Home / محفل / امن کا نوبل انعام ’’آئی کین‘‘ کے نام
Click Here to Read More

امن کا نوبل انعام ’’آئی کین‘‘ کے نام

عبدالقوی عادل
اے ایم یو، علی گڑھ

اقتدار اور طاقت کی ہوس جب اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہے اور اس کا نشہ جب اپنی تمام حدوں کو سر کر لیتا ہے تو انسان کو یہ دنیا صرف بیش بہا مادی خزینوں کا ذخائر نظر آتی ہے۔ اس کے حصول میں سرگرم ہر شخص اس کو اپنا دشمن نظر آتا ہے اور جب کہ حالات ایسے ہوں کہ ہر شخص اس مشترک کوشش میں ملوث ہوتو تمام انسان ہی انسانیت کے دشمن بن جاتے ہیں۔اسی ذہنی اور فکری تنزلی کی شکل آج ہمیں جوہری ہتھیاروں کی ذخیرہ اندوزی کی شکل میں نظر آتی ہے ہر ملک اس راہ میں ایک دوسرے سے مسابقت لے جانے میں پیش پیش ہے۔ ان جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والے اثرات اتنے تباہ کن ہیں کہ جس کی تاب نہ لا کر انسانیت کراہ اٹھی، ان مضر اثرات کو سماج نے بہت قریب سے دیکھا اور سمجھا ہے۔ یہ بات قابل تحسین اور لائقِ ستائش ہے کہ اس کے انسداد کے لئے مختلف تنظیمیں جد و جہد کر رہی ہیں جس میں بین الاقوامی تنظیم ـ’’آئی-کین‘‘(انٹرنیشنل کیمپین ٹو ابولش نیوکلیئر ویپنز) کا نام قابل ذکر ہے جس کا بنیادی مقصد ہی جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔ اس کو اسی جدو جہد کے لئے 2017 کے امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔

نوبل کمیٹی کی سربراہ کے بقول ’’ہم اس وقت ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ اس قدر زیادہ ہے جتنا ایک طویل عرصے تک نہیں تھا جس میں شمالی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے، ایسے حالات میں’ آئی کین‘نے جوہری ہتھیاروں کے انسداد کے لئے زبردست خدمات انجام دی ہیں‘‘۔ گزشتہ دنوں’ آئی کین ‘کے دباؤ میں جوہری ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے اور نئے جوہری ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے کے مقصد کے تحت ’’جوہری ہتھیاروں پر پابندی‘‘ کے اس معاہدے پر اقوام متحدہ میں 122 ممالک کی حمایت کے ساتھ 51 ممالک نے دستخط کئے جبکہ اس معاہدے کی مخالفت کرنے والوں میں جوہری ہتھیار کے مالک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین نے متعلقہ مذاکرات اور رائے دہی کے عمل میں شرکت نہیں کی۔ آئی کین یعنی ’انٹرنیشنل کیمپین ٹو ابولش نیوکلیئر ویپنز‘ ایک عالمی سماجی اتحاد کی مہم ہے جو جوہری ہتھیاروں کے انسداد کے لئے سرگرم عمل ہے، اس تنظیم نے ’جوہری ہتھیاروں پر پابندی‘ کے معاہدے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 1997 میں زمینی خزانوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے عالمی سطح پر شروع کی گئی مہم سے متاثر ہو کر چند افراد نے 2007 میں آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں اس تنظیم کی بنیاد رکھی، اس وقت 101 ممالک میں اس کی 468 معاون تنظیمیں موجود ہیں۔
اس تنظیم کا مقصد جوہری ہتھیاروں سے ہونے والی تباہ کاریوں کی جانب حکومتوں کی توجہ مبذول کرانا اور اس کے ذریعہ نئے جوہری ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنا ہے جس کے تحت مختلف مذاکرات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ ملکوں کو ان کے اس عمل کے تباہ کن اثرات کی جانب توجہ مبذول کرائی جاتی ہے ساتھ ہی حد درجہ خراب صحت اور ماحولیاتی نتائج، طبی ڈھانچوں کے دن بدن کمزور ہونے اور ارد گرد کے ماحول پر اس کے طویل اور دیرپا مضر اثرات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔

1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں پیش آنے والے المیہ نے اس قسم کے جوہری اسلحوں کی تباہ کاری اور ان کے مضر اثرات کا مشاہدہ کرایا ،پوری انسانی جنگی تاریخ اور اشرف المخلوقات کی خون آشامی و درندگی کے تمام تر نوشتہ جات میں جوہری اسلحہ صرف دوبار استعمال ہوا ہے، جب جنگ عظیم دوم میں امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر تقریباً دو لاکھ انسانی زندگیاں تلف کرنے کا ’’اعزاز‘‘ حاصل کیا تھا۔ اس سے پیدا ہونے والے اثرات کے نتیجے میں اس سے بھی زیادہ لوگ مسلسل اور متواتر مرتے چلے گئے۔

ایٹم بم کے اثرات اتنے خطرناک تھے کہ ’ایک عورت نے چندھیا دینے والی چمک سے آنکھوں کو بچانے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کے چہرے اور ہاتھ کا گوشت لٹک کر گر گیا‘ ہزاروں افراد مدد کے لیے چلاتے رہے لیکن ان کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے، ان کے جسم کے اعضاء جسم سے الگ کیوں ہورہے ہیں۔بہت سارے اور بے شمار لوگوں نے ایٹم بم کے حملے کے بعد کے اذیت ناک حالات سے گزر کر موت کی عافیت کو قبول کرلیا۔
ان حقائق کا تذکرہ ’سوزان ساؤتھ ہارڈ‘ نے اپنی کتاب ’ناگاساکی ایٹمی جنگ کے بعد کی زندگی‘ میں کیا ہے، ضرورت ہے کہ ان حقائق کو عام کیا جائے تاکہ ایٹمی اسلحوں کا ذخیرہ کرنے والوں کو ’انسانیت کا محسن‘ قرار دینے والوں کو اس ’ایٹمی احسان‘کا محل وقوع معلوم ہوسکے۔ یہ حقیقت بھی آشکار ہوسکے کہ دنیا کی نام نہاد بڑی طاقتوں کے اسلحہ خانوں میں اتنے بڑے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جو شمسی کائنات میں انسانی زندگی کے ایک ہی گہوارے اس دنیا کو راکھ کا ڈھیر بنا کر کائنات میں بکھیر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Click Here to Read More

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*