بنیادی صفحہ / رشد / اللہ کی راہ میں انفاق

اللہ کی راہ میں انفاق

رسول اکرمؐ ماہ رمضان کا کافی اہتمام فرماتے تھے، اس موقعہ پر آپ عام دنوں کے مقابلے میں اور زیادہ سرگرم ہوجایا کرتے تھے، آپ کی عطا وبخشش، آپ کی نمازیں اور آپ کی دوڑدھوپ اس ماہ میں تیزتر ہوجایا کرتی تھی، آپ اس ماہ میں خوب انفاق کیا کرتے تھے، آپؐ کا انفاق بے مثال تھا۔ ایک روایت میں مذکور ہے:
’’کان اجود الناس بالخیر۔‘‘ (بخاری و مسلم)
(آپ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔)
عام دنوں میں آپ کی حالت یہ تھی کہ کثرت سے انفاق کیا کرتے لیکن ماہ رمضان کے شروع ہوتے ہی اس میں مزید اضافہ ہوجاتا تھا، اورآپ کی جودوسخا تیزہواؤں کا مقابلہ کیا کرتی تھی۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ دنیا سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ آپ نے کوئی دینار و درہم، یا کوئی بکری اور اونٹ نہیں چھوڑا اور نہ کسی چیز کی وصیت کی۔ یہی وہ جذبہ انفاق ہے، جس کو ابھارتے ہوئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اللہ جسے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ اضافہ کرتا ہے، اللہ وسعت والا اور علم والا ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۶۱)
انفاق کے معنی
انفاق عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی مال خرچ کرنے کے آتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو کثرت سے استعمال فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ اسی معنی میں صدقہ اور زکوٰۃ کا لفظ بھی آیا ہے جس کے معنی اس لفظ سے ملتے جلتے ہیں، لفظ زکوٰۃ میں پاکی، صفائی اور نشوو نما کا تصور غالب رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کو مختلف انداز سے مال خرچ کرنے پر ابھارا ہے اور مختلف مثالیں بھی دیں جس کی ایک جھلک آیت بالا میں بھی ہے۔قرآن مجید جب انفاق فی سبیل اللہ کا لفظ استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بندے اپنا مال و دولت اسی کی راہ میں خرچ کریں، چونکہ اسی نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور مال ودولت سے سرفراز فرمایا، اس لیے بندے کا حق ہے کہ وہ مال کو اس کی مرضی کے مطابق اس کی راہ میں خرچ کرے، اس کے علاوہ کسی قسم کے غلط کام کے لیے خرچ کرتا ہے تو وہ اپنی حد سے تجاوز کرتا ہے، اور کفریہ عمل کا ارتکاب کرتا ہے۔
عموما دیکھنے میں آتا ہے کہ جس شخص کو اللہ دولت وثروت عطا کرتا ہے، وہ عیش و عشرت کی زندگی گزارنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اپنی خوا ہشات کی تکمیل ہی اس کی زندگی کا واحد مقصد ہو تا ہے، اور جس ہستی نے اس کو یہ نعمت عطا کی ہے اس کی عبا دت اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کا ذرا بھی اس کو خیال نہیں رہتا، عیش و عشرت کی زندگی اس کے دل سے محبت خدا نکال دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے معیار بلند سے بلند کرتا چلا جاتا ہے اور بالآخر اسی حالت میں وہ اپنی آخری جائے قرار کا رخ کرلیتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں جب ا نفاق فی سبیل اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے تو عموماً لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ یہ مالداروں پر ضروری ہے، غریب افراد اس سے مستثنیٰ ہیں، حالانکہ اس لفظ میں غریب وامیر سب شامل ہوتے ہیں۔ یہ سوچ غلط ہے کہ ہم مال نہیں رکھتے تو انفاق کیسے کریں گے، مطلوب یہ ہے کہ ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق انفاق کرے اوراس کارخیر میں حصہ لے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقدار نہیں بلکہ اخلاص دیکھا جاتا ہے۔ اخلاص کے ساتھ دیا ہوا معمولی مال بڑی بڑی رقموں پر فضیلت رکھ سکتا ہے۔
