بنیادی صفحہ / سخن / احلام تمنا

احلام تمنا

ذیل میں جناب محمد امین احسن صاحب، بلریاگنج۔ اعظم گڑھ کی نظم پیش ہے جو موصوف نے اپنے بھتیجے ڈاکٹر عطاء الرحمن انور کی نذر کی ہے، لیکن فی الواقع یہ امت اسلامیہ کے تمام ہی نوجوانوں کے لیے اپنے اندر ایک پیغام اور تحریک رکھتی ہے۔ ادارہ)

میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں سر بلند رہو
جنوں کے سائے میں ہر وقت ہوش مند رہو
نجوم وشمس وقمر، بحر بیکراں کی طرح
ہر ایک شئی کے لئے حرفِ سود مند رہو

دیارِ حسن کی مجبوریاں کہاں کچھ بھی
نگاہِ یار کے مشتاق ارجمند رہو
زمانہ چاہے گا دل سے کہ تم بھٹک جاؤ
اصولِ نظمِ عناصر پہ کار بند رہو

کچھ اس طرح سے زمانے کو تم بدل ڈالو
غرور وکبر کو پیروں تلے کچل ڈالو
ہوئی ہے جس سے محبت گلی گلی بدنام
وہ پھول اپنے ہی ہاتھوں سے تم مسل ڈالو

تمہی ہو نازشِ طفلاں، تمہی ہو نازِ کبار
تمہی ہو روح گلستاں، تمہی ہو جانِ بہار
تمہی سے عزتِ دارورسن رہی محفوظ
تمہی ہو اہل محبت، تمہی ہو اہل عیار

خلا میں خوب ہواؤں سے بات کرتے رہو
بلند بام پہاڑوں پہ خوب چڑھتے رہو
زمیں کے حسنِ تقدس کی آبرو بن کر
سمندروں کی تہوں میں بھی تم اترتے رہو

عدو شہر ہو یا شہرِ یار کیا کرنا
گمان گزیدہ اگر ہے بہار کیا کرنا
اگر یقین ہے مقصد کی صالحیت پر
ملے ہے جیت بڑی یا کہ ہار کیا کرنا

کلی کھلی ہے کھلے گی، چمن بھی مہکے گا
کہیں ہو بلبلِ نغمہ سرا، وہ چہکے گا
خرد جمود وتعطل کی بار گاہ میں ہے
جنوں جنوں ہے مری جان، وہ تو بہکے گا

ہوئے ہو میر تو اوروں کو بھی بلاتے چلو
شہیدِ راہِ محبت کے گُر سکھاتے چلو
بھٹک نہ جائے کہیں کارواں کا فرد کوئی
قدم ہو تیز، حُدی کی بھی لے بڑھاتے چلو

سفر میں ہو تو نقاہت کی بات کیا کرنا
شجاع ہو تو کرامت کی بات کیا کرنا
دل ودماغ کی سرحد کو پار کرنا ہے
کھلا ہے در تو بغاوت کی بات کیا کرنا

لگے گی چوٹ بہت پھر بھی مسکراتے رہو
ہر ایک گام پہ دیپک نیا جلاتے رہو
جھلک زمانے نے دیکھی ہے باربار تری
پیامِ امن ہے سب کے لئے سناتے رہو

جو تم نہیں تو کوئی اور ایسا آئے گا
نئی امنگ نیا جوش ساتھ لائے گا
خطا کرے گا ندامت میں ڈوب جائے گا
بڑی ادا سے بہاروں کے گیت گائے گا

ہر ایک سمت سے آواز آرہی ہوگی
تمہارے ساتھ ہیں ہم بھی قدم بڑھاتے رہو
نہ آگہی نہ جنوں، مصلحت نہ کارِ عبث
ہر ایک نقش کہن ظلم کے مٹاتے رہو

بڑا ہے کام تو پھر امتحاں کڑا ہوا
جنوں خرد کی اطاعت میں خود کھڑا ہوگا
کچھ اس طرح سے حقیقت کو آشکار کرو
ہر ایک فرد ترے نام سے جڑا ہوگا

عدوِجاں ہی سہی، احترام لازم ہے
ثبات وصبر کا بھی التزام لازم ہے
فلاح وفوز کے منظر کو دیکھنے کے لئے
یقین پختہ، عمل، انصرام لازم ہے

خلوص دل سے محبت کی ابتدا کرنا
کیا ہے وعدہ اگر، وعدے کو وفا کرنا
جلوئے یار میں یا دشمنوں کے نرغے میں
حضور خالق آدم میں تم دعا کرنا

تعارف: admin

ایک تبصرہ

  1. Very beatiful and vivid. Allah kare jazba-e-shauq aur zyada !!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

غزل

حق بات جب سے سب کو سنانے میں لگ گیا سارا جہان ...