتی طلبہ تحریک کے لیے یک گونہ اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری تنظیموں کے لئے یہ ایک جز وقتی مسئلہ ہو سکتا ہے مگر وہ طلبہ تحریک جو کیمپس ایکٹیوزم اور کریٹیو کیمپس کے نظریہ کی علمبردار ہے اس کے لئے تو یہ ایک مستقل threatہے۔بھر پور دانشورانہ تیاری کے ساتھ اس مسئلے کو مستقل موضو ع بحث بنائے رکھنا بہت ضروری ہے تاآنکہ عوام کی ذہن سازی ہوتی رہے۔اس موقع پر اگر ڈیبیٹ اور ڈسکشنس سے منہ چرایا گیا تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ’’ آج اس کی،کل تیری باری ہے!‘‘
APSC پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ بھارت کے تعلیمی اداروں کی تاریخ میں بہت اہم اور تشویسناک فیصلہ تھا۔گو کہ سخت مخالفت کے سبب یہ پابندی ہٹالی گئی ہے لیکن اس واقعے نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے جس کے نتیجے میں نئی بحثوں کا آاغاز بھی ہو رہاہے۔یہ سوالات اظہار رائے کی آزادی ،تعلیمی اداروں میں حکومتوں کی مداخلت ،تعلیمی اداروں کو زعفران زدہ کرنے کی کوشش اور طلبائی ایکٹیوزم کے حوالے سے ہیں۔
اس پورے اشو میں بحث کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ آئی آئی ٹی،مدراس کے داخلی معاملے میں مرکزی حکومت نے مداخلت کس بنیاد پر کی؟ آئی آئی ٹی،مدراس اور اس قبیل کے دوسرے اعلی تعلیمی ادارے آزاد (autonomous ) ادارے ہوتے ہیں۔اس کے باوجود مرکزی وزارت نے کالج کے داخلی معاملے میں مداخلت کس بنیاد پر کی اور کالج انتظامیہ نے اس مداخلت کو کیونکر قبول کیا؟ موجودہ مرکزی حکومت ایک مخصوص اور متنازعہ نظریہ کی نمائندگی کرتی ہے۔لہذا وہ اگر تعلیمی اداروں میں اس طرح دھاندلی کی کوشش کرے گی تو اس کا صاف مطلب یہی ہو گا کہ یہ حکومت اختلاف کو برداشت کرنے اور اسے accomodate کرنے کا مزاج نہیں رکھتی۔حکومت کا یہ مزاج روح جمہوریت کے منافی ہے۔ کیونکہ اختلاف رائے ہی جمہوریت ہے ۔تعلیمی اداروں اور طلبہ برادری کواظہار رائے کی آزادی کی حد تک حکومت کے شکنجوں سے آزاد ہونا چاہئے۔ان کا آزاد رہنا ہی ملک کی ترقی اور جمہوریت کے بقا کی ضمانت ہے۔
اسکول کے تعلیمی نصاب کا زعفرانی کرن پہلے ہی تکثیری سماج کے لئے ایک اہم مسئلہ ہے۔اب اقتدار میں آجانے کے بعد شاید تعلیمی اداروں کو ہی ’زعفران زدہ کرنا مقصود ہے۔اس مہم کو آگے بڑھانے سے حکومت کو باز رکھنا ایک بڑا چیلینج ہے جس کا مقابلہ مضبوط نظریاتی بنیاد رکھنے والی طلبہ تنظیمیں ہی کر سکتی ہیں۔ہمیں تاریخ کا یہ سبق بھولنا نہیں چاہئے کہ فسطائی طاقتوں کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ جمہوریت اور جمہوری اقدار ہوتی ہیں۔کیونکہ فسطائیوں کہ یہاں افہام و تفہیم کے مقابلے میں ’تھوپنا‘ سب سے بنیادی قدر ہے۔
ہر حکومت کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ملک کے اعلی تعلیمی ادارے اور ان میں زیر تعلیم طلبہ حکومت کی آئیڈیولوجی کو سپورٹ کریں اور اسے آگے بڑھا نے کا کام کریں۔اس سلسلے میں پہلی با ت تو یہ ہے کہ حکومت کی یہ کوشش غلط نہیں ہوگی بشرطیکہ اس مقصد کو جمہوری طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ’ملک کا مفاد‘ اور ’حکومت کا مفاد‘ یہ دو مختلف چیزیں ہیں بلکہ بعض اوقات باہم متصادم بھی۔حکومتیں اپنے ایجنڈوں کو ملک کا مفاد باور کرانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن در حقیقت وہ حکومتوں کا مفاد ہو تا ہے ،ملک کا نہیں۔ اس لطیف حقیقت کا ادراک بہت ضروری ہے ۔طلبہ کے کرنے کا اصل کام یہی ہے کہ وہ دانشورانہ بحث و مباحثے کی روشنی میں حکومتوں کے ان مفادات کو بے نقاب کریں جن کی زد ملک اور عوام کے مفاد پر پڑتی ہے۔ طلبہ کو اس قابل بنانے کے لئے ناگزیر ہے کہ تعلیمی اداروں کوایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں ندرت خیال کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو ،جہاں تعمیری و تنقیدی سوچ کی پیٹھ تھپتھپائی جاتی ہو اور جہاں بیباک فکر و خیال کو مہمیز کیا جاتا ہو۔اس بنیاد پر میرا خیال یہ ہے کہ جمہوریت کا چوتھا ستون میڈیا کو نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کو ہونا چاہئے۔کسی ملک یا سماج کے لئے اس سے بڑھ کر آئیڈیل بات اور کیا ہوگی کہ اس کے تعلیمی ادارے بقائے جمہوریت کے قلعے ہوں اور اس کے طلبہ سماجی و سیاسی افیرس میں watch dogs کا کردار دا کریں!
یہ جمہوریت کا طرفہ تماشہ ہے کہ ایک غیر جمہوری اورفسطائی ذہنیت رکھنے والا گروہ جسے ملک کی اکثریت کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے وہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں بر سر اقتدار ہے۔جب سے حکومت کی باگ ڈور اس گروہ کے ہاتھوں میں آئی ہے،کلچرل نیشنل ازم اور کلچرل فاشزم کا پروپگنڈہ تیز ہوگیا ہے۔کلچر ل فاشزم جتنا آگے بڑھے گا جمہوریت کا عرصہ حیات اتنا ہی تنگ ہوگا۔ ہمارامشاہدہ بھی یہی ہے اب ملک کے جمہوری کلچرکو سبوتاژ کرنے کی بڑی شاطرانہ کوشش کی جارہی ہیں۔یہ وقت ہے انصاف،آزادی اظہار رائے کے تحفظ اور جمہوریت کی بقا کے لئے کمر بستہ ہونے کا۔

سعود فیروز اعظمی،الجامعہ ااسلامیہ، شانتاپرم کیرالا۔ ای میل: [email protected]

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*