Home / ایس آئی او / اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او)کی جانب سے خود انحصاری اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے مقصد کے تحت آنٹرپ رینیور شپ سیل کا قیام

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او)کی جانب سے خود انحصاری اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے مقصد کے تحت آنٹرپ رینیور شپ سیل کا قیام

ایک ایسی دنیا میں -جسے عالمی گاوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جہاں ترقی کے نام پر Digitalization کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے -تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے مواقع کی قلت یا کالعدم ہونے کی وجہ سے ذہنی دباو¿ کا شکار ہیں۔چوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تعلیم روزگار کی گارنٹی نہیں دیتی، چنانچہ بہت سے نوجوان طلبہ کچھ مختلف کرنے کیلئے نئے نئے خیالات لے کر آتے ہیں، کیوں کہ ہر انسان کی الگ الگ خصوصیات ہیں۔ چنانچہ ایک ایسا شخص جو محض اپنی کمائی کے لئے ہی نہیں بلکہ اپنے دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور بے روزگار ضرورت مند افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے خطرات مول لیتا ہے، اسے ایک اچھا منتظم یا سرمایہ دار (آنٹر پرینیور،Entrepreneur) کہا جاتا ہے۔

اب تک ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ چھوٹے بسنس مین، سماجی کارکن، سرمایہ کار اور نئے افکار وخیالات کے حامل افراد مل کرکارجوئی مہم کانفرنس (Entrepreneurship Summit) کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی مدد، رہنمائی اور کسب معاش ہو سکے۔ ایس آئی او کی جانب سے ممبئی میں منعقد ہونے والی “Entrepreneurship Summit 2017” طلبہ کی تنظیم کے پلیٹ فارم سے ایک ابتدائی کوشش تھی، اور SIO Entrepreneurship Cell کا قیام اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے۔
ہندوستان کی سب سے بڑی تنظیم ہونے کے لحاظ سے ایس آئی او نے نوجوان طلبہ اور نوجوان طبقہ کو اس عزم وحوصلہ سے پُر کرنے کی پالیسی بنائی ہے کہ مواقع کی عدم موجودگی کی صورت میں مواقع خود پیدا کئے جائیں، اور اپنی پالیسی کا جملہ کچھ اس طرح ترتیب دیا ہے کہ ”ایس آئی او اپنے تنظیمی ڈھانچہ اور قوم میں اس کارجوئی مہم کو بڑھاوا دے گی“۔Entrepreneurshipکسی اقدام کو وجود بخشنے اور اسکے ارتقاءکی حوصلہ افزائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر ابھرتی ہوئی ترقی کی جدید کوششوں کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔ یہ آزادی، خود مختاری، محنت اور خطرات اٹھانے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ ایک سرمایہ دار منتظم نہ صرف خودپر منحصر ہوتا ہے بلکہ دوسروں کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ پیغمبر محمد ﷺ نے بھی اپنے صحابہ کو اس طرح کی منتظمانہ صلاحیت کے استعمال پر ابھارا تھا۔ تعلیم یافتہ نوجوان اور مختلف ماہرین فنون محض ملازمت کرنے کے بجائے اگر جدید اور تخلیقی اقدامات کریں تو اس کے مندرجہ ذیل فوائدسامنے آئیںگے: ۱۔خود انحصاری ، ۲۔دوسروں کے لئے روزگار کے مواقع کی فراہمی، ۳۔قوم کی مالی صورتحال میں بہتری اور ارتقائ۔ اس طرح کے اقدامات کرنے والے نوجوانوں کا معاشرہ پر بہت دور رس اثر پڑے گا، اور وہ قدرے بڑی سطح پر معاشرہ کی تعمیر نو میں مدد گار ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ وسائل کی فراہمی بھی کر سکتے ہیں۔ حکومت اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں (جو کہ وسائل کی فراہمی کے ساتھ ہی مختلف افکار وخیالات کی طرف نشاندہی بھی کرتی ہیں) کی مختلف اسکیموں کا بھی خاطر خواہ فائدہ اٹھانا چاہئے ۔