انفاق کی اہمیت وترغیب
آپؐ نے فرمایا:’’اتقوا النار و لو بشقۃ التمر‘‘ (جہنم کی آگ سے بچو خواہ ایک کھجور کے آدھے حصے کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔) مطلب یہ ہے کہ اگرانسان کے پاس مال و دولت نہ ہو تو وہ اگر اخلاص کے ساتھ کھجور کے آدھے حصے کا بھی انفاق کرتا ہے تو اللہ کی نظر میں اس کی بہت اہمیت ہے، کیونکہ صدقہ میں دی ہوئی چیز آخرت کے دائمی بینک میں جمع ہوتی اور محفوظ رہتی ہے۔
دنیا کا عام قائدہ ہے کہ جو چیز خرچ کرو اس میں کمی واقع ہوتی ہے لیکن انفاق کا معاملہ اس کے بالکل برخلاف ہے اس کو خرچ کرنے سے اس میں زیادتی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا نعم البدل ان کو فراہم کرتا ہے، اسی بات کو آپؐ نے یوں بیان فرمایا کہ:
’’صدقے اور خیرات سے کبھی مال میں کمی واقع نہیں ہوتی، بندہ عفو و درگزر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور تواضع اختیار کرے تو اسے سربلندی عطا فرماتا ہے۔‘‘( مسلم)
اللہ تعالیٰ نے اسی کے متعلق قرآن میں ارشاد فرمایا کہ
’’جو چیز بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کروگے اللہ اس کا عوض دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ (سبا: ۳۹)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’بندے جب صلح کرتے ہیں تو آسمان سے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ! جو تیری راہ میں خرچ کرے اسے اس کا بدلہ عطا فرما اور جو بخل کرے اور دولت روک کر رکھے اسے برباد کردے‘‘۔
اس حدیث سے اس بات کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ نے انفاق کرنے والوں کے انعام و اکرام اور فضیلت کو بیان فرمایا، وہیں دوسری طرف بخل سے کام لینے والے کا انجام بھی بتادیا۔
صحابہ کرامؓ کا جذبہ انفاق
عہد اول میں نبیؐ نے صحابہ کرام کے اندر اس جذبے کو خوب ابھارا،چنانچہ سیرت کا مطالعہ کریں تو جگہ جگہ اس کی نمایاں مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں، حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ’’غزوہ تبوک کے موقع پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو انفاق کرنے کا حکم دیا۔ میرے پاس اس وقت کافی مال موجود تھا میں نے دل میں سوچا کہ آج تو ابوبکرؓ سے بازی لے ہی جاؤں گا۔ چنانچہ اسی غرض سے اپنے مال کا آدھا حصہ لاکر حضوؐر کی خدمت میں پیش کردیا۔ آپؐ نے دریافت کیا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے میں نے جواب دیا کہ اسی کے مثل ان کے لیے بھی ہے۔ اسی اثنا میں ابوبکرؓ اپنے تمام مال کے ساتھ تشریف لے آئے آپؐ نے یہی سوال ان سے بھی دہرایا تو انھوں نے جواب دیا کہ ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔اس پر میں نے کہا کہ اب میں کبھی ابوبکر سے سبقت نہیں لے جاسکتا۔‘‘ (ترمذی، ابو داؤد)
غزوۂ تبوک ہی کا واقعہ ہے کہ آپؐ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ انفاق کرنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اللہ کے رسول ؐ میں اللہ کی راہ میں سو اونٹ فراہم کروں گا، آپؐ نے دوبارہ ترغیب دی تو پھر حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اللہ کے رسولؐ میں دو سو اونٹ فی سبیل اللہ دوں گا۔ پھر تیسری مرتبہ آپؐ نے ترغیب دی تو پھر آپؓ کھڑے ہوئے اور بولے اے اللہ کے رسول میں ۳۰۰؍ اونٹ راہ خدا میں دوں گا۔ راوی حدیث حضرت عبد الرحمان کہتے ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہؐ کو دیکھا کہ آپؐ منبر سے اترتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اس کے بعد عثمان کچھ بھی کریں کوئی فرق نہیں پڑے گا‘‘ (یعنی اب اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس عظیم خدمت کے عوض اس کو معاف کردے گا) (ترمذی)
