Home / اداریہ / اپنی باتیں
Click Here to Read More

اپنی باتیں

’ترجیحات کا تعین‘ ہر دور میں انسانی سماج کی ایک اہم ضرورت رہی ہے۔ یہ فرد کی بھی ضرورت ہے کہ وہ انفرادی طور پر اپنی زندگی کی صحیح طور سے منصوبہ بندی کرے اور اس بات کا تعین کرے کہ کن کن کاموں کو پہلے، کن کن کاموں کو بعد میں اور کن کن کاموں کو اپنی ترجیحات میں آخری مقام دینا ہے۔ اسی طرح یہ اجتماعیت کی بھی اہم ضرورت ہوتی ہے کہ وہ متعینہ مدت میں مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے اور اپنی کوششوں کو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنانے کے لیے اپنی سرگرمیوں کو اہم تر، اہم اور کم اہم ، نیز ضروری، کم ضروری اور غیرضروری میں تقسیم کرے۔
’ترجیحات کا تعین‘ صرف ایک فقہی ضرورت کی تکمیل نہیں ہے، بلکہ انسانی زندگی میں درپیش جملہ مسائل اور انسان کی جملہ ضروریات کے سلسلے میں اس کی اپنی اہمیت ہے۔
’ترجیحات کا تعین‘ ہر دور میں دین کی بھی ایک اہم ضرورت رہی ہے اور دین کا کام کرنے والوں کی بھی، اس کی مثالیں اسلامی تاریخ کے ہر دور میں بہت ہی واضح طور سے ملتی ہیں کہ کن کن حالات میں کیا کیا ترجیحات اختیار کی گئیں۔ موجود دور میں عالمی سطح پرامت کی موجودہ صورتحال، تبدیل ہوتے عالمی منظرنامے اور امت کو درپیش داخلی وخارجی چیلنجز کے تناظر میں اس کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔ جدید دور کے فقہاء اور اسلامی مفکرین کے یہاں اس کا خاص اہتمام ملتا ہے۔ کسی نے امت کی صورتحال کے تناظر میں داعیانہ کردار پر زور دیا ہے، اور کسی نے عقیدے کی پختگی کے لیے جدوجہد کو ترجیح دی ہے۔ کسی نے اسلام کے صحیح فہم کو عام کرنے پر توجہ دی ہے، اور کسی نے امت کو بیدار کرنے اور اسے استعمار کے خلاف کھڑا کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ کسی نے تعلیمی اور معاشی محاذ پر کام کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور کسی نے مسلمانوں کو ذہنی غلامی سے نکال کر انہیں اسلام کے صاف وشفاف چشمے سے جوڑنے کو امت کی ترجیحی ذمہ داری قرار دیا ہے۔
ترجیحات کے تعین میں فرد یا اجتماعیت کی بنیادی فکر اور اس کے سوچنے سمجھنے کے اندازکا اہم رول ہوتا ہے ۔ فکر اور انداز فکر جس قدر اعلی ہوگا، اسی قدر ترجیحات میں وسعت اور بلندی آئے گی۔ ایک مادہ پرست انسان یا مادہ پرست سماج کی ترجیحات کے تعین میں مادی حصولیابیوں کا کلیدی رول ہوگا۔جبکہ امت کی ترجیحات کا تعین جس سطح پر بھی ہوگا، خواہ فرد کی سطح پر ہو یا اجتماعیت کی سطح پر، امت کے بنیادی نصب العین اور اس کے بنیادی افکار کااس میں کلیدی رول ہوگا۔ اس پہلو سے ملت اسلامیہ ہند کا گہرا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک اس کے اندر امت کا حصہ ہونے کا شعور پایا جاتا ہے اور کس حد تک اس نسبت کے تقاضوں کی اس کی ترجیحات میں، افراد کی سطح پر بھی اور اجتماعیت کی سطح پر بھی، رعایت کی جاتی ہے۔
امت کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں، ملکی سطح پر بھی اور عالمی سطح پر بھی، ترجیحات کا تعین اس پہلو سے یک گونہ اہمیت رکھتا ہے کہ یہ امت کے درمیان حقیقی اجتماعی ضرورتوں اور حقیقی اجتماعی ذمہ داریوں کا شعور بیدار کرنے اور ان پر توجہات کے ارتکاز کے سلسلے میں بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔ اور امت اس وقت بحیثیت مجموعی افراط وتفریط کے جس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے اور اس کے درمیان جس طرح کے انتہاپسندانہ رجحانات پائے جاتے ہیں ان سے نکلنے اور اعتدال وتوازن پر مبنی صحیح اسلامی نقطہ نظر تک پہنچنے میں اس سے مدد مل سکتی ہے۔ اسی طرح یہ مختلف پہلوؤں سے اور مختلف میدانوں میں امت کے ارتقاء، نیز امت کے درمیان باہم تعاون کے ماحول کو فروغ دینے کا ایک اچھا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ اس سے دین اور دینداری کے تعلق سے امت کے درمیان صحیح تصور کو عام کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس وقت امت کی صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کے یہاں بحیثیت مجموعی کسی بھی پہلو سے ترجیحات کا تعین نہیں ملتا، نہ انفرادی سطح پر اور نہ اجتماعی سطح پر، اس چیز نے امت کو اندر سے کھوکھلا کردینے، اس کو معمولی معمولی چیزوں میں الجھا دینے، اور اس کے شیرازے کو بری طرح منتشر کردینے میں بہت ہی خطرناک کردار ادا کیا ہے۔
امت کے داعیانہ کردار کی بازیافت اور ایک مثبت اور تعمیری انقلاب کی جدوجہد کے لیے اس کی تیاری کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کے یہاں ترجیحات کے تعین کا صحیح شعور عام کیا جائے، اس کے بغیر نہ تو امت کی صورتحال میں کچھ تبدیلی ممکن ہے اور نہ ہی اس کے داعیانہ کردار کی بازیافت کی توقع کی جاسکتی ہے۔
ترجیحات کے تعین کے لیے جہاں حالات اور زمانے کے صحیح اور گہرے شعور کی ضرورت ہے، وہیں قرآن وسنت کے نصوص کا گہرا اور وسیع مطالعہ بھی اس کے لیے لازمی ہے، تاکہ نصوص اور حالات کے درمیان صحیح طور سے تطبیق ممکن ہوسکے، اور اس کے نتیجے میں تشکیل پانے والا رویہ اور کردارشریعت کی روح اور اس کے مقاصد سے ہم آہنگ ہوسکے۔
(ابوالاعلی سید سبحانی)

Click Here to Read More

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

وہی جواں ہے قبیلےکی آنکھ کا تارا

کوئی انسانی گروہ جب ایک طریقِ فکر اور نظریہ حیات کی بنیاد ...