Home / شعرو نغم / اعتراف حقیقت
Click Here to Read More

اعتراف حقیقت

(حالات حاضرہ کے تناظر میں)

میں مسلمان ہو ں اور فخر سے یہ کہتا ہوں
تیرے سینے میں ہمیشہ سے مگر رہتا ہوں
فکرصالح ہے میری، عزم جواں ہے میرا
ہر بلا ، ظلم وستم، ہنس کے مگر سہتا ہوں

ہوں تو کمزور مصائب سے نہیں ڈرتا ہوں
کلمۂ حق کو سرِدار مگر کہتا ہوں
اپنی غلطی پہ نظر مجھ کو بچالیتی ہے
نقش کچھ اور ابھرتا ہے جہاں مٹتا ہوں

جو بھی روکے گا مجھے آپ ہی بہہ جائے گا
میں وہ دریا ہوں جو خود راہ بنالیتا ہے
میری آنکھوں میں چمک اور بھی بڑھ جاتی ہے
تجھ کو سر کرنے کا جب بیڑا اٹھا لیتا ہوں

موت سے مجھ کو ڈراتے ہیں زمانے والے
موت کیا میرے ارادوں کو بدل سکتی ہے؟
عزم وہمت سے پلٹ سکتی ہے کایا لیکن
حسن تدبیر سے کیا موت بھی ٹل سکتی ہے؟

میں نے دیکھا ہے ہواؤں کے بدلتے رخ کو
زندگی ان کے مطابق تو نہیں چل سکتی
مجھ کو سایے کی تمنا ہے مگر تیز یہ دھوپ
وقت مکتوب سے پہلے تو نہیں ڈھل سکتی

میرا گھربار جلاتے ہو بڑے جوش کے ساتھ
تم سمجھتے ہو کہ میں ڈر کے بہک جاؤں گا
مشکلیں اور بڑھاؤ کہ جواں ہوجاؤں
قطرہ قطرہ ترے ماتھے سے ٹپک جاؤں گا
تم بھی انسان ہو کچھ درد تو محسوس کرو
ذہن حساس کے حامل ہو بتاسکتے ہو
اتنی نفرت ہے مرے نام سے کیوں، کچھ تو کہو
اپنے سینے کے مجھے زخم دکھاسکتے ہو

اپنے احباب سے پوچھو، وہ بتائیں گے تمہیں
آئینہ حرف حقیقت کا دکھائیں گے تمہیں
وادئ مرگ میں کیوں چھپ کے میاں بیٹھے ہو
گھر چلے آؤ سبھی پیار جتائیں گے تمہیں

عدل وانصاف کی دنیا میں سنور کردیکھو
منتظر راہ محبت ہے گزر کر دیکھو
پیاروالفت کی کہانی کو بھلامت دینا
صرف گھر میں ہی نہیں چین، سفر کر دیکھو

میں مسلمان ہوں کیوں فرق تمہیں پڑتا ہے؟
کیا کسی ماں کی محبت میں کمی آئے گی؟
لکۂ ابر میں بجلی نہیں کوندے گی کبھی؟
صبح امید کی آنکھوں میں نمی آئے گی؟

برف کو آگ سے تعبیر کیا جائے گا؟
نفس امارہ کو تحریر کیا جائے گا؟
ظلم کو پیار، عداوت کو صداقت کہہ کر
نشہ کبر کو تصویر کیا جائے گا؟

صبح کے وقت چراغوں کو جلانا ہوگا؟
رات میں چاند کے دیپک کو بجھانا ہوگا؟
موسم گل کو خزاں کہہ کے خوشی ہوگی تمہیں؟
اپنی طاقت کو فقط یونہی گنوانا ہوگا؟
اوس گرنے سے کلی پھول نہ بن پائے گی؟
بے ثمر ہوگی مگر شاخ تو جھک جائے گی؟
کالے بادل سے کوئی بوند نہیں ٹپکے گی؟
میرے ہونے سے تری سانس کیا رُک جائے گی؟

وقت کو سمجھو ، زمانے کا چلن بھی دیکھو
روح کو پاک کرو، اپنے بدن کو دیکھو
اتنا آسان نہیں حرف دعا بھی کہنا
تم کسی روز سمندر میں اتر کر دیکھو

بہکے بہکے سے سوالات کیا کرتے ہو
ظلم اور جبر کی دنیا میں جیا کرتے ہو
اپنی کہتے ہو تو اوروں کو بھی سننا ہوگا
انگبیں چھوڑ کے بس زہر پیا کرتے ہو

غور کرنے کا ہے یہ وقت سنبھالو خود کو
دیکھو منجھدار میں بڑھ کے نکالو خود کو
آنکھ کو کھولو تو پھر صاف نظر آئے گا
اب بھی فرصت ہے مرے یار جگالو خود کو

میں مسلمان ہوں کیوں تم کو برا لگتا ہے؟
میں نے کب تیری محبت کا کیا ہے انکار؟
تیری قربت ہو کہ چاہت ہو کہ سب عہد وقرار
برملا میں نے حقیقت کا کیا ہے اقرار

تم کو یہ کس نے بتایا کہ ہوں دشمن تیرا؟
میرے ہونے سے ہواؤں میں نہ خنکی ہوگی؟
میں جو مٹ جاؤں گا سکھ چین سے رہ پاؤ گے؟
ایسا سوچو گے اگر یار، تو سبکی ہوگی

میں نے اتنا ہی کہا ہے کہ مسلمان ہوں میں
دین اسلام پہ اللہ پہ قربان ہوں میں
مجھ کو الفت ہے بہت نام محمدؐ سے رفیق
کفروالحاد سے قربت ہو، کیا نادان ہوں میں؟
تیری بربادی کو سوچوں بھی تو میں مرجاؤں
اپنی ہر سانس میں ہاں تجھ کو بسا رکھا ہے
تیری زلفوں کو سنواروں کہ نکھاروں چہرہ
تیرے خوابوں کو بھی پلکوں پہ سجا رکھا ہے

تجھ سے ملتا ہوں تو احساس مجھے ہوتا ہے
خواب جو دیکھا تھا، تعبیر نظر آئی ہے
بزم عالم ہو کہ یا عالم تنہائی ہو
ہر جگہ تیری ہی تصویر نظر آئی ہے

میں مسلمان ہوں بابانگ دہل کہتا ہوں
دین اسلام کو ہر بات کا حل کہتا ہوں
اہل جمہور ہوں یا طرز حکومت ان کی
مجھ سے ناراض نہ ہو، سب کا بدل کہتا ہوں

میرے دشمن ہو تو کیوں رات کے سناٹے میں؟
میرے بچوں سے بڑے پیار سے تم ملتے ہو
ان کو بانہوں میں اٹھاتے ہو تو کھل جاتے ہیں
ان کی انگلی کو پکڑ دور تک چلتے ہو

مجھ سے الفت ہے تمہیں اس کو چھپاتے کیوں ہو؟
بھٹکے راہی کو صحیح راہ دکھاتے کیوں ہو؟
دن کے ہنگامے میں اور رات کے سناٹے میں
میری بربادی پہ پھر سوگ مناتے کیوں ہو؟

آؤ جانیں کہ کہاں ہم سے ہوئی ہے غلطی
ملک اور قوم کی تقدیر سنورجائے گی
اپنی کوشش کے نتیجے میں میاں دیکھو گے
چاندنی پھوٹ کے ہرسمت بکھر جائے گی

محمد امین احسن،
بلریاگنج۔ اعظم گڑھ

Click Here to Read More

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

غزل اس کا کیا آج ہے کردار ذرا پوچھ تو لیں کیوں ...