سورہ الحدید کی گیارہویں آیت ’’من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضاعفہ لہ‘‘ جب نازل ہوئی تو حضرت ابو الدحداح انصاری نے فرمایا: ’’اے رسول اللہ کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ تو آپؐ نے جواب دیا: ہاں ابو الدحداح۔ انھوں نے کہا: آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجیے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ انہوں نے آپؐ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا: ’’میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا‘‘۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ’’اس باغ میں چھ سو درخت تھے اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے رہتے تھے اور ان کا گھر بھی اسی میں تھا۔ آپؐ کے پاس سے جب وہ لوٹے تو باغ کے باہر ہی سے آواز دی۔ اے دحداح کی ماں باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔ وہ بولیں: دحداح کے باپ تم نے نفع کا سودا کیا۔ پھر اسی وقت اس باغ کو چھوڑ دیا۔‘‘
مذکورہ بالا واقعات ہماری تاریخ کے سنہری اوراق پر نقش ہیں۔ ان واقعات کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت اہل ایمان میں انفاق فی سبیل اللہ کی کیا اہمیت تھی۔ ان کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ کوئی بھی حکم نازل ہوتا، اس کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے تیار رہتے اور اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، کیا آج امت مسلمہ کے افراد اس کردار کو ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟
شیطانی وساوس
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شیطانی وساوس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’الشیطان یعدکم الفقر و یامرکم بالفحشاء واللہ یعدکم مغفرۃ منہ و فضلا۔ واللہ واسع علیم۔‘‘ (البقرہ: ۲۶۸)
(شیطان تم کو فقر وفاقہ سے ڈرا تا ہے اوربخل کا حکم دیتا ہے، لیکن اللہ تم سے رحمت و مغفرۃ کا وعدہ کر رہا ہے اور اللہ بہت کشادہ اور جاننے والا ہے۔)
یہ آیت شیطانی و سا وس کی حسین منظر کشی کرتی ہے۔ بندہ سوچتا ہے کہ ابھی تو میرے پاس بہت قلیل رقم ہے جس سے میری اپنی ضروریات ہی پوری نہیں ہو تیں جب کشادگی ہوگی اور ضروریات سے زائد مال ہو گا تو راہ خدا میں خرچ کریں گے۔ یہ وسوسہ شیطان دل میں ڈالتا ہے، اس وسوسہ کے شکا ر لوگ کبھی بھی اور کسی بھی وقت اپنے آپ کو اس حا لت میں محسوس نہیں کرتے کہ وہ اپنے علاوہ دوسروں پر خرچ کریں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی کہ یہ خیال جو تمہارے دل میں آچکا ہے وہ شیطان کا ڈالا ہوا ہے اور تم اس سے اسی وقت بچ سکتے ہو جبکہ شیطان سے دوری اور اللہ سے قربت قائم کرو۔ اس کا سب سے بہترین ذریعہ نماز اور روزہ ہے۔ ان دونوں کو اختیار کرنے سے ذلت ور سوائی کی زندگی سے نجات ملے گی پھر تم ایسی تجارت میں شریک ہوگے، جس کا ایک فریق اللہ ہوگا اور دوسرے تم ۔دوسرا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ تم بخل سے بچ جاؤ گے اور کامیابی سے ہمکنار ہوگے۔ ارشاد باری ہے:
’’وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۔‘‘ (بقرہ: ۱۹۵)
