Home / اداریہ / اپنی باتیں
Click Here to Read More

اپنی باتیں

انسانی رویوں میں عموماََ جلدبازی اور فوری نتائج کے حصول کا رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس رجحان کے مختلف منفی اثرات میں ایک بہت ہی خطرناک چیز یہ سامنے آتی ہے کہ انسان حقیقت کی دنیا سے زیادہ خواب وخیال کی دنیا میں جینا پسند کرتا ہے۔
حقائق کی دنیا اور خواب وخیال کی دنیا میں واضح فرق ہوتا ہے۔ حقائق کی دنیا میں صحیح صورت حال بھی سامنے ہوتی ہے اور واقعی امکانات بھی، اور ان دونوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے حوصلہ مند اجتماعیت یا افرادکے سامنے ایک نئی دنیا کی تعمیر کے لیے منصوبہ بندی اور عملی اقدام کے کھلے مواقع ہوتے ہیں۔ جبکہ خواب وخیال کی دنیا میں نہ تو صحیح صورت حال سے واقفیت حاصل کرنے کی کوئی وجہ ہوتی ہے اور نہ ہی واقعی امکانات کا اندازہ لگانے کی کوئی ضرورت، یہاں ان دونوں ہی چیزوں سے بے نیازاجتماعیت یا افراد ایک نہ تعمیر ہونے والی دنیا کی تعمیر کی آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔
حقیقت پسندی کی جگہ خواب وخیال کی دنیا میں پناہ لینے کا یہ رجحان جب افراد میں عام ہونے لگتا ہے تو وہیں سے ان کی زندگی میں جمود کا آغاز ہوتا ہے، اورپھر دھیرے دھیرے یہ محاذ سے پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی اڑان بہت ہی مختصر ہوجاتی ہے اور سوچ کی دنیا بہت ہی تنگ۔ تبدیلی اور انقلاب کی راہ میں وہ خود کچھ کرگزرنے کے بجائے کرشماتی طور پرکچھ ہوجانے کی امید میں جیتے ہیں۔چنانچہ نہ تو وہ اپنی سماجی زندگی میں کوئی مثبت اور تعمیری کردار ادا کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنی ذاتی زندگی میں کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔
حقیقت پسندی کی جگہ خواب وخیال کی دنیا میں پناہ لینے کا یہ رجحان جب کسی بامقصداجتماعیت یا تحریک میں عام ہونے لگتا ہے، تو وہیں سے اس کے فکری بحران کا آغاز ہوتا ہے، اور پھر دھیرے دھیرے وہ اجتماعیت جمود اور اضمحلال کا شکار ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس کے یہاں داخلی انتشار اور بے اطمینانی کی کیفیت عام ہوجاتی ہے۔ فکری ہم آہنگی بری طرح متأثر ہوجاتی ہے اور نصب العین سے لگاؤ میں تشویشناک حد تک کمی آنے لگتی ہے۔ چنانچہ افراد کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جو چلتا چلا جاتا ہے، جس کے سامنے نہ منزل واضح ہوتی ہے، نہ راہ کا صحیح تعین ہوتا ہے اور نہ ہی زاد راہ پر کوئی خاص توجہ۔
حقیقت پسندی کی جگہ خواب وخیال کی دنیا میں پناہ لینے کا یہ رجحان جب کسی قوم یا ملت میں عام ہونے لگتا ہے، تووہیں سے اس کے اندر اخلاقی زوال آنا شروع ہوجاتا ہے، اور پھر دھیرے دھیرے اس قوم اور ملت کے افراد کے درمیان احساس کمتری عام ہونے لگتا ہے اور اس کے حوصلے پست ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے اصول اور اقدار کو چھوڑ کر دوسری قوموں کے اصول واقدار کوترقی کا زینہ سمجھتے ہیں۔ ان کو اپنی تہذیب اور اپنی روایات کے بجائے دوسری قوموں کی تہذیب اور روایات ہی بہتر اور قابل عمل معلوم ہوتی ہیں۔ اس احساس کمتری یا اخلاقی زوال کا بڑا اثر ان کے اجتماعی شعور پر پڑتا ہے، اور وہ بحیثیت مجموعی زندگی کے ہر میدان میں پسماندگی کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ منصوبہ بندی کے ساتھ مثبت اورتعمیری انداز میں کچھ عملی پیش رفت کے بجائے ان کے یہاں حالات کا رونا رونے، شکوے شکایات کرنے، اور جذباتی قسم کی باتیں کرنے کا رجحان عام ہونے لگتا ہے۔
حقیقت پسند سوچ میں جہاں کمی آتی ہے وہیں سے ذہنی افق تنگ ہونے لگتا ہے، اورفکر وعمل کا جذبہ ماند پڑنے لگتا ہے، جبکہ حقیقت پسندی سے ذہن وفکر میں وسعت آتی ہے،اس بھاگتی دوڑتی تیز رفتار دنیا کے تعلق سے احساس ذمہ داری بیدار ہوتا ہے اور کچھ کر گزرنے کا حوصلہ اور جذبہ نصیب ہوتا ہے۔
حقیقت پسند سوچ کی عدم موجودگی میں غلط اندازے اپنا کام کرتے ہیں اور افراد ہوں یا اجتماعی ادارے وتنظیمیں، خواب وخیال کی دنیا میں انہیں عافیت محسوس ہوتی ہے، جبکہ حقیقت پسندی انہیں صحیح صورت حال سے واقف کراتی ہے اور اس صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے انہیں مثبت اور تعمیری قسم کے فکری وعملی اقدام کے لیے بے چین کردیتی ہے۔
حقیقت پسند سوچ نہ ہونے کے نتیجے میں، افرادہوں یا اجتماعی ادارے وتنظیمیں، افراط وتفریط کا شکار ہوجاتے ہیں، اور افراط وتفریط کی آفات انہیں اپنے نرغے میں لے لیتی ہیں، ان کے درمیان شکوہ شکایات، جذباتیت اور منفی طرز فکر عام ہونے لگتا ہے، جبکہ حقیقت پسندی انہیں افراط وتفریط سے محفوظ رکھتی ہے، اور توازن اور اعتدال کی راہ پر لگاتی ہے۔
حقیقت پسندی کے بحران کا بڑا اثر اجتماعی شعور اور فکری ہم آہنگی پر پڑتا ہے، اجتماعی شعور اور فکری ہم آہنگی اجتماعی ترقی اوراجتماعی پیش رفت کے لیے ازحد ضروری ہیں، ان کے فقدان کی صورت میں نہ تو اجتماعی ترجیحات کاصحیح تعین ممکن ہے، اورنہ ہی حقیقی محاذوں پر مطلوبہ پیش رفت۔
اس لحاظ سے فرد، اجتماعیت اور قوم وملت ہر سطح پر تجزیے کی ضرورت ہے۔ سماج میں تبدیلی اور انقلاب کا عظیم نصب العین رکھنے والے افراد اور اجتماعیت کو اس پہلو پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یقیناًموجود کا صحیح تجزیہ کیے بغیر اس کی تبدیلی مشکل ہی نہیں محال ہے۔
(ابوالاعلی سید سبحانی)

Click Here to Read More

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

وہی جواں ہے قبیلےکی آنکھ کا تارا

کوئی انسانی گروہ جب ایک طریقِ فکر اور نظریہ حیات کی بنیاد ...