دو روزہ کانفرنس میں زیر بحث آنے والے متعدد پہلو درج ذیل ہیں: منتظمانہ رویہ-مقاصد اور عملیاتی نمونہ: ایک اسلامی تناظر میں، پیغمبر محمد ﷺ کا Entrepreneurship کے سلسلہ میں نقطہ نظر، قابل عمل اقدامات اور درپیش مشکلات،ترقی افکار کیلئے رہنمائی، رابطہ پیدا کرنے والی باتوں کی طاقت، ڈیجٹل دنیا میں نسلوں کو فتح کرنا، کسی اقدام کے انتخاب کا غیر مذکور راز، تعلیمی فضا میں منتظمانہ افکار کا انعقاد، ایک بانی جیسی زندگی، ہندوستان میں اقدامات کو درپیش چیلنجز، خیالات و افکار اور معلومات کا تبادلہ، ایک ایسا اقدام جس میں اقدامی کھیل میں پوری مہارت ہو، ہندوستان میں اقدامات اور شعبہ سرمایہ داری کی ارتقاءاور ان کے استحکام کیلئے حکومتی پالیسیاں۔

خواہشمند سرمایہ داروں سے ہمکلام ہونے اور بات چیت کرنے کیلئے مندرجہ ذیل ماہرین کانفرنس میں موجود تھے: جناب رحمان انصاری(ٹیکسٹائل انڈسٹری)، حمزہ علی(قانونی جواز)، جناب انیس محمد (امپورٹ ایکسپورٹ)، جناب جعفر متین (ماہر تعلیم)، جناب مجتبی فاروق صاحب(مالک ایشیا ایکسپریس)، ڈاکٹر توصیف ملک(سماجی سرمایہ دار، منتظم)، ڈاکٹر شارق نثار (ماہر اسلامی فائنانس)، جناب حاجی عبد الرقیب صاحب(جنرل سکریٹری، آئی ایف آئی سی)، جناب مرزا افضل بیگ (سی ای او، Lithotech Engineers)، جناب اشفاق عالم(ایگزیکٹیو ممبر، رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری)، جناب سمیر (چارٹرڈ اکاونٹنٹ)، جناب ملک عبدالسلام (مالک، ملک ڈیٹا سسٹم)، اور جناب لئیق احمد(سی اے سی ممبر، ایس آئی او، انڈیا)۔ مندوبین میں ملک کے مختلف صوبوں کے طلبہ، سرمایہ داران اور دیگر خواہشمند سرمایہ داران بھی تھے، جنھوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔

مستقبل کی عملی تدابیر کیلئے اور مندرجہ بالا مقاصد کے حصول کیلئے ایک رابطہ کی تعمیر کے مقصد کے تحت کانفرنس کے اختتام سے قبل SIO Entrepreneurship Cell کا قیام عمل میں آیا۔جناب خلیق احمد (جنرل سکریٹری، ایس آئی او، انڈیا) نے کانفرنس کی صدارت کی، اس موقع پر جناب جسیم پی پی (قومی سکریٹری، ایس آئی او، انڈیا)، سلمان محمد(صدر، ایس آئی او، جنوبی مہاراشٹر)، شاہد محمد(صدر، ایس آئی او، راجستھان) ، ابرار علی سید ( اسسٹنٹ پروفیسر ، احمدآباد یونیورسٹی) اور کانفرنس کے کنوینر جناب سید اظہرالدین موجود تھے۔

کانفرنس کا مالی تعاون کرنے والوں میں Rifah Chamber of Commerce and Industry, Standard Touch Solutions, qsaudi.com, Lithotech Engineers, Malik Data Systems, Seahath Canning Company, Scholars Group of Schools, All India Muslim Business and Startup Network, Association of Muslim Entrepreneurs, اور Indian Centre for Islamic Finance شامل تھے۔ آفیشیل میڈیا شراکت دار The Companion, Chatr Vimarsh, Rafeeq e Manzil, India Tomorrow اور Asia Expressتھے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

جمہوریت کے علمبرداروں کو جامعہ میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کی حمایت کرنی چاہئے :ایس آئی او

نئی دہلی (2 نومبر، 2017): جو لوگ جمہوریت کے علمبردار ہیں اور ...