(راہ خدا میں خرچ کرو اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔)اس آیت سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کے معنی ہلاکت و بربادی کے ہیں، ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
و من یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون (الحشر:۹)(اور جو تنگ دلی سے بچ گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔)
یہ دنیا مادی ہے اور یہاں اسباب و وسائل اگر نہیں ہیں تو کوئی بھی تحریک اپنے مقاصد کے لیے صحیح معنوں میں پیش رفت نہیں کرسکتی، جو تحریک بھی دعوت الی اللہ کے کام کو لے کر اٹھے اور اسباب وو سائل سے وہ خالی ہو تو اس کے راستے میں بڑی رکاوٹیں اور دشواریاں پیش آتی ہیں۔ ان میں بہت سے اسباب و و سائل ایسے ہیں جن کا تعلق روپے پیسے اور مال و دولت سے ہے، تحریکی افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انفاق زیادہ سے زیادہ کریں تاکہ ان وسائل کو اختیار کیا جاسکے اور کما حقہ اپنے مقصد کی طرف گامزن رہا جائے۔
اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لیے جن مادی وسائل کی ضرورت پڑتی ہے اگر ہم نے ان کو حاصل نہ کیا تو تحریک کمزور ہوتی جائے گی، اس کے بالمقابل باطل اور حریف طاقتیں ان ہی وسائل کو استعمال کرکے مزید مضبوط ہوتی جائیں گی اور اسلام کو جڑ سے مٹانے کی کوشش کریں گی۔
آج دنیا کافی ترقی کرچکی، باطل نظریات و افکار کو پھیلانے او رانھیں غالب کرنے کے والے ایسے وسائل و ذرائع مہیا ہیں جو آج سے پہلے کبھی نہیں تھے۔ ان وسائل کو دعوت الی اللہ میں لگایا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس ان وسائل کا استعمال کفر و الحاد کو پھیلانے میں ہور ہا ہے، تحریکات اسلامی کے وابستگان کی ذمہ داری ہے کہ انفاق کی راہ پر چلتے ہوئے ان وسائل و ذرائع کو استعمال کریں تاکہ حق غالب ہو اور باطل کا قلع قمع ہو۔
تحریک اسلامی کے استحکام کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے اہل ثروت افراد ان لوگوں کا تعاون کریں جو اپنی کمزوری مالی حالت کی وجہ سے تحریک کے ساتھ نہیں چل پاتے، اللہ تعالیٰ نے جن افراد کو اپنے فضل سے نوازا ہے انھیں اپنی تحریک اور اس کے افراد کو ہر لحاظ سے مضبوط کرنا چاہیے، اور خوب مالی مدد کرنی چاہیے، اس سے ان کے درمیان الفت و محبت کا وہ رشتہ پیدا ہوگا جس کی نظیر ہمیں عہد اول میں ملتی ہے۔ اس عمل سے تحریک اسلامی ایک خاندان کے مانند ہوجائے گی جس کے تمام افراد ایک دوسرے کے خوشی و غم میں برابر شریک رہتے ہیں۔
انفاق فی سبیل اللہ ایک ایسا کام ہے جس کے ذریعے انسان میں جذبہ قربانی، ایثار و بے نفسی اوراستغناء کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ مال و دولت اور دنیا دائمی نہیں بلکہ عارضی شئے ہے، مرنے کے بعد کچھ کام نہ آئے گا، اگر کچھ کام آئے گا تو صرف وہ جو اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، کیونکہ وہ اللہ کے پاس ذخیرہ ہو گیا۔ ارشاد باری ہے:’’اے مومنو! نیکی کو تم اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک کہ تم اپنی محبوب ترین چیز کو خدا کی راہ میں خرچ نہ کردو۔‘‘ انسان جب اپنی محبوب ترین چیز راہ خدا میں خرچ کرے گا تو لامحالہ اس کے اندر جذبہ قربانی و ایثار پیدا ہوگا۔ مال ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بہت محبوب ہے اگر اس نے اس کو راہ خدا میں قربان کیا تو موقع آنے پر وہ اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
معاشرہ انسانوں کے مجموعہ سے تیار ہوتا ہے، اس میں طرح طرح کے افراد ہوتے ہیں، صاحب ثروت بھی اور غریب، فقراء اور مساکین بھی۔ صالح اور نیک معاشرہ کی ذمہ داری ہے کہ اس کے صاحب حیثیت افراد ان لوگوں کی خبر رکھیں جو خستہ حالی سے دو چار ہیں، جب وہ ان کے اوپر انفاق کریں گے، ان کے مالی مسائل کو حل کریں گے، تو غرباء و مساکین کے اندر بھی تعاون کا جذبہ پیدا ہوگا اور وہ بھی موقع پاکر ان کی مدد کریں۔ اس طرح معاشرے میں انفاق کے ذریعہ تعاون باہمی کا جذبہ بھی پیدا ہوگا، اور معاشرہ فلاح و ترقی کی طرف گامز ن ہوگا، برعکس اس معاشرے کے جس کے امراء تو پیٹ بھر کر سوئیں اور غرباء فاقہ کشی میں مبتلا ہوں، جس معاشرہ میں نہ تو تعاون باہمی کا جذبہ ہوتا ہے اور نہ ہی معاشرہ فلاح و کامرانی اور ترقی کی طرف گامزن ہوتا ہے۔
انفاق حقوق العباد کو ادا کرنے کا بھی ایک اچھا ذریعہ ہے۔ حقوق اللہ کو ادا کرنے کے تو بہت سے طریقے ہیں لیکن حقوق العباد کو ادا کرنے کے طریقے کم ہی ہیں۔ انفاق کرنے سے جہاں ایک طرف حقوق اللہ ادا ہوتے ہیں، وہیں دوسری طرف حقوق العباد بھی ادا ہوجاتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اس میں باہمی الفت و محبت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اہل ثروت جب غرباء و مساکین کا مالی تعاون کریں گے تو غرباء کے دلوں میں ان کی عزت و محبت گھر کر لے گی، ا س سے ایک طرف غریبی کا خاتمہ ہوگا، وہیں دوسری طرف الفت و محبت ایک ایک ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کرلے گی جس کو باطل ہواؤں کے جھونکے کبھی گرا نہ سکیں گے، اور ان کے دلوں میں کبھی نفرت کے بیج نہ بو سکیں گی۔
نام ونمود کے لیے انفاق
راہ خدا میں انفاق کرنا پسندیدہ عمل ہے، لیکن اس عمل کو اتنا ہی محتاط طریقے سے انجام دینا چاہیے، ذرا سی غفلت آپ کی ساری کمائی کو بے وقعت بنا سکتی ہے اور آخرت میں الگ اس کے انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔ انفاق کرتے وقت ذرا بھی نام و نمود، شہرت، دکھاوا، یا کسی بھی طرح بلندی کا احساس آپ کے اندر نہ ہو، صرف خدا کی رضا جوئی ہی مقصود ہو تو آپ کا عمل قابل قبول ہوگا ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، سورۃ البقرہ میں ارشاد فرمایا گیا:
’’جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے اس انفاق کے پیچھے احسان او رایذا کی آفت نہیں لگا دیتے ان کا صلہ ہے ان کے رب کے پاس نہ ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، ہمدردی کا ایک کلمہ اور بخش دینا بہتر ہے اس صدقہ سے جس کے پیچھے دل آزاری ہو، اور اللہ بے نیاز اور علیم ہے۔ اسے ایمان والو! تم اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دل آزاری کرکے باطل نہ کرو اس شخص کے مانند جو اپنا مال دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس شخص کی تمثیل ایسی ہے جسے ایک چٹان ہو، جس پر کچھ مٹی ہو اور اس پر بارش ہو جائے اور اس کو بہا کر چٹان کو چٹیل چھوڑ دے ایسے لوگوں کو ان کی کمائی سے کچھ بھی ملے نہ پڑے گا اور اللہ کا فروں کوراہ یاب نہیں کرتا‘‘۔ ( البقرہ ۲۶۲؍تا ۲۶۴؍)
ان آیات سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو انفاق کرنے کے بعد احسان جتائیں اور نام و نمود کے خواہشمند ہوں۔ ان کے لئے یہ سودا بجائے نفع کے خسارے کا سودا ہوگا۔ یہ مال و دولت جو کہ اللہ کا دیا ہوا ہے بغیر اس کی رضا کے تم نے اپنے آپ سے اس کو حاصل نہیں کیا ہے اس لئے اس کو اسی کی مرضی کے مطابق خرچ ہونا چا ہئے۔
رمضان اور انفاق:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی رہتی دنیا تک کے لئے نمونہ ہے۔ اسی کو اختیار کرنے پر کامیابی سے ہمکنار ہوا جا سکتا ہے، رسول اکرمؐ ماہ رمضان میں اپنے معمول کے بر عکس بڑھ چڑکر حصہ لیتے تھے۔ … عباسؓ آپ کے معمول تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسولؐ کا طریقہ تھا کہ جب رمضان آتا تھا تو آپ قیدیوں کو آزاد کرتے اور سائل کو کچھ نہ کچھ ضرور عطا کرتے۔ (بیہقی)ایک دوسری حدیث میں ماہ رمضان میں آپ کی سخاوت و فیاضی کی کثرت و زیادتی کو تیز ہوا سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (بخاری، مسلم)
عام مہینوں کے مقابلے میں رسول اکرمؐ کی سخاوت کا جو تذکرہ یہاں کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسولؐ کے پاس کوئی بھی سائل آتا تو وہ اس کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ آپؐ کا معمول تھا کہ عام دنوں کے مقابلے رمضان میں زیادہ سخاوت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہؐ کے اسوہ کو اختیار کریں۔
اسلام یہ چاہتا ہے کہ معاشرے میں موجود غربت و افلاس ختم ہو اور معاشرہ بھائی چارگی اور اخوت کی بنیاد پر قائم ہو اور تمام لوگ اس کو وجود میں لانے کے لیے اپنی حد تک سعی و جہد کریں۔ اس لیے اس نے عبادات کا اجتماعی نظام مقرر کیا، اجتماعی عبادات جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر متوجہ ہوں گے، وہیں دوسری طرف ان کو انجام دینا تمام ہی لوگوں کے لیے آسان ہوگا۔ انہی اجتماعی عبادات میں روزہ بھی آتا ہے۔ روز ے کی فرضیت کے جہاں دوسرے بہت سارے مقاصد ہیں، وہیں ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ایک مالدار شخص روزہ رکھ کر بھوک کی شدت کو محسوس کرے تاکہ اس کو معلوم ہو کہ معاشرے کے وہ افراد جو مالی تنگی سے دو چار ہیں اور جن کو ایک وقت کا کھانا ٹھیک سے فراہم نہیں ہے وہ اپنی زندگی کیسے گزارتے ہیں اور اپنی بھوک کی شدت کو کیسے ٹھنڈا کرتے ہیں۔ روزہ ان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ان کی بے بسی کو محسوس کریں اور جو فضل اللہ تعالیٰ نے ان پر کیا ہے اس کا ایک مخصوص حصہ وہ مستحقین کو فراہم کریں تاکہ معاشرے میں امیر و غریب کے درمیان خلیج ختم ہو اور تمام لوگ معاشرے میں باعزت زندگی گزاریں۔
یہاں ایک بات خاص طور سے ذہن میں رکھنے کی ہے کہ ہمارے فیض سے فیض یاب ہونے والے کسی خاص قوم یا کسی خاص طبقہ سے تعلق رکھنے والے افرادنہ ہوں بلکہ ہمارا فیض سب پر یکساں ہونا چاہئے۔ اور اس سلسلہ میں ہمیں اس حدیث کو اپنے سامنے ہمیشہ رکھنا چاہئے کے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ میں بیمار تھا تونے میری عیادت نہیں کی ، بھوکاتھا کھانا نہیں کھلایا، پیا ساتھا پانی نہیں پلایا، ننگا تھا کپڑا نہیں پہنایا۔ بندہ کہے گا اے اللہ تو تو ان تمام چیزوں سے پاک ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو نے اس کی عیادت نہیں کی، فلاں کو کھانا نہیں دیا، اور فلاں کو پانی نہیں پلایا اگر یہ تو کرتا تو تو مجھے کھلاتا، پلاتا اور پہناتا۔(مسلم)
معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کی ضروریات کو بلا تفریق مسلک وملت پورا کرنا چاہئے ، یہ نہ صرف ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ ہماری عبادات کا حصہ بھی ہے، اگر ایسا نہ کیا تو کل قیامت میں ہماری بازپرس ہوگی، اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے فیض سے یکساں طور پرسب کو سیراب کریں اور جنت کے حصول کی کوشش کریں۔

عبدالرب، جامعہ ملیہ اسلامیہ

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

اسلام میں تزکیہ نفس کا تصور

سید سالار پٹیل ۔ پرلی دنیا میں ہر انسان فرداً فرداً اللہ ...